داڑھی سیدھی کرنے کیلئے ہیئر اسٹریٹنر استعمال کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
داڑھی کے بالوں کو سیدھا کرنے کے لیے ہیئر سٹریٹنر استعمال کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں ہیئر سٹریٹنر کا استعمال کرنا جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
ہیئر سٹریٹنر (Hair Straightener) ایک برقی آلہ ہے، جس میں دو گرم پلیٹیں ہوتی ہیں؛ بالوں کو ان پلیٹوں کے درمیان رکھ کر آہستہ آہستہ گزارا جاتا ہے اور یوں اس سے بالوں کو سیدھا اور ہموار کیا جاتا ہے، جس طرح داڑھی کے بالوں کو سلجھا نے کے لیے کنگھی کا استعمال جائز ہے، اسی طرح اس مقصدکے لیے ہیئر سٹریٹنر کے استعمال میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ! یہ بات یاد رہے کہ زیب و زینت کے معاملات میں بھی اعتدال اورمیانہ روی کواختیارکرناچاہیے، حد سے زیادہ اس معاملے میں مشغولیت سے منع فرمایا گیا ہے۔
سنن ابی داؤد میں ہے ’’عن عبد اللہ بن مغفل قال: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن الترجل الا غبا‘‘ ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر گاہے گاہے۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 653، رقم الحدیث 4159،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ’’انہ کان ينهى عن الإفراط و المبالغة في التنعم و الترفه و الانهماك في التدهين و الترجيل و التزيين كما هو عادة أهل التنعم و الإتراف، و يأمر بالتوسط و الاقتصاد لا بترك الطهارة و النظافة و تحسين الهيئة؛ لأن النظافة من الدين‘‘ ترجمہ: آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نعمتوں سے لطف اندوز ہونے، تکلف اور عیش و عشرت اختیار کرنے، نیز تیل لگانے، بال سنوارنے اور زیب و زینت اختیار کرنے میں حد سے زیادتی اور مبالغہ کرنے سے منع فرماتے، جس طرح اہلِ آسائش و عیش و عشرت کا طریقہ ہوتا ہے، آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا، اس بات کا نہیں کہ پاکیزگی و صفائی بالکل چھوڑ دی جائے، یا اپنی ظاہری حالت کو بہتر بنانے سے اجتناب کیا جائے؛ کیونکہ صفائی اور پاکیزگی دین کا حصہ ہے۔ (لمعات التنقیح، جلد 7، صفحہ 426، دار النوادر، دمشق)
اسی حدیث پاک کی شرح میں مراٰۃ المناجیح میں ہے ’’یہ حکم مرد کے لیے سر کے بالوں میں کنگھی کرنے کے متعلق ہے یعنی جس مرد کے سر پر بال ہوں وہ روزانہ ان میں تیل و کنگھی نہ کرے کہ اسی میں لگا رہے بلکہ کبھی کرے کبھی نہ کرے، ایک دن کرے ایک دن نہ کرے ۔ ۔ ۔ غب غین کے کسرہ سے ب کے شد سے، اس کے معنی ہیں اونٹ کو ایک دن پانی پلانا ایک دن ناغہ کرنا، تجارت کو بھی غب کہا جاتا ہے۔ اس ممانعت کا مقصدیہ ہے کہ انسان ظاہری آرائش میں مشغول ہو کر رب کو نہ بھول جائے اس حکم سے عورتیں مستثنٰی ہیں وہ چاہیں تو روزانہ مانگ چوٹی کریں، یوں ہی اگر مرد داڑھی میں روزانہ کنگھی کرے تو مضائقہ نہیں۔ اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ وضو کے بعد داڑھی میں کنگھی کرنا فقیری کو دور کرتا ہے، امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم روز داڑھی میں دو بار کنگھی کرتے تھے۔‘‘ (مراۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 163، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5433
تاریخ اجراء: 07 ربیع الآخر 1448ھ/19 ستمبر 2026ء