دربار سے ملنے والا دھاگہ باندھنے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دربار سے ملنے والا دھاگہ باندھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مردوں کا دربار سے ملنے والا دھاگہ باندھنا کیسا؟
جواب
یہ بات ذہن نشین رہے کہ بغیر کسی صحیح مقصد کے ہاتھ وغیرہ پر دھاگہ باندھنا مکروہ ہے، تاہم! اگر کوئی صحیح مقصد ہو، جیسے کسی چیز کو یاد رکھنے کے لئے ڈوری باندھی، یا دھاگہ/ڈوری وغیرہ پر دَم کیا ہوا ہے، اور حصول شفا کے لئے باندھا جائے، تو اس میں حرج نہیں، کہ دم شدہ جائز چیز باندھنے کا ثبوت راویت سے بھی ہے۔ لہذا دربار سے ملنے والا دھاگہ بھی اگر کسی صحیح مقصد کے لیے باندھا جائے، مثلا وہ دَم شدہ ہو اور حصولِ شفا کے لئے باندھا جائے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، اور اگر بلاوجہ، بغیر کسی صحیح مقصد کے باندھا جائے، تو مکروہ ہے۔
دم کی ہوئی کوئی چیز باندھنے کے متعلق معرفۃ الصحابہ میں مذکور ہے ”عن ابن ثعلبة أنه أتى النبي صلى اللہ عليه وسلم، فقال: يا رسول اللہ، ادع اللہ لي بالشهادة، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: ائتني بشعرات قال: فأتاه، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: اكشف عن عضدك قال: فربطه في عضده، ثم نفث فيه، فقال: اللهم حرم دم ابن ثعلبة على المشركين المنافقين“ ترجمہ: حضرت ابن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تو عرض کی: یا رسول اللہ (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)! اللہ عزوجل سے میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے۔ رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس چند بال لاؤ۔ (راوی کہتے ہیں) پس وہ بال لائے، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اپنی کلائی کھولو! راوی نے بتایا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کلائی پر بال باندھے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر دعا کی: اے اللہ عزوجل! ابن ثعلبہ کا خون مشرکین و منافقین پر حرام فرما دے۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، جلد 6، صفحہ 3056، مطبوعه: ریاض)
در مختار میں ہے "(و) لا (الرتيمة) هي خيط يربط بأصبع أو خاتم لتذكر الشيء والحاصل أن كل ما فعل تجبرا كره وما فعل لحاجة لا" ترجمہ: اور رتیمہ بھی مکروہ نہیں۔ رتیمہ اس دھاگے کو کہتے ہیں، جو کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے انگلی یا انگوٹھی سے باندھ لیا جائے۔ اور حاصل یہ ہے کہ جو کام محض خود کو بڑا ظاہر کرنے کی غرض سے کیا جائے، وہ مکروہ ہے، اور جو کسی ضرورت کی وجہ سے کیا جائے، وہ مکروہ نہیں۔
اس کے تحت رد المحتارمیں ہے "وفي المنح إنما ذكر هذا لأن من عادة بعض الناس شد الخيوط على بعض الأعضاء، وكذا السلاسل وغيرها، وذلك مكروه لأنه محض عبث فقال إن الرتم ليس من هذا القبيل كذا في شرح الوقاية اهـ" ترجمہ: اور المنح (الدر المختار کی شرح 'منح الغفار') میں ہے: یہ بات اس لیے ذکر کی گئی کیونکہ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بعض اعضاء (جسم کے حصوں) پر ڈورے/دھاگے باندھتے ہیں، اور اسی طرح زنجیریں وغیرہ بھی (باندھتے ہیں)، اور یہ عمل مکروہ ہے کیونکہ یہ محض عبث (بے مقصد و فضول) ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ 'رَتم' (کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے انگلی یا کپڑے پر دھاگا/پٹی باندھنا) اس قبیل سے نہیں ہے (یعنی وہ جائز ہے) ، جیسا کہ 'شرح الوقایہ' میں ہے۔ اھـ (عبارت ختم ہوئی)۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 9، صفحہ 599، 600، مطبوعہ:کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”یاد داشت کے لیے یعنی اس غرض سے کہ بات یاد رہے بعض لوگ رومال یا کمر بند میں گرہ لگا لیتے ہیں یا کسی جگہ انگلی وغیرہ پر ڈورا باندھ لیتے ہیں، یہ جائز ہے اور بلاوجہ ڈورا باندھ لینا مکروہ ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 3، صفحہ 419، مکتبۃ المدینہ، كراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5299
تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1448ھ/11 اگست 2026ء