logo logo
AI Search

بلی کو خصی کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آپریشن سے بلی میں بچہ پیدا کرنے والی صلاحیت ختم کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عند الشرع جانور کو خصی کرنے میں اگر واقعی کوئی فائدہ ہویاخصی کرنے سے مقصود اس سے ضرر دور کرنا ہو تو اس کو خصی کرنا مطلقاً جائز ہے خواہ ا س جانور کا کھانا حلال ہو یا حرام لہذا بلی کو فربہ کرنے کی منفعت حاصل کرنے کے لئے خصی کرنا، جائز ہے۔

المحيط البرهانی فی الفقہ النعمانی میں ہے: "لا بأس بإخصاء البهائم إن كان يراد به إصلاح البهائم" ترجمہ: جانوروں کوخصی کرنے میں حرج نہیں جبکہ اس سے ان جانوروں کی اصلاح مقصودہو۔ (المحيط البرهانی فی الفقه النعمانی، جلد 5، صفحہ 375، دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاوی قاضی خان میں ہے: "و لا بأس بخصاء السنور إذا كان فيه ضرر" ترجمہ: بلے کوخصی کرنے میں حرج نہیں ہے جبکہ اس سے اس کا ضرر دور کیا جائے۔ (فتاوی قاضی خان، جلد 3، صفحہ 251، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

درمختا رمیں ہے:”(و) جاز (خصاء البھائم) حتی الھرۃ۔ ۔ ۔ ۔ و قيدوه بالمنفعة و إلا فحرام“ ترجمہ: جانوروں کو خصی کرنا، جائز ہے حتی کہ بلی کو بھی۔ ۔ ۔ اور فقہاء نے اسے منفعت کی قید سے مقید کیا ہے ورنہ حرام ہے۔

(و قيدوه) کے تحت فتاوی شامی میں ہے: ”أی جواز خصاء البهائم بالمنفعة وهی إرادة سمنها أو منعها عن العض“ ترجمہ: جانوروں کو خصی کرنے کے جواز کو منفعت کے ساتھ مقید کیا اور وہ جانوروں کے فربہ کرنے کا ارادہ یا انہیں کاٹنے سے روکنا ہے۔ (الدر المختارمع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 388،دارا لفکر، بیروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشادفرماتے ہیں: ”اور تحقیق یہ ہے کہ اگر جانور کے خصی کرنے میں واقعی کوئی منفعت یادفع مضرت مقصود ہو تو مطلقاً حلال ہے اگرچہ جانور غیر ماکول اللحم ہو مثلاً بلی وغیرہ ورنہ حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ شریف، جلد 24، صفحہ 653، رضا  فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتوی نمبر: Lar-14003
تاریخ اجراء: 24 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء