عورت کا عورت کی آواز میں بغیر میوزک کے گانا سننا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا عورت کی آواز میں بغیر میوزک کے گانا سننے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت، عورت کی آواز میں بغیر میوزک کے گانا سُن سکتی ہے؟
جواب
عمومی طور پر گانے میں پڑھے جانے والے اشعار، عشقیہ و فسقیہ ہوتے ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں کفریہ بھی ہوتے ہیں، لہذا اِس طرح کے اشعار اگرچہ میوزک کے بغیر ہوں، اور کسی کی بھی آواز میں ہوں، ایسے اشعار کسی کو سننے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ اِسی طرح اگر وہ اشعار عشقیہ و فسقیہ نہ ہوں، اور مذکورہ شرعی خرابیوں سے بھی پاک ہوں، تو بھی اُنہیں لہو ولعب کے طور پر پڑھنے و سننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے "سماع مجرد بے مزامیر، اس کی چند صورتیں ہیں: اول: رنڈیوں، ڈومنیوں، محل فتنہ امردوں کا گانا۔ دوم: جو چیز گائی جائے معصیت پر مشتمل ہو، مثلا فحش یا کذب یا کسی مسلمان یا ذمی کی ہجو یا شراب و زنا وغیرہ فسقیات کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ امرد کی بالیقین تعریف حسن یا کسی معین عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے اقارب احبا کو حیا و عار آئے۔ سوم: بطور لہو و لعب سنا جائے اگرچہ اس میں کوئی ذکر مذموم نہ ہو۔ تینوں صورتیں ممنوع ہیں، الاخیرتان ذاتا والاولی ذریعۃ حقیقۃ (آخری دو بلحاظ ذات اور پہلی درحقیقت بلحاظ ذریعہ) ایسا ہی گانا لہو الحدیث ہے، اس کی تحریم میں اور کچھ نہ ہو تو صرف حدیث: کل لعب ابن اٰدم حرام الا ثلثۃ (ابن آدم کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے۔) کافی ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 83، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4847
تاریخ اجراء: 28 رمضان المبارک 1447ھ/18 مارچ 2026 ء