سردی کے سبب مرنے والی مچھلی کھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سردی کی وجہ سے نہر میں موجود مچھلیاں مر گئی ہوں، تو ان کو کھانے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جو مچھلی پانی میں خودبخود بغیرکسی وجہ کے اپنی موت آپ مر کر پانی کی سطح پر الٹ گئی وہ حرام ہے اور جو مچھلی طبعی موت کے بجائے کسی سبب سے مرے وہ حلال ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر معلوم ہے کہ یہ مچھلی سردی کے سبب مری ہے نہ کہ طبعی موت تو اس کا کھانا حلال ہے ورنہ حرام۔
بہار شریعت میں ہے: ’’پانی کی گرمی یا سردی سے مچھلی مرگئی یا مچھلی کو ڈورے میں باندھ کر پانی میں ڈال دیا اور مرگئی یا جال میں پھنس کر مرگئی یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال دی جس سے مچھلیاں مرگئیں اور یہ معلوم ہے کہ اوس چیز کے ڈالنے سے مریں یاگھڑے یا گڑھے میں مچھلی پکڑ کر ڈال دی اور اوس میں پانی تھوڑا تھا اس وجہ سے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے مرگئی ان سب صورتوں میں وہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے۔‘‘ (بہار شریعت، ج 3، ص 324 - 325، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2595
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاولٰی 1447ھ / 07 نومبر 2025ء