logo logo
AI Search

منک کے بالوں سے بنی پلکیں لگانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

MINK HAIR سے بنی پلکیں (EYELASHES) استعمال کرنا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا Mink کے بالوں سے بنی پلکیں (Eye Lashes) لگانا، جائز ہے؟

جواب

Mink، ایک جانور ہے جسے عربی میں خَز کہتے ہیں، اس کے بالوں سے بنائی گئی پلکیں عارضی طور پر لگانا عورتوں کیلئے جائز ہے، کیونکہ خنزیر کے علاوہ ہر جاندار کے بال مطلقاً پاک ہوتے ہیں۔ اور ہر پاک چیز کا بیرونی (External) استعمال شرعا جائز ہوتا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے! کہ ایسی پلکیں مستقل طور پر (Permanent) لگانے کی اجازت نہیں، اور اسی طرح وضو و غسل کرنے کے لئے ان پلکوں کا اتارنا بھی ضروری ہوگا، کیونکہ اس طرح کی پلکیں عموماً گوند وغیرہ کے ذریعے اصلی پلکوں کے ساتھ چپکا دی جاتی ہیں اور انہیں اتارے بغیر اصلی پلکوں کو دھونا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ وضو و غسل میں اصلی پلکوں کا ہر بال دھونا ضروری ہوتا ہے۔ ہاں! یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ پہلے وضو یا غسل کرلیا جائے اور اس کے بعد ان پلکوں کو لگا کر نماز پڑھ لی جائے۔

مسئلہ سے متعلق حوالہ جات درج ذیل ہیں:

خنزیر کے علاوہ ہر جاندار کے بال پاک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ تحفۃ الفقہاء، بدائع الصنائع، بغیۃ المقتصد شرح بدایۃ المجتھد وغیرہ کتب فقہ میں ہے:

و اللفظ للتحفۃ الفقہاء و أما الأجزاء التي ليس فيها دم ففي غير الآدمي و الخنزير من الحيوانات ينظر إن كانت صلبة مثل الشعر و الصوف و الريش و القرن و العظم و السن و الحافر۔۔۔ فليست بنجسة بلا خلاف بين أصحابنا ملتقطاً

یعنی: اور وہ اجزاء جن میں خون نہیں ہوتا، تو انسان اور خنزیر کے علاوہ دیگر جانوروں میں دیکھا جائے گا: اگر وہ سخت (ٹھوس) ہوں جیسے بال، اون، پر، سینگ، ہڈی، دانت، کُھروغیرہ تو ہمارے اصحاب کے نزدیک بلا اختلاف وہ ناپاک نہیں ہیں۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 51، 52، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کے بالوں سے بنی مصنوعی پلکیں لگانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ جیساکہ ردالمحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

لا بأس للمرأۃ ان تجعل فی قرونھا و ذوائبھا شیئا من الوبر

یعنی: عورت کو اپنے گیسوؤں اور چوٹیوں میں) اونٹ یا خرگوش وغیرہ (کے نرم بال لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 6، صفحہ 373، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

ہر پاک چیز کا بیرونی (External) استعمال شرعا جائز ہوتا ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت، الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: شراب حرام بھی ہے اور نجس بھی، اس کا خارج بدن پر بھی لگانا، جائز نہیں اور افیون حرام ہے، نجس نہیں، خارج بدن پر اس کا استعمال جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 198، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: افیون نشہ کی حدتک کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج، مثلاً ضمادو طلاء میں استعمال کرنا یا خوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتک نہ پہنچے، تو جائز ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 574، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وضو و غسل میں اصلی پلکوں کا ہر بال دھونا ضروری ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں امام اہلسنت ضروریاتِ وضوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پلک کا ہر بال پو را (دھونا ضروری ہے)۔ بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سخت ہو کر جم جاتا ہے کہ اس کے نیچے پانی نہیں بہتا، اس کا چھڑانا ضرور ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 1، صفحہ 598، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0471
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1447 ھ / 18فروری 2026ء