جان بچانے کے لئے رشوت دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ظالم سے جان بچانے کے لئے رشوت دینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی ظالم سے اپنی جان بچانے کے لیے اسے رقم دی جائے، تو کیا ایسی رقم دینا شرعاً رشوت کے حکم میں آئے گا؟
جواب
جان بچانے کے لیے رشوت دینا جائز ہے، یعنی ایسی صورت میں دینے والا گنہگار نہیں ہوگا، البتہ! لینے والے کے لیے اس کا لینا، ناجائز و حرام ہے، اس لیے وہ گنہگار ہوگا۔ رد المحتار میں ہے ”دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع“ ترجمہ: ظالم حاکم کو اپنی جان یا مال سے ظلم دور کرنے یا اپنا کوئی جائز حق حاصل کرنے کے لیے مال دینا رشوت نہیں، یعنی رقم دینے والے کے حق میں اسے رشوت نہیں کہا جائے گا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 699، مطبوعہ:کوئٹہ)
مزید رد المحتار میں ہے ”ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب“ ترجمہ: جو مال، مال لینے والے کے خوف سے، اپنی جان یا مال کو بچانے کے لیے دیا جائے، وہ دینے والے کے لیے حلال اور لینے والے کے لیے حرام ہے، کیونکہ مسلمان سے ضرر دور کرنا واجب ہے، اور واجب کام کرنے کے عوض مال لینا جائز نہیں۔ (رد المحتار، جلد 08، صفحہ 42، مطبوعہ:کوئٹہ)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”اگر جان مال آبرو کا اندیشہ ہے ان کے بچانے کے لیے رشوت دیتا ہے یا کسی کے ذمہ اپنا حق ہے جو بغیر رشوت دیے وصول نہیں ہوگا اور یہ اس لیے رشوت دیتا ہے کہ میرا حق وصول ہو جائے یہ دینا جائز ہے یعنی دینے والا گنہگار نہیں مگر لینے والا ضرور گنہگار ہے اس کو لینا جائز نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 03، حصہ 16، صفحہ 657، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5232
تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام 1448ھ/14 جولائی 2026ء