سودی قرض سے بنائے گئے باغ کی آمدنی حلال ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سودی قرض لے کر باغ بنایا تو اس باغ سے حاصل ہونے والی کمائی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بغیر کسی صحیح ضرورت ومجبوری کے بینک سے سود پر لون لینا، ناجائز و حرام ہے، گھر والوں پر فرض ہے کہ اس سودی قرض لینے کے عمل سے توبہ کریں، اور آئندہ اس سے باز رہیں۔ البتہ! قرض لی ہوئی رقم سے جو باغ خریدا، اس پر ملکیت ثابت ہو گئی، اور اب اس پر محنت کر کے، جو آمدن جائز طریقے کے مطابق ہو گی، حلال ہو گی، اس کا سود سے تعلق نہیں۔
سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔ (پارہ 3، سورۃ البقرہ، آیت 275)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کل قرض جر منفعۃ فھو ربا" ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 238، مطبوعہ: بیروت)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: كل قرض جر نفعا حرام اي اذا كان مشروطا“ ترجمہ: ہر وہ قرض جو مشروط نفع لائے حرام ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب القرض، جلد 7، صفحہ 413، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا: سودی قرض لے کرتجارت کرنا جائز ہے یانہیں اور اس کا نفع حلال ہے یا حرام؟ جواباً ارشاد فرمایا:
جب تک صحیح ضرورت ومجبوری محض نہ ہو سود لینااور دینا دونوں برابر ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے: لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اٰکل الربا و مؤکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء۔ (رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم نے لعنت فرمائی سُود کھانے والے اور سودکھلانے والے پر اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر۔ اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔) بے مجبوری محض ایسی تجارت حرام ہے مگر اس کا نفع حرام نہیں جبکہ عقد صحیح سے ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 587، 588، رضا فانڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5241
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 01 اگست 2026ء