خواب کی بنیاد پر بغیر قبر کے فرضی مزار بنانے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خواب میں کسی بزرگ کے کہنے پر کسی جگہ بغیر قبر کے مزار بنا دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہمارے علاقے میں ایک دربار ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت ہوئی تھی، انہوں نے فرمایا تھا کہ یہاں مزار بنا دو، تو اس شخص نے اس جگہ مزار بنوا دیا جبکہ وہاں کسی بزرگ کی کوئی قبر نہیں تھی، اس بات کو کئی سال ہوگئے ہیں، لوگ وہاں عقیدت کے ساتھ جاتے ہیں ۔ ایسے مزار کا کیا حکم ہے؟
جواب
جہاں اولیائے کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مزارات ہونایقینی طور پر معلوم ہو وہاں پر فاتحہ خوانی اور ان کے وسیلے سے دعائیں کرنا، بیشک باعث سعادت ہے اور یہ سب جائز و مستحسن اعمال ہیں، لیکن یادرہے غیر نبی کا خواب حجت نہیں ، اور خواب کی بنیاد پر فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل مزار والے معاملات کرنا ناجائز و حرام ہے۔ مسلمانوں پر ایسے تمام غیر شرعی معاملات اور خرافات سے بچنا لازم و ضروری ہے۔
فرضی مزار بنانے اور اس کے ساتھ اصل مزار والے معاملات سے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ کسی ولی ﷲ کا مزار شریف فرضی بنانا اور اس پر چادر وغیرہ چڑھانا، اور اس پر فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب ولحاظ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں ارشاد فرمایا:”فرضی مزار بنانا او راس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرنا،ناجائز وبدعت ہے۔‘‘
اسی کے بعد ایک اور سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا:’’قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کے لیے وہ افعال کرانا گناہ ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ425،426 ، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2464
تاریخ اجرا: 11ربیع الاول1447ھ/05ستمبر2025ء