logo logo
AI Search

عقاب کے گوشت اور شکار کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عقاب پرندے کا حکم اور اس کو شکار کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پرندوں کے حلال یا حرام ہونے کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ:

"ہر وہ پرندہ جس کے پنجے ہوں اور وہ اُن پنجوں سے شکار بھی کرتا ہو، تو وہ پرندہ حرام ہوگا، اور جس کے پنجے ہی نہ ہوں، یا پنجے تو ہوں لیکن وہ اُن سے شکار نہ کرتا ہو، تو وہ پرندہ حلال ہوگا۔"

اس تفصیل کے مطابق، چونکہ عقاب کے پنجے ہوتے ہیں، اور وہ اپنے پنجوں کے ذریعے شکار بھی کرتا ہے، لہٰذا حلال نہیں، بلکہ حرام پرندہ ہے۔

باقی رہا شکار کا مسئلہ، تو اس کا حکم یہ ہے کہ حلال جانور یا پرندے کا شکار اس کے گوشت سے فائدہ اٹھانے کے لیے جائز ہے، جبکہ حرام جانور یا پرندے کے شکار کی بھی اُسی وقت اجازت ہے، جبکہ کسی معتبر شرعی منفعت کے حصول یا اُس کے ضرر کو دور کرنے کی غرض سے کیا جائے، مثلاً اُس کی کھال، بال یا ہڈی سے فائدہ اٹھانا یا اُس کے ضرر کو دور کرنا۔ البتہ !اگر شکار صرف کھیل، تفریح اور دل بہلانے کے لیے کیا جائے اور اُس سے کوئی جائز منفعت یا صحیح مقصد وابستہ نہ ہو، تو ایسا شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم عن کل ذی ناب من السباع و عن کل ذی مخلب من الطیر‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اور پنجے والے پرندے (کو کھانے) سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، صفحہ 770، رقم الحدیث 1934، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

جوہرہ نیرہ میں ہے ’’(لا یجوز اکل کل ذی ناب من السباع و لاذی مخلب من الطیر) المراد من ذی الناب ان یکون لہ ناب یصطاد بہ و کذا من ذی المخلب‘‘ ترجمہ: نوکیلے دانت والے درندوں اور پنجوں والے پرندوں کا کھانا، جائز نہیں ہے، اور نوکیلے دانتوں سے مراد یہ کہ اُس کے ایسے نوکیلے دانت ہوں، جن سے وہ شکار کرتا ہو اور اسی طرح پنجوں سے مرادیہ ہے کہ اُن سے وہ پرندہ شکار بھی کرتا ہو۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 2، صفحہ 443، مطبوعہ: لاہور)

فتاوی عالمگیری میں ہے ”كل ذي ناب من السباع و كل ذي مخلب من الطير ۔ ۔ ۔ذو المخلب من الطير كالبازي و الباشق و الصقر و الشاهين و الحدأة و البغاث و النسر و العقاب و ما أشبه ذلك“ ترجمہ: ہر وہ درندہ جس کی کچلیاں ہوں، اور ہر وہ پرندہ جو پنجوں سے شکار کرتا ہو (حرام ہے)۔ پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں میں باز، باشق، صقر، شاہین، چیل، بغاث، گدھ، عقاب اور اس جیسے دوسرے پرندے شامل ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 05، صفحہ 289، مطبوعہ: کوئٹہ)

بدائع الصنائع میں ہے ”أما الأول فيباح اصطياد ما في البحر و البر مما يحل أكله و ما لا يحل أكله، غير أن ما يحل أكله يكون اصطياده للانتفاع بلحمه و ما لا يحل أكله يكون اصطياده للانتفاع بجلده و شعره و عظمه أو لدفع أذيته“ ترجمہ: بہرحال پہلی صورت پس سمندر اور زمین میں جو جانور ہیں، ان کا شکار کرنا جائز ہے ان جانوروں کا جن کا کھانا جائز ہے اور ان کا بھی جن کا کھانا جائز نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ جن کو کھانے کی اجازت ہے وہ اس کے گوشت سے فائدہ اٹھانے کے لئے شکار کرنا ہے۔ اور جس کو کھانا جائز نہیں ہے وہ اس کی کھال، بالوں اور ہڈیوں سے فائدہ اٹھانے یا اس کے نقصان کو ختم کرنے کے لئے شکار کرنا ہے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، جلد 4، صفحہ 191، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”کسی جانور کا شِکار اگر غِذا یا دَوا یا دَفع ایذا یا تجارت کی غرض سے ہو، جائز ہے اور جو تفریح کے لئے ہو جس طرح آج کل رائج ہے اور اسی لئے اسے شکار کھیلنا کہتے اور کھیل سمجھتے ہیں اور وہ جو اپنے کھانے کے لئے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا عار جانیں، دُھوپ اور لُو میں خاک اُڑاتے ہیں اور پانی بجاتے ہیں، یہ مطلقاً حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 343، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شکار کرنا ایک مباح فعل ہے مگر حرم یا احرام میں خشکی کا جانور شکار کرنا حرام ہے، اسی طرح اگر شکار محض لہو کے طور پر ہو تو وہ مباح نہیں۔ اکثر اس فعل سے مقصود ہی کھیل اور تفریح ہوتی ہے اسی لیے عرف عام میں شکار کھیلنا بولا جاتا ہے، جتنا وقت اور پیسہ شکار میں خرچ کیا جاتا ہے اگر اس سے بہت کم داموں میں گھر بیٹھے ان لوگوں کو وہ جانور مل جایا کرے تو ہرگز راضی نہ ہوں گے وہ یہی چاہیں گے کہ جو کچھ ہو ہم تو خود اپنے ہاتھ سے شکار کریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ ان کا مقصد کھیل اور لہو ہی ہے، شکار کرنا جائز و مباح اُس وقت ہے کہ اس کا صحیح مقصد ہو مثلاً کھانا یا بیچنا یا دوست احباب کو ہدیہ کرنا یا اُس کے چمڑے کو کام میں لانا یا اُس جانور سے اذیت کا اندیشہ ہے اس لیے قتل کرنا وغیرہ ذلک۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 17، صفحہ 680، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5310
تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1448ھ / 19 اگست 2026ء