logo logo
AI Search

چہرے کے بغیر جاندار کا مجسمہ بنانا اور بیچنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بغیر چہرے کے جاندار کا مجسمہ بنانا اور بیچنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لکڑی سے جانوروں اور انسانوں کے اس طرح کے ڈیکوریشن پیس تیار کیے جاتے ہیں کہ پیچھے سے سارا جسم جاندار کا ہے لیکن اس کا چہرہ نہیں بنایا جاتا، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کے ڈیکوریشن پیس تیار کرنا اور ان کو بیچنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جو تصویر ممنوع ہے، اس سے مراد چہرے کی تصویرہے، لہذا اگر جاندار کا پیچھے والا حصہ مکمل بنایا، لیکن اس کا چہرہ نہیں بنایا، تو یہ ممنوعہ مجسمے میں نہیں آئے گا، اسے بنانا بھی جائز ہے اور آگے بیچنا بھی جائز ہے۔ شرح السیر الکبیر میں ہے "وإن كان التمثال مقطوع الرأس أو ممحو الوجه فهو ليس بتمثال. لأن المكروه هو تمثال الحيوان، ولا يكون ذلك بدون الرأس." ترجمہ: اور اگر مجسمے کا سر کاٹ دیا گیا یا چہرہ مٹا دیا گیا تو وہ مجسمہ نہیں ہے کیونکہ مکروہ جو ہے وہ حیوان کا مجسمہ ہے اور حیوان کا مجسمہ بغیر سر کے نہیں ہوتا۔ (شرح السیر الکبیر، ص 1463، الشرکۃ الشرقیۃ للاعلانات)

نہر الفائق میں ہے "ومحو وجه الرأس كمحو الرأس كذا في (الخلاصة)" ترجمہ: اور سر کا چہرہ مٹا دینا سر مٹانے کی طرح ہے، اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ (نہرالفائق، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا، ج 01، ص 285، مطبوعہ کراچی)

حاشیۃ الشرنبلالی علی الدرر میں ہے "أقول ومحو وجهها كقطع الرأس كما في البحر عن الخلاصة." ترجمہ: میں کہتا ہوں: اور تصویر کا چہرہ مٹا دینا سر کاٹنے کی طرح ہے جیسے بحر میں خلاصہ کے حوالے سے ہے۔ (حاشیۃ الشرنبلالی، کتاب الصلوۃ، باب مکروھات الصلوۃ، ج 01، ص 316، مطبوعہ زاہدان)

فتاوی رضویہ میں ہے "تصویر فقط چہرہ کانام ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 568، رضا فاونڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے "عامہ کتب مثل بدایہ ووقایہ ونقایہ وکنز ووافی وغرر واصلاح ومنتقی ومنیہ ونورالایضاح وہدایہ وشرح وقایہ وبرجندی وتبیین وکافی ودرر وایضاح ومجمع الانہر ومراقی الفلاح وفتح القدیر وعنایہ وخانیہ وخزانۃ المفتین وہندیہ حتی کہ خود جامع صغیر محرر مذہب امام محمد رحمہ تعالٰی میں صرف ذکر رأس پر اقتصار فرمایا کہ اگر تصویر بے سر کی ہو یا اس کا سر کاٹ دیں تو کراہت نہیں، اور خلاصہ پھر اس کی تبعیت سے تنویر الابصار وحلیہ وبحر الرائق وجامع الرموز وغنیہ وصغیری وشرنبلالی وعبد الحلیم علی الدرر میں ''وجہ'' کا اضافہ کیا کہ چہرہ مٹا دینا بھی سر کاٹ دینے کی مثل ہے ذخیرۃ العقبٰی وشلبی علی الزیلعی وحسن عجیمی علی الدرر وسعدی افندی علی العنایہ ومسکین علی الکنز کہ سید ابو السعود ازہری نے بھی کہ در مختار سے کثیر الاخذ ہیں زیادت سے اصلاً تعرض نہ کیا اقول: اور ذکر ''وجہ'' حقیقۃً زیادت نہیں کہ رأس کا اطلاق اکثر چہرہ پر آتا ہے گردن جدا کر دینے کو سر کاٹنا ہی کہتے ہیں۔۔۔ثم اقول: (پھر میں کہتا ہوں۔) دیگر اعضا وجہ و راس کے معنی میں نہیں اگرچہ مدار حیات ہونے میں مماثل ہوں کہ چہرہ ہی تصویر جاندار میں اصل ہے، ولہٰذا سیدنا ابو ہریرہ رضی تعالٰی عنہ نے اسی کا نام تصویر رکھا اور شک نہیں کہ فقط چہرہ کو تصویر کہتے اور بنانے والے بارہا اسی پر اقتصار کرتے ہیں ملوک نصارٰی کہ سکہ میں اپنی تصویر چاہتے ہیں اکثر چہرہ تک رکھتے ہیں اور بیشک عامہ مقاصد تصویر چہرہ سے حاصل ہوتے ہیں ۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 579، رضا فاونڈیشن، لاہور)

جس تصویر کا چہرہ مٹا دیا جائے اس کے حکم کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے "کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہر ہو، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا، پہنانا یابیچنا، خیرات کرنا سب ناجائزہے، اور اسے پہن کر نماز مکروہ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کر دیا جائے۔ اس کے بعد اس کاپہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز، سب جائز ہو جائے گا۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 567، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10704

تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ 1442ھ/18 جون 2021ء