logo logo
AI Search

برتھ کنٹرول امپلانٹ کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

برتھ کنٹرول امپلانٹ لگوانے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ Implanon ایک برتھ کنٹرول امپلانٹ ہے۔ یہ ایک چھوٹی، نرم پلاسٹک کی بار ہوتی ہے جو عورت کے بازو میں جلد کے نیچے ڈاکٹر لگاتا ہے۔ اس میں ایک ہارمون، Etonogestrelہوتا ہے جو آہستہ آہستہ جسم میں خارج ہوتا ہے تاکہ حمل کو روکا جا سکے۔ اس کا کام بیضہ دانی سے انڈہ خارج ہونے سے روکنا اور رحم کے منہ کی رطوبت کو گاڑھا کرنا ہے تاکہ اسپرم اندر نہ جا سکے۔ نیز بعض صورتوں میں یہ رحم کی اندرونی تہہ کو بدل دیتا ہے۔ یہ عام طور پر 3 سال تک مؤثر رہتا ہے۔ لگوانے اور نکلوانے کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے یہ حمل سے بچاؤ میں بہت مؤثر ہے۔ اس کو لگوانے کا کیا شرعی حکم ہے؟ سائل: وقار مدنی (یوکے)

جواب

”Implanon“ نامی برتھ کنٹرول امپلانٹ عموماً ڈاکٹر سے ہی لگوایا جاتا ہے۔ پس اگر اس برتھ کنٹرول امپلانٹ کو لگوانے کے لئے کسی لیڈی ڈاکٹر کی خدمات لی جائیں اور یہ لگوانا کسی جائز اور معقول وجہ سے ہو مثلاً پہلا بچہ بہت چھوٹا ہے اور حمل ہو جانے سے اس کی صحت یا تربیت میں خلل واقع ہوگا، یا عورت بہت کمزور ہے کہ حمل ٹھہرنے سے اس کی صحت خراب ہو جائے گی، تو اس کا استعمال جائز ہے؛ کیونکہ یہ حمل سے بچنے کا عارضی طریقہ ہے اور ایسے کسی طریقے کی اگر شرعی ممانعت نہ ہو تو وہ جائز ہوتا ہے، جیسے عزل کا معاملہ ہے۔ البتہ ہماری معلومات کے مطابق اس امپلانٹ سے خاتون کی ماہواری کی عادت ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے نماز و روزہ وغیرہ عبادات میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ نیز بعض اوقات یہ طبی طور پر بھی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔

جدید موانعِ حمل اشیاء کا استعمال جائز ہے جبکہ ان سے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ختم نہ ہو۔ جیسا کہ ”الفقہ الاسلامی وادلۃ“ میں ہے: ” وبناء عليه يجوز استعمال موانع الحمل الحديثة كالحبوب وغيرها لفترة مؤقتة، دون أن يترتب عليه استئصال إمكان الحمل، وصلاحية الإنجاب، قال الزركشي: يجوز استعمال الدواء لمنع الحبل في وقت دون وقت كالعزل، ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية.“ ترجمہ: اسی بنا پر جدید موانع حمل ذرائع مثلاً مانع حمل گولیاں وغیرہ محدود وقت کے لیے استعمال کرنا، جائز ہے، نہ اس طور پر کہ اس کے سبب حمل ٹھہرانے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے۔ امام زرکشی رحمہ اللہ نے فرمایا: محدود وقت کے لئے مانع حمل دوا کا استعمال جائز ہے، جیسے عزل جائز ہے۔ حمل کی صلاحیت سرے سے ہی ختم کرنے کے لیے دوا کھانا، جائز نہیں۔ (الفقه الإسلامي وأدلته، جلد 04، صفحہ 2644، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

جائز و معقول وجہ ہو تو عارضی طور پر مؤثر موانع حمل اشیاء کا استعمال جائز ہے۔ چنانچہ فتاوی فیض الرسول میں ہے: ”کسی جائز مقصد کے پیش نظر وقتی طور پر ضبط تولید کے لئے کوئی دوا یا ربڑ کی تھیلی استعمال کرنا، جائز ہے۔ لیکن کسی عمل سے ہمیشہ کے لئے قوت تولید ختم کر دینا کسی طرح جائز نہیں۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 02، صفحہ 497، مطبوعہ اکبر بک سیلرز، لاہور)

وقار الفتاوی میں ہے: ”دوسری صورت یہ ہے کہ ایسی دوائیں استعمال کی جائیں کہ جب تک دوا کا استعمال جاری رہے، حمل قرار نہیں پائے گا۔ اور جب دوا کا استعمال بند کر دیا جائے، تو حمل قرار پا سکتا ہے۔ اس میں اگر کوئی معقول وجہ ہے مثلا پہلا بچہ چھوٹا ہے فورا دوبارہ حمل ہونے سے اس کی صحت خراب ہو گی یا بیوی کی صحت اچھی نہیں ہے کہ جلدی جلدی بچے کی پیدائش سے اس کی صحت اور خراب ہو جائے گی تو ان دواؤں کا استعمال جائز ہے۔ اور یہ بالکل ”عزل“ (شوہر مادہ منویہ کو باہر خارج کرے) کے حکم میں ہے اور یہ جائز ہے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 03، صفحہ 126، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)

کسی اجنبیہ عورت کو چھونے کی ممانعت پر المعجم الکبیر للطبرانی کی حدیث مبارکہ ہے، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لأن يطعن في رأس رجل بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له.“ ترجمہ: کسی آدمی کے سر پر لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس کے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہ ہو۔ (المعجم الكبير للطبراني، جلد 20، صفحہ 212، مطبوعہ، القاھرۃ)

عورت کا بازو ان اعضاء میں سے ہے کہ جس کا بلا ضرورتِ شرعی اجنبی مرد کے سامنے کھولنا حرام ہے۔ یونہی بلا ضرورت شرعی اجنبی عورت کا بدن چھونا بھی حرام ہے۔ الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: ”ولا يجوز أن ينظر الرجل إلى الأجنبية إلا وجهها وكفيها لقوله تعالى: ﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ (النور: 31) قال علي وابن عباس رضي اللہ عنهما؛ ما ظهر منها الكحل والخاتم، والمراد موضعهما وهو الوجه والكف۔ ۔ ۔ ۔ ولا يحل له أن يمس وجهها ولا كفيها وإن كان يأمن الشهوة.“ ترجمہ: مرد کے لئے جائز نہیں کہ کسی اجنبیہ عورت کی طرف نظر کرے، سوائے چہرے اور ہتھیلی کے۔ کیونکہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ”اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے“ مولا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے اس سے مراد اس کی جگہ ہے یعنی چہرہ اور ہتھیلی۔ مرد کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ عورت کے چہرے یا ہتھیلی کو چھوئے اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، جلد 04، صفحہ 368، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

ایک عورت دوسری عورت کے ناف سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے کے علاوہ سارے بدن کو دیکھ سکتی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ”كل ما يحل للرجل أن ينظر إليه من الرجل يحل للمرأة أن تنظر إليه من المرأة وكل ما لا يحل له، لا يحل لها، فتنظر المرأة من المرأة إلى سائر جسدها إلا ما بين السرة والركبة لأنه ليس في نظر المرأة إلى المرأة خوف الشهوة والوقوع في الفتنة“ ترجمہ: مرد کے بدن کا ہروہ حصہ کہ جس کی طرف دوسرے مرد کا نظر کرنا، جائز ہے، عورت کے لئے بھی دوسری عورت کے اس حصے کی طرف نظر کرنا، جائز ہے، اور مرد جس کی طرف نظر نہیں کر سکتا عورت بھی اس کی طرف نظر نہیں کر سکتی۔ پس عورت دوسری عورت کے سارے بدن کی طرف نظر کر سکتی ہے سوائے ناف سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے کو۔ (ناف سے گھٹنے تک کے حصے کے علاوہ باقی بدن کی طرف نظر کا جواز اس وجہ سے ہے کہ) عورت کا دوسری عورت کی طرف دیکھنے میں شہوت یا فتنے کا خوف نہیں ہوتا۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 05، صفحہ 124، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام طبرانی رحمہ اللہ تعالی”المعجم الکبیر“ میں جبکہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالی ”الدر المنثور“ میں نقل فرماتے ہیں: ”عن زائدة بن عمير قال: سألت ابن عباس عن العزل فقال: إنكم قد أكثرتم فإن كان قال فيه رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم شيئا فهو كما قال وإن لم يكن قال فيه شيئا قال: أنا أقول ﴿نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ﴾ فإن شئتم فاعزلوا وإن شئتم فلا تفعلوا.“ ترجمہ: حضرت زائدہ بن عمیر روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایاکہ تم لوگ اس بارے میں زیادہ پوچھنے لگ گئے ہو، پس اگر اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا تو وہ ویسے ہی ہے جیسے آپ نے فرمایا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا تو میں کہتا ہوں کہ آیت مبارکہ ﴿نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ﴾ (تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔) کا معنی یہ ہے کہ اگر تم چاہو تو عزل کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔ (الدر المنثور في التفسير بالمأثور، جلد 01، صفحہ 639، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام ابن ہمام رحمہ اللہ فتح القدیر میں عزل سے متعلق روایات ذکر کرنے کے بعدلکھتے ہیں: ”فهذه الأحاديث ظاهرة في جواز العزل.“ ترجمہ :پس یہ روایات عزل کے جواز میں واضح ہیں۔ (فتح القدير للكمال بن الهمام، جلد 03، صفحہ 401، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

فتح القدیر میں ہے: ”العزل جائز عند عامة العلماء.“ ترجمہ: جمہور علماء کے نزدیک عزل جائز ہے۔ (فتح القدير للكمال بن الهمام، جلد 03، صفحہ 400، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

ایسے کام سے بچنا بہتر ہے کہ جس سے عبادت میں خلل کا اندیشہ ہو، اس کی نظیر روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کا مسئلہ ہے کہ فی نفسہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوانا، جائز ہے، لیکن کمزوری ہونے کا اندیشہ ہو توبچنا بہتر ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:” فصد سےروزہ نہ جائے گا، ہاں ضعف کے خیال سے بچے تو مناسب۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 487، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ولا بأس بالحجامة إن أمن على نفسه الضعف أما إذا خاف فإنه يكره وينبغي له أن يؤخر إلى وقت الغروب وذكر شيخ الإسلام شرط الكراهة ضعف يحتاج فيه إلى الفطر.“ ترجمہ: اگر کمزوری ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو (روزے میں)حجامہ کروانے میں حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر خوف ہو تو یہ مکروہ ہے۔ اس صورت میں اسے چاہیے کہ غروب آفتاب تک اسے مؤخر کرے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ کراہت کی شرط ایسا ضعف ہے کہ جس میں روزہ توڑنے کی حاجت ہو جائے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 01، صفحہ 200، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

یونہی جس چیز سے بدن کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس سے بچنا چاہیے۔ اس کی نظیر ٹوٹے ہوئے برتن کے استعمال سے ممانعت والی حدیث مبارکہ ہے، محدثین نے اس کی ممانعت کی ایک وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ برتن کے ٹوٹے ہوئے حصے سے ہونٹ زخمی ہونے یا کسی نقصان دہ چیز کے ہونے کا اندیشہ ہے، اس لئے اس سے بچنا بہتر ہے۔

سنن ابو داؤد شریف کی حدیث مبارکہ ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم عن الشرب من ثلمة القدح، وأن ينفخ في الشراب“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے ٹوٹے ہوئے حصے سے پینے سے منع فرمایا ہے اور برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ (سنن أبي داؤد، جلد 03، صفحہ 337، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

نخب الافکار میں ہے: ”وقد قال قوم: إنما نهى عن ذلك لأنه الموضع الذي يقصده الهوام، فنهى عن ذلك خوف أذاها.“ ترجمہ: اور بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے اس وجہ سے منع فرمایا کہ برتن کے اس حصہ میں حشرات آ جاتے ہیں، لہٰذا ان کی طرف سے نقصان پہنچنے کے اندیشے کے باعث اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ (نخب الافکار، جلد 13، صفحہ 424، مطبوعہ وزارة الأوقاف، قطر)

مفتی احمد یار خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”خواہ پیالہ کا کنارہ کچھ ٹوٹا ہوا ہو یا پیالہ کے وسط میں سوراخ ہو اس سے پانی وغیرہ (پینا) مطلقاً منع ہے۔ ۔ ۔ ممکن ہے کہ ٹوٹا ہوا کنارہ ہونٹ کو زخمی کر دے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 06، صفحہ 73، مطبوعہ قادری پیبلشرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد ساجد عطاری

مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: NRL-0545

تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1448ھ/09 جولائی 2026ء