سائیڈوں سے بڑی مونچھیں رکھ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سائیڈوں سے بڑی مونچھیں رکھنے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
بڑی مونچھیں رکھنا کیسا ہے؟ اسی طرح کسی کی مونچھیں سائیڈوں سے بڑی ہیں، اور ہونٹوں پہ نہیں ہیں، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
مونچھیں اتنی بڑی رکھنا کہ منہ میں آئیں، یہ حرام و گناہ ہے، اور یہ مشرکین، مجوسیوں، یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے، اور سنت یہ ہے کہ مونچھوں کو اتنا پست کرے، کہ بھنووں کی طرح ہو جائیں، یعنی اوپر والے ہونٹ کے اوپری کنارے سے نیچے نہ لٹکیں۔
البتہ ! اگر صرف مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے ہوں، اور اوپر سے پست ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، کہ بعض اسلاف سے اسی طرح کی مونچھیں رکھنا ثابت ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جزوا الشوارب و ارخوا اللحی۔ خالفوا المجوس“
ترجمہ: مونچھیں کترو، اور داڑھیاں چھوڑو، اور مجوس کی مخالفت کرو۔ (صحیح مسلم، صفحہ 115، حدیث: 260، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من لم یأخذ من شاربہ فلیس منا“
ترجمہ: جو شخص اپنی مونچھ میں سے نہ لے (یعنی اپنی مونچھیں نہ ترشوائے) تو وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے کے خلاف ہے )۔ (سنن الترمذي، صفحہ 1014، حدیث: 2761، دارِ ابن کثیر)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”مونچھیں اتنی بڑھانا کہ منہ میں آئیں، حرام و گناہ و سنتِ مشرکین و مجوس و یہود و نصارٰی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 684، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”ویاخذ من شاربہ حتی یصیر مثل الحاجب کذا فی الغیاثیۃ، وکان بعض السلف یترک سبالیہ و ھما اطراف الشوارب کذا فی الغرائب، ذکر الطحاوی فی شرح الآثار ان قص الشارب حسن و تقصیرہ ان یؤخذ حتی ینقص من الاطار و ھو الطرف الاعلی من الشفۃ العلیا"
ترجمہ: اور وہ اپنی مونچھ میں سے لے (یعنی مونچھ کتروائے) یہاں تک کہ وہ ابرو کی مثل ہو جائے، ایسا ہی غیاثیہ میں ہے۔ اور بعض سلف اپنی مونچھوں کے کنارے چھوڑ دیتے تھے، ایسے ہی غرائب میں ہے۔ شرح الآثار میں امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ذکر کیا ہے: بے شک مونچھ کو کتروانا اچھا ہے اور اس کو کتروانے کی صورت یہ ہے، کہ وہ اتنی کتروادے، کہ وہ اوطار سے کم ہوجائے اور اوطار اوپر والے ہونٹ کا اوپری کنارا (بالائی حصہ) ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر في الختان، جلد 5، صفحہ 358، مطبوعہ: کوئٹہ)
ردالمحتارمیں ہے
”والقص منہ حتی یوازی الحرف الاعلی من الشفۃ العلیا سنۃ بالاجماع“
ترجمہ: اور مونچھ کو کتروانا یہاں تک کہ وہ اوپر والے ہونٹ کے اوپری کنارے کے برابر ہو جائے، بالاجماع سنت ہے۔ “ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 671، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”مونچھوں کو کم کرنا سنت ہے اتنی کم کرے کہ ابرو کی مثل ہو جائیں یعنی اتنی کم ہوں کہ اوپر والے ہونٹ کے بالائی حصہ سے نہ لٹکیں اور ایک روایت میں مونڈانا آیا ہے۔ اور مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے بڑے ہوں تو حرج نہیں بعض سلف کی مونچھیں اس قسم کی تھیں۔“ (بہارشریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 585، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4810
تاریخ اجراء: 15 رمضان المبارک 1447ھ/ 05 مارچ 2026ء