غریبوں کی مدد کے لیے جوا کھیلنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
غریبوں کی امداد کے لئے جوا کھیلنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
کوٹیکس ٹریڈنگ، شرعا جائز نہیں ہے، اس میں حقیقتا کوئی چیز خریدی یا بیچی نہیں جاتی، بلکہ اس میں صرف ایک اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی چیز کی قیمت اتنے وقت میں اوپر جائے گی یا نیچے، اگر جواب درست آجائے تو نفع ملتاہے، ورنہ اپنا لگایا گیا پیسا بھی ڈوب جاتا ہے، تو اس میں اپنے مال کوخطرے پر ڈالا جاتا ہے، جو کہ جوا ہے، اور جوا شرعا ناجائز و حرام کام ہے، جوئے کو قرآن و حدیث میں مطلقا حرام قرار دیا گیا ہے، لہذا کسی کی مددکی نیت سے بھی جوا کھیلنا جائز نہیں ہے، اس سے حاصل ہونے والا مال، حرام مال ہوتا ہے، اور اللہ تبارک و تعالی حرام مال سے کی گئی خیرات قبول نہیں فرماتا، اس کاحکم یہ ہوتا ہے کہ جس سے مال لیا ہے، وہ معلوم اور موجود ہو، تو اسے، ورنہ اس کے وارثوں کو دے۔
جوئے کی تعریف معجم لغۃ الفقہاء میں یوں منقول ہے ”تعلیق الملک علی الخطر و المال من الجانبین“ ترجمہ: اپنی ملکیت کو خطرے میں ڈالنا، اس حال میں کہ مال دونوں طرف سے ہو۔ (معجم لغۃ الفقھاء، صفحہ 369، دار النفائس)
جوئے کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں، تو ان سے بچتے رہو کہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدۃ، آیت 90)
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ان اللہ حرم علیکم الخمر و المیسر و الکوبۃ و قال کل مسکر حرام“ ترجمہ: اللہ کریم نے شراب اور جُوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی، ج 10، ص 360، حدیث 20943، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ابوالمَعَالی علامہ بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 616ھ / 1219ء) لکھتےہیں: "فإن شرطوا الجعل من الجانبين فهو حرام و صورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره:تعال حتى نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، و إن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، و هذا هو القمار بعينه" ترجمہ: اگر جانبین سے کسی رقم یا انعام کی شرط لگائی جائے تو یہ سراسَر حرام ہے۔ اِس کی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے: آؤ مقابلہ کریں، اگر تمہارا گھوڑا، اونٹ یا نیزہ آگے بڑھ گیا، تو میں تمہیں فلاں چیز دوں گا اور اگر میرا اونٹ یا نیزہ آگے بڑھ گیا تو تم مجھے فلاں چیز دو گے۔ یہ خالِص جوا ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 5، صفحہ 323، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، لبنان)
اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”إن اللہ طيب لا يقبل إلا الطيب“ ترجمہ: اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی، ج 3، ص 482، حدیث 6394، دار الکتب العلمیة، بیروت)
مالِ حرام سے کیا جانے والا کوئی بھی عمل اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ چنانچہ بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث میں ہے ”من كسب مالا حراما لم تقبل له صدقة و لا عتق و لا حج و لا عمرة“ ترجمہ: جس نے مال حرام کمایا، اللہ پاک نہ اس کا صدقہ قبول فرمائے گا، نہ غلام آزاد کرنا ، نہ حج کرنا اور نہ ہی عمرہ کرنا۔ (بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث، جلد 1، صفحہ 309، مطبوعہ: المدینۃ المنورہ)
جوئے سے حاصل کردہ مال کا حکم:
فتاوی رضویہ میں ہے ’’جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے اور اس سے بَراءت یعنی نَجات کی یِہی صورت ہے کہ جِس جِس سے جتناجتنا مال جِیتاہے اُسے واپَس دے، یا جیسے بنے اُسے راضی کر کے مُعاف کرالے، وہ نہ ہو، تو اُس کے وارِثوں کو واپس دے، یا اُن میں جو عاقِل بالِغ ہوں ان کا حصّہ اُن کی رِضامندی سے مُعاف کرالے۔ باقیوں کا حصّہ ضَرور انہیں دے کہ اِس کی مُعافی ممکن نہیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ 651، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5296
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ / 13 اگست 2026ء