فیروزہ پتھر پہننے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عورت کا فیروزہ پتھر پہننا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورت فیروزہ پتھر پہن سکتی ہے؟
جواب
عورت کسی قسم کا بھی پتھر انگوٹھی میں لگا کر پہن سکتی ہیں اسی طرح فیروزہ پتھر بھی پہن سکتی ہے، علمائے کرام نے مردوں کو بھی چاندی کی انگوٹھی میں ہر طرح کا پتھر لگانے کی اجازت دی ہے تو عورتوں کو بدرجہ اولی اجازت ہے لہذا عورت فیروزہ وغیرہ پہن سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”مرد کو زیور پہننا مطلقا حرام ہے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔۔۔نگینہ ہر قسم کے پتھر کا ہو سکتا ہے عقیق، یاقوت، زمرد، فیروزہ وغیرہا سب کا نگینہ جائز ہے۔“ (بہار شریعت، حصہ 16، ص 426، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-028
تاریخ اجراء: 06 ربیع الثانی 1448ھ/19 ستمبر 2026ء