دوستوں کے اصرار پر چوری کا کھانا کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوسروں کے اصرار پر چوری کیا ہوا مال کھانے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے دوست مارکیٹ کے اندر کام کرتے ہیں، اور وہاں سے بغیر پیسے دیے، کھانے پینے کاکچھ سامان چپکے سے اٹھا لاتے ہیں، اور وہ کھانے پینے کی چیزیں ہم لوگوں کو دیتے ہیں، میرے کتنے ہی منع کرنے پر بھی نہیں مانتے، اور زبردستی مجھے بھی اس کھانے میں شامل کر لیتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ: کیا وہ کھانا میرے لیے جائز و حلال ہوگا؟
جواب
جب آپ کو معلوم ہے کہ جو کھانا کھانے کے لئے آپ کو دیا جا رہا ہے، بعینہ چوری کیا ہوا ہے، تو اس کا کھانا، ناجائز و حرام ہے، لہذا آپ اس کو نہیں کھا سکتے، خواہ آپ کے دوست وہ کھانا کھانے پر کتنا ہی اصرار کریں۔
نوٹ: چوری کے مال کاحکم یہ ہے کہ کو مالک تک پہنچانا لازم ہے، جتنا مال کھایا، تلف کیا، اس کا تاوان ادا کرنا بھی لازم ہے۔ امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ: کوئی شخص چوری میں مشہور ہے لیکن لوگوں کو کھلاتا ہے یہ کھانا کیسا ہے؟ تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا: چوری کا مال خود کهانا بھی حرام اور دوسروں کو کھلانا بھی حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 587، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی ہندیہ میں ہے
و هل يضمن السرقة؟ إن كان استهلكها يضمن، و إن كانت قائمة ردها على المسروق منه
ترجمہ: اور کیا چوری کی گئی چیز کا تاوان دے گا؟ اگر اس نے وہ چیزہلاک کردی ہو، تو اس کا تاوان دے گا، اور اگر وہ چیز موجود ہو، تو جس کی چوری کی ہے، اس تک پہنچائے گا۔ (فتاوی ہندیہ، ج 03، ص 429، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4798
تاریخ اجراء: 12 رمضان المبارک 1447ھ / 02مارچ 2026ء