بغیر مانگے ملنے والی مالی مدد قبول کرنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بغیر مانگے کسی کی مالی مدد کی جائے تو اسے قبول کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک عورت، جس کا کمانے والا کوئی بھی نہیں ہے، وہ مانگتی بھی نہیں ہے، خود بخود ہی اہل محلہ مالی اعتبار سے اس کی کچھ مددکر دیتے ہیں، کیا اس وجہ سے وہ گنہگار ہوگی ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں وہ عورت گنہگار نہ ہوگی، کیونکہ بغیر سوال کے دیئےگئے مال کو قبول کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، اور لوگوں کا اس طرح اپنی خوشی سے کسی ضرورت مند کی مدد کرنا بہت اچھی بات اور کار ثواب ہے۔
بغیر سوال اور طمع کے ملنے والا مال قبول کرنے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں: ”ما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه، وما لا فلا تتبعه نفسك“ ترجمہ: اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس حال میں آئے کہ نہ تم اس کے حریص ہو اور نہ سوال کرنے والے، تو اسے قبول کر لیا کرو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اس کے پیچھے اپنا دل نہ لگاؤ۔ (صحیح البخاری، ص 1297، رقم الحدیث: 7163، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: "من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا، نفس اللہ عنه كربة من كرب يوم القيامة. ومن يسر على معسر، يسر اللہ عليه في الدنيا و الآخرة" ترجمہ: جس شخص نے کسی مومن کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکالیف میں سے تکلیف دور فرما دے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرما دے گا۔ (صحیح مسلم، صفحہ 1039، رقم الحدیث 2699، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5300
تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1448ھ/11 اگست 2026ء