logo logo
AI Search

حمل کی حالت میں پچھلے مقام میں جماع کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حالتِ حمل میں بیوی سے پچھلے مقام میں جماع کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

زید کی بیوی پیٹ (حمل) سے ہے، زید کو ہمبستری کا زیادہ من ہوتا ہے، گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، تو کیا زید اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی جگہ سے صحبت کر سکتا ہے؟

جواب

بیوی کے پچھلے مقام میں صحبت کرنا ناجائز و گناہ اور حرام ہے، احادیث مبارکہ میں اس کے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں، حمل کے دوران بیوی سے اگلے مقام میں ہمبستری کرنا جائز ہے، اگر گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے تو بیوی سے اگلے مقام میں ہمبستری کر لے یا پچھلے مقام کے علاوہ جسم کے کسی اور حصے مثلا ران وغیرہ پر شہوت کو پورا کرلے یا پھر بیوی سے کہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اس کا انزال کروا دے۔

سنن ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من أتى حائضا، أو امرأة في دبرها، أو كاهنا، فقد كفر بما أنزل على محمد“ ترجمہ: جو حائضہ عورت سے جماع کرے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے یا کاہن کے پاس جائے، تو اس نے اس کا انکار کیا جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ (جامع ترمذی، صفحہ 66، رقم الحدیث 135، دارابن کثیر، دمشق)

سنن ابی داؤد کی حدیث پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: "ملعون من أتى امرأته في دبرها" ترجمہ: وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی کے پچھلے مقام پر ہمبستری کرے۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 344، حدیث 2162، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بیوی کے پچھلے مقام میں ہمبستری کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے ’’ولا يحل له الاستمتاع بهافی الدبر“ ترجمہ: اور مرد کے لئے اپنی عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرناحلال نہیں۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 4، صفحہ 155، مطبوعہ: قاہرہ)

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے ”ویمنع۔۔۔ وطؤها (یکفر مستحلہ) ۔۔۔وکذا مستحل وطء الدبر عند الجمھور“ ترجمہ: اور حائضہ عورت سے وطی ممنوع ہے، اور اس کو حلال جاننے والے کی تکفیر کی جائے گی، اور جمہور کے نزدیک یہی حکم عورت کے پچھلے مقام میں وطی کو حلال جاننے والے کا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 1، صفحہ 533، 542، مطبوعہ: کوئٹہ)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے ”(وينظر من زوجته ۔۔۔إلى جميع بدنها) وكذا يحل له مسها والاستمتاع بها في الفرج وما دونه“ ترجمہ: مرد اپنی بیوی کے پورے جسم کو دیکھ سکتا ہے، یونہی اس کے لئے بیوی کے بدن کو چھونا اور اس کی شرمگاہ و بقیہ تمام بدن سے لطف اندوز ہونا بھی حلال ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 4، ص 155، مطبوعہ قاہرہ)

فتاوی رضویہ میں ہے ”یجوز للرجل التمتع بعرسہ کیف ماشاء من رأسھا الٰی قدمھا الا ما نھی ﷲ تعالٰی عنہ“ ترجمہ: مرد کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کے سر سے لے کر پاؤں تک جیسے چاہے لطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 268، 267، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بیوی کا شوہر کو ہاتھ سے فارغ کرنا جائز ہے، چنانچہ امام قوام الدین محمد بن محمد الکاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”يجوز أن يستمني بيد زوجته“ ترجمہ: شوہر کا اپنی بیوی کے ہاتھ سے منی خارج کروانا جائز ہے۔ (معراج الدراية في شرح الهداية، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 890، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5402

تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1448ھ/08 ستمبر 2026ء