logo logo
AI Search

ذہنی معذور کیلئے انشورنس کروانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ذہنی معذور بچے کے لئے بیمہ کروانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

انشورنس کروانا حرام و گناہ ہے۔ لائف انشورنس سود پر مشتمل ہے، کیونکہ اس میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہے، وہ انشورنس کمپنی پر قرض ہوتی ہے، کہ اتنی رقم کی ضرورواپسی ہوتی ہے، اور اس قرض کے ساتھ اضافہ مشروط ہوتا ہے، اور قرض پر مشروط اضافہ سود ہوتا ہے؛ اور سود لینا حرام اور سخت گناہ ہے۔

نوٹ: بچے کا رزق بھی رب العلمین عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے، لہذا جائز طریقےسے اس کے لیے تدبیر کریں، حرام میں پڑ کر گناہ گار نہ ہوں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾ ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔ (پارہ 12، سورہ ہود، آیت 6)

تفسیر خازن میں ہے "الدابة اسم لكل حيوان دب على وجه الأرض ۔ ۔ ۔ و المراد منه الإطلاق فيدخل الآدمي و غيره من جميع الحيوانات إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها يعني هو المتكفل برزقها فضلا منه" ترجمہ:دابہ ہر اس جاندار کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا پھرتا ہو۔ یہاں مطلق جاندار مراد ہے، لہذااس میں انسان اور دیگر حیوانات داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان تمام جانداروں کےرزق کا ضامن ہے۔ (تفسیرخازن،جلد،صفحہ،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔ (پارہ 3، سورۃ البقرہ، آیت 275)

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا" ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 238، مطبوعہ: بیروت)

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: كل قرض جر نفعا حرام اي اذا كان مشروطا“ ترجمہ: ہر وہ قرض جو مشروط نفع لائے حرام ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب القرض، جلد 7، صفحہ 413، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: بر بنائے قرض کسی قسم کانفع لینا مطلقا سودو حرام ہے، حدیث میں ہے، حضور سید عالم صلی اتعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: کل قرض جرمنفعۃ فھوربا‘‘ رواہ الحارث فی مسندہ عن امیر المومنین المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ترجمہ: جو قرض کوئی نفع کھینچ کرلائے وہ سود ہے۔ اس کوحارث نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیاہے۔ ۔ ۔ یعنی اگر قرض اس شرط پر دیا کہ نفع لیں گے، تووہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5243
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 01 اگست 2026ء