مہندی سے ٹیٹو جیسا ڈیزائن بنانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جسم پر ٹیٹو کی طرح مہندی سے ڈیزائن بنانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر مہندی کا اسٹینسل (Stencil) استعمال کرکے ہاتھ یا جسم پر ٹیٹو کی طرح مہندی کا ڈیزائن بنایا جائے تو کیا اس کے بعد وضو درست ہوگا؟
جواب
اس کا دار و مدار جسم تک پانی پہنچنے اور نہ پہنچنے پر ہے، اگر اسٹینسل کے ذریعے لگائی گئی مہندی صرف رنگ / نشان چھوڑتی ہے اور جلد پر کوئی ایسی تہہ باقی نہیں رہتی جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے، تو اس کا لگانا بھی جائز اور وضو بھی درست ہوگا اور اگر اس کے اوپر کوئی ایسی تہہ باقی رہ جائے جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے، تو وضو سے پہلے اس تہہ کو دور کرنا ضروری ہوگا، اور اگر اس سے جمی ہوئی تہہ ایسی ہے کہ اس کو اتارنا ممکن نہیں یا اس میں مشقت و حرج ہے تو اب جب تک یہ صورت ہے اس وقت تک تو اسی حالت میں وضو و غسل ہوجائے گا تاہم اپنے اختیار سے ایسی صورت پیدا کرنا جائز نہیں ہے۔
نوٹ: بہرصورت اس بات کاخیال رکھنابھی ضروری ہے کہ کسی ممنوع ڈیزائن بنانے مثلاجاندارکی تصویروغیرہ بنانے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
فتح القدیرمیں ہے ”و لو لزق بأصل ظفرہ طین یابس و نحوہ أو بقی قدر رأس الإبرۃ من موضع الغسل لم یجز“ ترجمہ: اگر اس کے ناخن کے اوپر خشک مٹی یا اس کی مثل کوئی اور چیز چپک گئی یا دھونے والی جگہ پر سوئی کے ناکے کے برابر جگہ باقی رہ گئی تو جائز نہیں ہے (یعنی غسل اور وضو نہیں ہو گا)۔ (فتح القدیر مع الھدایہ، جلد 1، صفحہ 13، مطبوعہ :کوئٹہ)
محیط برہانی میں ہے ”و لو كان جلد سمك و خبز ممضوغ قد جف، فتوضأ و لم يصل الماء إلى ما تحته لم يجز؛ لأن التحرز عنه ممكن“ ترجمہ: اگر کسی آدمی کے جسم پر مچھلی کی جلد یا چبائی ہوئی روٹی لگی ہے جو كہ خشک ہو چکی ہے اور اس حالت میں اس نے غسل یا وضو کیا اور پانی اس کے نیچے جسم تک نہیں پہنچا تو غسل اور وضو نہیں ہو گا؛کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 1، صفحہ 41، مطبوعہ: بیروت)
حرج و مشقت والی صورت میں معافی سے متعلق، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ’’حرج کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو، جیسے آنکھ کے اندر۔ دوم مشقت ہو، جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔ سوم بعد علم و اطلاع کوئی ضرر و مشقت تو نہیں، مگر اس کی نگہداشت، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے، جیسے مکھی، مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔ قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع ازالہ مانع ضرورہے، مثلاً جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی، سرمہ، آٹا، روشنائی، رنگ، بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی، تو اب یہ نہ ہو کہ اُسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے، بلکہ چھڑا لےکہ آخر ازالہ میں توکوئی حرج تھا ہی نہیں، تعاہد میں تھا، بعد اطلاع اس کی حاجت نہ رہی ’’و من المعلوم ان ماکان لضرورة تقدر بقدرھا‘‘ ترجمہ: اور یہ بات معلوم ہے کہ جو چیز ضرورت کی وجہ سے ثابت ہو، وہ بقدرِ ضرورت ہی ہوتی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 1، (ب)، صفحہ 610، 611، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اپنے قصد (ارادے) سے ایسی حالت پیدا کرنا، ناجائز و گناہ ہے، جو وضو و غسل اور فرض یا واجب عبادات کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے، جیسا کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک کلی سے بھی بکلی زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہو گا اور یہ دونوں ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و نارواہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 94، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5400
تاریخ اجراء: 26 ربیع الاول 1448ھ / 09 ستمبر 2026ء