میٹ فلیور والی چیزیں کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نان مسلم اسٹورز پر دستیاب، میٹ فلیورز والی پروڈکٹس کا استعمال کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کھانے کی بعض چیزیں خریدیں، تو اس پر لکھا ہوتا ہے کہ اس میں Meat Flavour شامل ہے۔ کیا ایسی چیزیں ہمارے لئے کھانا جائز ہے؟ جبکہ ہمیں یقینی معلوم نہیں کہ اندر گوشت کا کوئی جُزء (Part) شامل کیا جاتاہے یا نہیں۔ میری بہن کہتی ہیں اندر گوشت شامل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں صرف گوشت کا Flavour ذائقہ آتا ہے۔ براہ کرم اس کی شرعی رہنمائی عطا فرمادیں۔ شکریہ
جواب
Meat Flavour کو تیار کرنے میں دو طریقے اپنائے جاتے ہیں:
(1) مصنوعی طریقہ کار: Meat Flavour کو اگر آرٹیفیشل طریقے، مثلا سبزیوں، پھلوں اور پودوں وغیرہ (پلانٹ بیسڈ اجزاء) سے (Synthetically) تیار کیا گیا ہو، تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ شرعی اصول یہ ہے کہ زمین سے اُگنے والی تمام اشیاء، مثلا: پھل، سبزیاں اور پودے وغیرہ اپنی اصل کے اعتبار سے مباح (جائز و حلال) ہیں۔ جبکہ ان کا استعمال ضرر و نقصان (Harmful) کی حد سے کم ہو اور نشہ (intoxication) کیلئے نہ ہو۔
(02) بعض برینڈز Meat Flavour کو تیار کرنے میں اصل گوشت کو Dehydrate کرکے شامل کرتے ہیں۔ ایسا فلیور جو اصل گوشت سے تیار کیا گیا ہوتو پھر اسے استعمال کرنے کیلئے اس گوشت کےحلال ہونے کی یقین دہانی (Confirmation) ضروری ہے۔ ورنہ اس طرح کے فلیور والی چیز کا استعمال کرنا جائز نہ ہوگا، کیونکہ ماکول اللحم جانور میں جب تک شرعی ذبح ثابت (معلوم و متحقق) نہ ہو تب تک اس کا استعمال حرام ہے۔
البتہ اگر پروڈکٹ کے لیبل پر فلیور کے ماخذ کی وضاحت موجود نہ ہو، اور نہ یہ پتا چل سکے کہ اسے آرٹیفیشل طریقے سے بنایا گیا ہے یا اصل گوشت کے ذریعے؟ تو پھر فتوے کی رُو سے ایسی چیز کا استعمال جائز ہوتا ہے اور اسے استعمال کرنے والا گنہگار نہیں کہلائےگا۔ کیونکہ جب کوئی پروڈکٹ حلال و حرام دونوں طرح کی اشیاءسے بنتی ہو اور اس میں معلوم نہ ہو کہ آیا یہ خاص پروڈکٹ حلال چیز سے بنی ہے یا حرام سے؟ تو عند الشرع اس کے حلال ہونے کا حکم دیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں طہارت (پاک ہونا) و حلت (جائز و حلال ہونا) اصل ہے، اس لیے جب تک شے میں کسی حرام چیز کی شمولیت کا یقینی علم نہ ہو، اس وقت تک اس شےکے حرام ہونےکا حکم نہیں ہوتا۔ نیز ایسے معاملات میں بغیر دلیل و قرینہ کے پیدا ہونے والے شک و گمان کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
تاہم! پھر بھی احتیاط یہ ہے کہ براہِ راست کمپنی یا مینوفیکچرر سے فلیور کے آرٹیفیشل یا اصل گوشت کے اجزاء سے تیار ہونے کے متعلق تصدیق حاصل کرلی جائے۔
نوٹ: بعض علامات کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی بھی پروڈکٹ میں موجود فلیور، آرٹیفیشل (مصنوعی)فلیور ہے یا اصل گوشت سے تیار کردہ ہے۔ مثلا:
اگر پیکٹ پر Artificial Flavour، یا Synthetic Flavour لکھا ہو تو عموماً اس سے مراد مصنوعی فلیور ہوتا ہے جو اصلی گوشت سے نہیں بنایا جاتا۔ یونہی Vegetarian یا Vegan کا نشان اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا جانور یا اس کے گوشت سے حاصل شدہ جز (Part) شامل نہیں۔
اور اگر اجزاء ترکیبی (Ingredient List) میںMeat Extract ، Chicken Extract Beef Extract یا Natural Meat Flavour جیسی عبارتیں لکھی ہوں تو یہ اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ فلیور اصلی گوشت سے تیار کیا گیا ہے۔
مسئلہ سے متعلق فقہی حوالہ جات درج ذیل ہیں:
زمین سے اگنے والی تمام اشیاء، مثلا: پھل، سبزیاں اور پودے وغیرہ اپنی اصل کے اعتبار سے مباح (جائز و حلال) ہیں۔ جبکہ ان کا استعمال ضرر و نقصان (Harmful) کی حد سے کم ہو اور نشہ (intoxication) کیلئے نہ ہو۔ جیساکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى (۵۳) كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ
ترجمہ کنز الایمان: توہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے، تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔ (القرآن الکریم، پارہ 16، سورۃ طہ، آیت: 53، 54)
تفسیر نسفی میں امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں:
كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ و المعنى: أخرجنا أصناف النبات آذنين في الانتفاع بها مبيحين أن تأكلوا بعضها و تعلفوا بعضها
یعنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لیے اس لیے نکالی ہیں کہ انہیں کھانا اور اپنے جانوروں کو چَرانا تمہارے لیے مباح و جائز ہو۔ (تفسير النسفي، طہ، تحت الآیۃ: 54، صفحہ 693)
ردالمحتارمیں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:
(الاصل الاباحۃ او التوقف) المختارالاول عند الجمھورمن الحنفیۃ و الشافعیۃ۔۔۔ (فیفھم منہ حکم النبات۔۔۔) و ھوالاباحۃ علی المختار او التوقف و فیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ و تفتیرہ و اضرارہ
یعنی: (علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تتن نامی ایک بوٹی کے بارے میں کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں) اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف؟ حنفیہ اور شافعیہ میں سے جمہور علماءکا مختار مذہب یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔۔۔ پس اس قاعدے سے تتن نامی بوٹی کا حکم بھی سمجھا جاسکتا ہے اور وہ مختار مذہب کے مطابق اس کا مباح ہونا ہے یا پھر (غیر مختار قول کے مطابق) توقف ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر اُس بوٹی کا نشہ آور ہونا یا ضرر رساں ہونا تسلیم نہ کیا جائے، تب یہ حکم ہے (ورنہ اگر نشہ آور ہو یا ضرر رساں ہو، تو اُسے کھانا، جائز نہیں ہوگا)۔ ملتقطا (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 6، صفحہ 460، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
تمام اشیاء اپنی اصل کے اعتبار سے مباح (جائز و حلال) ہیں، رد المحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:
الاصل فی الاشیاء الاباحۃ
یعنی: اشیاء میں اصل اباحت (جائز و حلال ہونا) ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 6، صفحہ 459، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
ماکول اللحم جانور میں جب تک شرعی ذبح ثابت نہ ہو تب تک اس میں اصل حرمت (حرام ہونا) ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: گوشت میں اصل یہ کہ جانور بیل گائے جب تک زندہ ہے اس کا گوشت حرام ہے۔۔۔ حلت ذکاۃِ شرعی سے ثابت ہوتی ہے، تو جب ذبح شرعی معلوم و متحقق نہ ہو حکم حرمت ہے۔ملتقطا (فتاوی رضویہ جلد 20، صفحہ 288 تا 289، مطبوعہ رضا فاؤندیشن، لاہور)
اسی میں مزید ایک اور مقام پر ہے: شریعت مطہرہ میں طہارت و حلت اصل ہیں۔۔۔ سوا بعض اشیاء کے جن میں حرمت اصل ہے جیسے دماءو فروج و مضار۔ (فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 476، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جب کوئی پروڈکٹ حلال و حرام دونوں طرح کی اشیاء سے بنتی ہو اور اس میں معلوم نہ ہو کہ آیا یہ خاص پروڈکٹ حلال چیز سے بنی ہے یا حرام سے؟ تو عند الشرع اس کے حلال ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت سے سوال ہوا جس کا مفہوم و خلاصہ یہ ہے کہ: روسر (جگہ کا نام ہے) کی شکر (sugar) جو ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے میں کوئی احتیاط نہیں ہوتی کہ وہ ہڈیاں پاک ہیں یا ناپاک، حلال جانور کی ہیں یا مردار کی، اب اس صورت میں اس شکر کا کیا حکم ہوگا؟ "تو اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: ان خیالات پر مطلق شکرِ روسر کو نجس و حرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت و حلّت ہی پر فتوٰی دیا جائیگا تاوقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہو کہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست و حرمت پر یقین نہیں صرف ظنون و خیالات ہیں جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی۔۔۔ یا اتنا یقین ہوا کہ وہ اپنی بے پرواہی کو وقوع میں لاتے اور ہرطرح کی ہڈیاں ڈالتے ہی ہیں پھر یہ تو نہیں کہ دائماً صرف وہی طریقہ برتتے ہیں جو نجس وحرام کردے اور جب یوں بھی ہے اور یوں بھی تو ہر شکّر میں احتمالِ محفوظی تو ہرگز حکم نجاست و حرمت نہیں دے سکتے۔ بلکہ جب تک کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ رَیب وشبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں بلکہ جہاں تحقیق پر کوئی فتنہ یا ایذائے اہل ایمان یا ترک ادب بزرگان یا پردہ دری مسلمان یا اور کوئی محذور سمجھے وہاں تو ہرگز ان خیالات وظنون کی پابندی نہ کرے۔ (فتاوی رضویہ شریف، جلد 4، صفحہ 543 تا 545، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شریعت مطہرہ میں طہارت (پاک ہونا) و حلت (جائز و حلال ہونا) اصل ہے، اس لیے جب تک شے میں کسی حرام چیز کی شمولیت کا یقینی علم نہ ہو، اس وقت تک اس شے کے حرام ہونے کا حکم نہیں ہوتا۔ نیز ایسے معاملات میں بغیر دلیل و قرینہ کے پیدا ہونے والے شک و گمان کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ فتاوی رضویہ میں ہے: شریعت مطہرہ میں طہارت وحلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت و نجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک و ظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ طہارت و حلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476 تا 477، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر و ممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش و تحقیقات کی بھی حاجت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 514،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
Meat Flavour کی تفصیلی معلومات بیان کرتے ہوئے ایک ویب سائٹ پر ہے:
Beef flavor refers to a flavoring agent derived from real beef or artificial ingredients designed to mimic beef’s rich, savory taste. It is commonly used in various processed foods, sauces, soups, and snacks to enhance or imitate the flavor of beef without necessarily using actual beef meat. There are two primary types of beef flavor: natural beef flavor (derived from actual beef) and artificial beef flavor (made from synthetic or plant-based ingredients).
Key Information about Beef Flavor:
Types of Beef Flavor:
1. Natural Beef Flavor:
• Source: Derived from beef, often by boiling or simmering beef meat, bones, and fats to extract flavor compounds. It may also include rendered beef fat.
• How it’s made: Beef and beef fat are cooked down to release the natural flavor, which is concentrated into a liquid or powder form. Additional seasonings or ingredients may be added to intensify the flavor.
• Common uses: This type of flavor is used in foods where the presence of actual beef or beef-derived ingredients is preferred, such as in beef-based broths, sauces, or processed meats.
2. Artificial Beef Flavor:
• Source: Made using synthetic or plant-based ingredients designed to replicate the taste of beef. Artificial beef flavor is often used in vegetarian, vegan, or cost-sensitive products, whereas real beef is not used.
• How it’s made: A combination of yeast extracts, hydrolyzed vegetable proteins, and synthetic flavor compounds is used to mimic the umami, savory, and slightly fatty notes of beef.
• Common uses: Artificial beef flavor is used in vegetarian or vegan products, instant soups, processed snacks, and sauces where real beef is not present.
Beef Flavor vs. Beef-Type Flavor:
• Beef flavor: Contains real beef-derived ingredients in the natural form, providing an authentic beef taste.
• Beef-type flavor: Usually refers to flavors that imitate beef using plant-based or artificial ingredients, commonly used in vegetarian and vegan products.
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بیف فلیور، قدرتی یا مصنوعی، دونوں طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ قدرتی بیف فلیور حقیقی بیف کے گوشت، ہڈیوں یا چربی سے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی بیف فلیور خمیر کے عرق، ہائیڈرولائزڈ پروٹین اور فلیور انہینسرز سے بنتا ہے۔ یہ پروسیسڈ فوڈز، انسٹنٹ کھانوں اور اسنیکس میں عام طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ قدرتی بیف فلیور ویجیٹیرین یا ویگن کے لیے موزوں نہیں، جبکہ مصنوعی بیف فلیور کو ویجیٹیرین / ویگن ضروریات کے مطابق تیار کیا جاسکتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0468
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1447ھ / 27 جنوری 2025ء