logo logo
AI Search

مٹن چستہ کھانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا مٹن چستہ (Mutton chusta) کھانا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مٹن چستہ (Mutton chusta) کھانا جائز ہے؟

جواب

مٹن چستہ (Mutton chusta) دراصل بکرے کے نظامِ ہضم (Digestive System) یعنی بڑی آنت (Large Intestine) کاآخری تیسرا حصہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس میں اضافی چربی یا قیمہ / گوشت بھر کر تیار کیا جاتا ہے۔

مٹن چستہ (Mutton chusta) کھانا جائزنہیں ہے، کیونکہ یہ جانور کی آنت کا حصہ ہے۔ اور حلال جانور کی آنتیں کھانا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ آنتیں جانور کی نجاست و گندگی جمع ہونے کی جگہ ہے، لہذا جس طرح حدیث پاک میں مثانے کو مکروہ قرار دیا گیا کہ یہ پیشاپ جیسی گندی چیز جمع ہونے کی جگہ ہے، اسی علت کی بنیاد پر آنتیں بھی مکروہ ہوں گی کہ یہ بھی گندگی و نجاست جمع ہونے کی جگہ ہے۔ اور ایسی چیزعند الشرع خبیث شمار ہوتی ہے کہ نفیس طبیعت اس سے گھن کھاتی ہے۔ اورقرآن وحدیث اور فقہاء کرام کے اقوال کی تصریحات کے مطابق خبیث اشیاء کھانا جائز نہیں۔

مسئلہ سے متعلق حوالہ جات درج ذیل ہیں:

چستہ بڑی آنت (Large Intestine) کا حصہ ہوتا ہے۔ جیساکہ فیروز اللغات میں ہے: چُستہ (چُس-تَہ): بڑی آنت کا آخری تیسرا حصہ۔ (فیروز اللغات، صفحہ 527، مطبوعہ فیروز سنز، لاہور)

خبیث چیزوں کی حرمت قرآن پاک سے ثابت ہے۔ جیساکہ رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے

وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ

ترجمہ کنز العرفان: اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں۔ (القرآن الکریم، پارہ 09، سورۃ الاعراف، آیت: 157)

حدیث پاک میں مثانے کو مکروہ قرار دیا گیا ۔چنانچہ مصنف عبدالرزاق، السنن الکبری للبیھقی،المھذب فی اختصار الکبیر وغیرہ کتب حدیث میں ہے:

و اللفظ للاول  عن مجاهد قال: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  يكره من الشاة سبعا: الدم، و الحيا، و الأنثيين، و الغدة، و الذكر، و المثانة، و المرارة، و كان يستحب من الشاة مقدمها

یعنی: حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے سات حصوں کو ناپسند فرماتے تھےخون، حیا (مادہ جانور کی شرم گاہ)، خصیتین، غدود، ذکر(نر جانور کا عضو تناسل)، مثانہ اور پِتّا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے اگلے حصے (دستی کے گوشت) کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 4، صفحہ 535، حدیث: 8771، مطبوعہ توزیع المکتب الاسلامی،بیروت)

شرح مختصر الكرخی للقدوری ميں ہے:

قال أبو حنيفة: الدم حرام، و أكره الميتة؛ وذلك لقوله تعالى:﴿حرمت عليكم الميتة و الدم﴾ [المائدة: ٣]، فلما تناول النص الدم، قطع بتحريمه وكره ما سواه؛ لأنه مما تستخبثه الأنفس و تكرهه، و هذا المعنى سبب الكراهية؛ لقوله تعالى: ويحرم عليهم الخبائث[الأعراف: ١٥٧]

یعنی: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خون حرام ہے، اور میں مردار (کے بعض اجزاء) کو مکروہ سمجھتا ہوں؛ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:(تم پر مردار اور خون حرام کیے گئے ہیں) (المائدہ: 3)۔ چونکہ نصِ قرآنی نے خون کو صراحتاً بیان کیا ہے، اس لیے اس کی حرمت قطعی ہے، اور اس کے علاوہ جو چیزیں اس کے تحت آتی ہیں، ان کو مکروہ قرار دیا گیا؛ کیونکہ وہ ایسی (خبیث) چیزیں ہیں جنہیں انسانی فطرت ناپسند کرتی اور گھن کھاتی ہے۔ اور یہی معنی (یعنی طبعی کراہت) ناپسندیدگی کی وجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں) (الأعراف: 157)۔ (شرح مختصر الکرخی للقدوری، جلد 6، صفحہ 299، مطبوعہ دار اسفار، کویت)

در مختار میں ہے:

و الخبيث ما تستخبثه الطباع السليمة

یعنی: اور خبیث وہ چیز ہے جسے صحیح طبائع ناپسند کرتی ہیں۔ (در مختار، جلد 6، صفحہ 305، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اس کے تحت رد المحتار میں ہے:

(قوله: و الخبيث إلخ) قال في معراج الدراية: أجمع العلماء على أن المستخبثات حرام بالنص و هو قوله تعالى: وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ

یعنی: مصنف کا قول و الخبيث إلخ معراج الدرایہ میں فرمایاکہ: تمام علماء کا اجماع ہے کہ خبیث چیزیں نص قرآنی

وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ

کی وجہ سے حرام ہیں۔ (رد المحتار، جلد 6، صفحہ 305، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ملتقطا)

اور حلال جانور کی آنتیں کھانا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ آنتیں جانور کی نجاست و گندگی جمع ہونے کی جگہ ہے۔ جیساکہ سیدی اعلی حضرت، امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: آنت کھانے کی چیز نہیں پھینک دینے کی چیز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 457، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر، امام اہل سنت تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اہل علم پر مُستتر (پوشیدہ) نہیں کہ استدلال بالفحوی (مفہوم سے دلیل لینا) یا اجرائے علتِ منصوصہ (شریعت میں بیان کردہ علت کو دوسری جگہ لاگو کرنا) خاصہ مجتہد (صرف مجتہد کا اختیار) نہیں،

کما نص عليه العلامة الطحطاوى تبعاً لمن تقدمه من الأعلام -

اور یہاں خود امام مذہب (امام ابو حنیفہ) رضی اللہ عنہ نے اشیاءِ ستہ (حدیث میں بیان کردہ چھ مکر وہ چیزوں) کی علتِ کراہت پر نص فرمائی (یعنی مکروہ ہونے کی وجہ خود یہ بیان فرمائی) کہ خباثت (گندگی و نا پسندیدگی) ہے۔ اب فقیر، متوكلاً على الله تعالى ( اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے)، کوئی محل شک (شک کی جگہ) نہیں جانتا کہ۔۔۔ کرش یعنی اوجھڑی ، امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکمِ کراہت میں داخل ہیں۔ بیشک۔۔۔ کرش (اوجھڑی) و امعاء (آنتیں) مثانہ سے اگر خباثت (گندگی) میں زائد (زیادہ) نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔۔۔۔ مثانہ اگر معدن بول (پیشاب ٹھہرنے کی جگہ) ہے، شکنبہ و روده مخزن فرث ہے ( یعنی اوجھڑی اور آنتیں گوبر جمع ہونے کی جگہیں ہیں) اب چاہے اسے دلالۃ النص (نص کی دلالت / اشارہ) سمجھئے، خواہ اجرائے علتِ منصوصہ (شریعت کی بیان کردہ وجہ کو دوسری جگہ لاگو کرنا)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 238 تا 239، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی جلال الدین امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے سوال کیا گیا کہ اوجھڑی اور آنتیں کھانا درست ہے یا نہیں تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا اوجھڑی اور آنتیں کھانا درست نہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ یُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خبائث یعنی گندی چیز یں حرام فرمائیں گے اور خباثت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے سلیم الطبع لوگ گھن کریں اور انہیں گندی جانیں۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 379، مطبوعہ اکبر بک سیلرز، لاھور)

علماء نےآنتوں کی کراہت جلالہ جانور کے گوشت کی کراہت کے مثل بھی قرار دی ہے چنانچہ فتاوی امجدیہ میں مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: آنتیں مکروہ تحریمی ہیں اور علت وہی ہے جو لحمِ جلالہ کی حرمت میں ہے۔ حدیث میں ہے:

نھی رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن أكل الجلالة و ألبانها -

غليظ خوار (گندگی کھانے والے) جانور کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا۔ اور آنتیں خود معدن نجاست ہیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 299، مطبوعہ دار العلوم امجدیہ، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0453
تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1447ھ / 07جنوری2026ء