ابرو کے درمیان والے بال کاٹنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دونوں ابرو کے درمیان والے بال کاٹنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی عورت کے ماتھے سے نیچے، ناک کی سیدھ میں اوپر کی جانب دونوں ابرو کے درمیان بال ہوں اور وہ برے یا بھدے بھی نہ لگ رہے ہوں، تو کیا فقط خوبصورتی کے لیے یہ بال صاف کرنا، جائز ہے یا ابرو کی طرح ان کو بھی صاف کرنا، ناجائز ہے ؟
جواب
دونوں ابرو کے درمیان والے یہ بال اگرچہ برے اور بھدے نہ لگ رہے ہوں، پھر بھی ان کو کاٹنا اور صاف کرنا، جائز ہے جبکہ ابرو کے بال کٹنے میں ہرگز نہ آئیں اور یہ درمیان کا حصہ بہت چھوٹا سا ہوتا ہے، جس کے بال کاٹنے کی اجازت ہے۔
مسئلے کی تفصیل کے لیے بطورِ تمہید چند باتیں ذہن نشین کر لیجیے کہ
٭ جس چیز کو بالخصوص زینت اختیار کرنے کے معاملے میں شریعت نے جس کو حرام قرار دیا ہے، فقط وہی چیز حرام ہوتی ہے اور جس کو شریعت نے حرام قرار نہیں دیا، وہ جائز ہوتی ہے۔ اس سے زینت اختیار کرنا بھی جائز ہے۔
٭ سب سے پہلے ابرو کی تعریف (Definition) ذہن نشین کر لیجیے کہ ابرو اُن بالوں کو کہتے ہیں جو آنکھ کے اوپر والی ہڈی پر ہوتے ہیں، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ آنکھ کے اوپر ہلالی (چاند کی طرح) لائن والی ہڈی پر اُگنے والوں کو ابرو کہتے ہیں۔ عربی میں اس کے لیے حاجب کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جس کا معنیٰ ہے روکنے والا اور ان بالوں کو حاجب اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ بال سورج کی شعاعوں کو آنکھوں میں جانے سے روکتے ہیں، اس وجہ سے ان کو حاجب (روکنے والا) کہتے ہیں، جبکہ ناک کی سیدھ میں اوپر کی جانب دونوں ابرو کے درمیان جہاں عام طور پر بال نہیں اُگتے، اس حصے کو حاجب نہیں، بلکہ اس کے لیے ”بُلْجَۃ“ یا ”مقطب“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لہٰذا دونوں ابرو کے درمیان اگر کسی کے بال آ جائیں، تو نہ یہ ابرو کی تعریف (Definition) میں داخل ہیں، نہ ہی ان کا مقصد ابرو والا ہے کہ یہ سورج کی شعاعوں کو آنکھوں میں جانے سے روکیں، ایسا بھی نہیں ہے، بلکہ یہ بال خلافِ عادت و غیر فطری اور چہرے کے زائد بالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
٭ چہرے کے بال صاف کرنے کے حوالے سے فقط دو حصوں کی ممانعت وارد ہوئی ہے: (1) مَرد کے لیے داڑھی (2) اور مَرد و عورت دونوں کے لیے ابرو کے بال کاٹنے کی، ان دو حصوں کے علاوہ پورے چہرے کے کسی بھی حصے کے بال کاٹنے کی ممانعت وارد نہیں ہے۔
٭ مَرد کے لیے داڑھی اور مَرد و عورت کے لیے ابرو کے بال کاٹنے کی ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس میں مُثلہ یعنی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی شکل و صورت اور ہیئت کو اس کی فطرت و عادت سے بدلنا ہے اور مثلہ کی ممانعت قرآن و حدیث میں بہت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔
٭ اس ممانعت کی علت (یعنی مثلہ ہونے) پر غور کریں، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان دونوں حصوں پر عام طور پر بال آتے ہیں، یعنی مرد کی داڑھی عام طور پر آتی ہے، اسی طرح مرد اور عورت کے ابرو کے بال عام طور پر ہوتے ہیں، لہٰذا ان کو صاف کرنے اور یہ بال کاٹنے میں اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی شکل و صورت میں تبدیلی کرنا ہوگا اور جس حصے پر فطرتاً اور عادتاً بال نہیں آتے، اگر کسی شخص کے وہاں بال آجائیں، تو ان بالوں کو صاف کرنا نہ مثلہ ہے نہ منع، یہی وجہ ہے کہ اگر عورت کو داڑھی یا مونچھ کے بال آ جائیں، یا مرد کو داڑھی کی حد سے اوپر رخسار پر بال آ جائیں، تو فقہائے کرام علیھم الرحمۃ نے داڑھی کے لغوی معنیٰ کا اعتبار کرتے ہوئے ان بالوں کو داڑھی کی حد سے باہر شمار فرمایا ہے (داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں اور ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے)، اس لیے رخسار کے ان بالوں کو صاف کرنے کی اجازت ہے اور یہ مثلہ اور نماص (بال نوچنے) والی ممانعت میں بھی داخل نہیں ہے۔ اس کی ایک نظیر یہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص کی چھ انگلیاں ہوں، تو اس زائد انگلی کو کاٹ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کاٹنے کی تکلیف کی وجہ سے جان جانے کا خدشہ نہ ہو، تو اس کو بھی فقہائے کرام نے مثلہ میں شمار نہیں کیا، حالانکہ جس کی انگلیاں پوری ہوں، اس کے لیے کسی بھی انگلی کو کاٹنا مثلہ اور ناجائز و حرام ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو عضو عام طور پر نہیں ہوتا، اس زائد عضو کو ختم کرنے میں تغییر لخلق اللہ اور مثلہ نہیں ہے۔
ان تمہیدی باتوں سے ہمارے سوال کا جواب واضح ہوگیا کہ اگر کسی شخص کے دونوں ابرو کے درمیان بال آجائیں، تو یہ بال نہ ابرو میں داخل ہیں، نہ ہی ان کو کاٹنے کی ممانعت وارد ہے اور چونکہ عام طور پر اس حصے پر بال نہیں آتے، اس لیے خلافِ عادت اور غیر فطری ہونے کی وجہ سے ان بالوں کو کاٹنا اور صاف کرنا مثلہ بھی نہیں ہوگا، لہٰذا ان بالوں کو صاف کرنا اور کاٹنا جائز ہے، اس میں حرج نہیں ہے، البتہ ان بالوں کو کاٹتے ہوئے ابرو کے بال نہ کاٹ لیے جائیں، اس چیز کا لازمی خیال رکھنا ہوگا، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ ان بالوں کو صاف نہ کیا جائے، بالخصوص ایسا شخص کہ جس کے ان بالوں اور ابرو کے بالوں کے درمیان کوئی واضح فرق نہ ہو تو اسے بچنا چاہیے، کہیں ان بالوں کو کاٹتے ہوئے ابرو کے بال بھی نہ کاٹ بیٹھے، تاہم اگر پھر بھی کوئی اس احتیاط کے ساتھ ان بالوں کو صاف کرتا ہے کہ ابرو یعنی آنکھوں کے اوپر والی ہڈی پر اگنے والے بال نہیں کاٹتا، تو اس میں حرج نہیں ہے۔
دلائل درج ذیل ہیں:
فقط وہی چیز حرام ہوتی ہے، جس کی ممانعت وارد ہو، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ ۔۔ الخ﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: ”تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے؟“ (پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت 32)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ”آیت میں لفظِ ’’زینت‘‘ زینت کی تمام اقسام کو شامل ہے، اسی میں لباس اور سونا چاندی بھی داخل ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو شریعت حرام نہ کرے، وہ حلال ہے۔حرمت کے لئے دلیل کی ضرورت ہے، جبکہ حلت کے لئے کوئی دلیل خاص ضروری نہیں۔“ ( تفسیرِ صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 303 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ابرو کو عربی میں حاجب کہتے ہیں، جس کی تعریف (Definition) اور اس کی وجہ تسمیہ سے متعلق علامہ مناوی اور علامہ سفیری رحمھما اللہُ لکھتے ہیں: واللفظ للاول ”وهما العظمان فوق العينين بلحمهما وشعرهما أو شعرهما وحده كذا في القاموس وظاهر أن المراد هنا الشعر والبشرة. قال الراغب: والحاجب المانع عن السلطان والحاجبان في الرأس سميا به لكونهما كالحاجبين للعينين في الذب عنهما۔“ ترجمہ: آنکھوں کے اوپر والی دو ہڈیوں کو ان کے گوشت اور بالوں سمیت ابرو کہتے ہیں۔ اسی طرح قاموس میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں مراد بال اور کھال ہیں۔ علامہ راغب نے کہا کہ حاجب سلطان سے لوگوں کو روکنے والے شخص کو کہتے ہیں اور سر میں دونوں ابرو کو بھی حاجب کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں آنکھوں کی حفاظت کرنے میں حاجب (چوکیدار) کی طرح ہیں۔ (فیض القدیر، جلد 1، صفحہ 325، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی طرح مشہور عربی لغت ”لسان العرب“ میں ہے: ” الحاجبان العظمان الذان فوق العینین بلحمھما و شعرھما وقیل: الحاجب الشعر النابت علی العظم، سمی بذالک لانہ یحجب عن العین شعاع الشمس“ ترجمہ: آنکھوں کے اوپر والی دو ہڈیوں کو ان کے گوشت اور بالوں سمیت حاجبان (ابرو) کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابرو ان بالوں کو کہتے ہیں جو اس ہڈی پر اُگتے ہیں، ان بالوں کا نام حاجب اس لیے ہے، کیونکہ یہ آنکھ کو سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 298، مطبوعہ دار صادر، بیروت)
مشہور اردو ڈکشنری ”فیروز اللغات“ میں ابرو کی تعریف (Definition) یوں بیان کی گئی: ”آنکھوں کے اوپر والے ہلالی شکل کے بال“ ( فیروز اللغات، صفحہ 53، مطبوعہ فیروز سنز، کراچی)
دونوں ابرو کے درمیان والی جگہ کو ”بُلجۃ“ کہتے ہیں، چنانچہ لغت کے مشہور امام، امام اصمعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”وفي الحاجبين البلج وهو أن ينقطع الحاجبان فيكون ما بينهما نفيا من الشعر فذلك البلج وذلك الموضع يسمى بلجة، والعرب تستحب البلج وتمدح به ويكرهون الغمم“ ترجمہ: دونوں ابرو کے درمیان ایک (بالوں سے) صاف جگہ ہوتی ہے، جو دونوں ابرو کو الگ الگ کرتی ہے، تو دونوں ابرو کے درمیان بالوں سے خالی جو حصہ ہوتا ہے، وہ بلج ہے اور اس جگہ کو ”بُلجۃ“ کہتے ہیں اور اہل عرب اس خالی حصے کو پسند کرتے ہیں اس کی تعریف کرتے ہیں اور دونوں ابرو کے ملے ہوئے ہونے کو ناپسند کرتے ہیں۔ ( خلق الانسان، صفحہ 180، مخطوطہ)
اسی طرح لغت اور عربی ادب کے امام، ثعالبی نیشاپوری نے لکھا ہے: ”وأما البلج فهو أن تكون بينهما فرجة والعرب تستحب ذلك وتكره القرن وهو اتصالهما“ ترجمہ: بلج اس کو کہتے ہیں، جو دونوں ابرو کے درمیان خالی جگہ ہواور اہل عرب اسے پسند کرتے ہیں، جبکہ قرن کو ناپسند کرتے ہیں اور یہ ہے کہ دونوں ابرو ملے ہوئے ہوں۔ ( فقہ اللغۃ و السر العربیہ، صفحہ 84، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
لسان العرب میں ہے: ”والمُقَطَّبُ والمُقَطِّبُ والمُقْطِبُ مَا بَيْنَ الْحَاجِبَيْنِ“ ترجمہ: دونوں ابرو کے درمیان والی جگہ کو (اعراب کی کچھ تبدیلی کے ساتھ) مقطب کہتے ہیں۔ (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 680، مطبوعہ دار صادر، بیروت)
پورے چہرے میں سے فقط داڑھی اور ابرو کے بال کاٹنے کی ممانعت ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: ترجمہ: اللہ کی لعنت ہے گودنے والیوں پر، گودوانے والیو ”لعن اللہ الواشمات و المستوشمات، و النامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق اللہ“ ں پر، بال اکھیڑنے والیوں پر، بال اکھڑوانے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے (دانتوں میں) کشادگی کروانے والیوں پر، (یہ سب) اللہ پاک کی تخلیق کو بدلنے والی ہیں۔ (صحیح ا لمسلم، جلد 3 ، صفحہ 1678 ، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
یہ ممانعت ابرو کے بالوں کے متعلق ہے، جیسا کہ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ ”نامصہ“ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”والنامصة: التي تنقش الحاجب حتى ترقه“ ترجمہ: نامصۃ وہ عورت ہے کہ جو ابرو کے بالوں کو باریک کرنے کے لیے تراشتی ہے۔ (سنن ابی داؤد، اول کتاب الترجل، باب فی صلۃ الشعر، جلد 6، صفحہ 246، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ، بیروت)
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ فتح القدیر کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”ولعن في الحديث «النامصة والمتنمصة» والنامصة هي التي تنقص الحاجب لتزينه“ ترجمہ: اور حدیث پاک میں بالوں کو نوچنے والی اور نوچوانے والی پر لعنت کی گئی ہے اور نَامِصَۃ (نوچنے والی) اس عورت کو کہتے ہیں، جو ابرو کو باریک کرنے کے لیے اسے تراشتی ہے۔ (البحر الرائق، کتاب البیع، جلد 6، صفحہ 88، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی، بیروت)
اس حدیثِ پاک کے تحت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں: ”یعنی جو عورت بھنووں کے بال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بناتی ہے، اس پر لعنت ہے۔“ ( بھار شریعت، حصہ 16، جلد 3، صفحہ 595، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
یہ ممانعت کا حکم فقط ابرو کے بالوں کے ساتھ ہی خاص ہے، جیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں اور امام قسطلانی رحمھما اللہُ ارشاد الساری میں لکھتے ہیں: واللفظ للاول ”النماص يختص بإزالة شعر الحاجبين لترقیهما أو تسويتهما قال أبو داؤد في السنن النامصة التي تنقش الحاجب حتى ترقه“ ترجمہ: نماص (بالوں کو نوچنا) ابرو کے بالوں کو باریک یا برابر کرنے کے لیے اکھیڑنے کے ساتھ خاص ہے۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بالوں کو نوچنے والی سے وہ عورت مراد ہے کہ جو ابرو کے بال باریک کرنے کے لیے تراشتی ہے۔ (فتح الباری، باب المتنمصات، جلد 10، صفحہ 377، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت)
چہرے کے زائد بالوں کو صاف کرنے کے بارے میں ایک عورت نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: ”ياام المؤمنين، ان فی وجهی شعرات افأنتفهن اتزين بذلك لزوجی؟ فقالت عائشة: اميطی عنك الاذى“ ترجمہ: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا! میرے چہرے پر بال اُگ آئے ہیں، تو کیا میں انہیں صاف کر سکتی ہوں، تاکہ اس کے ذریعے شوہر کے لئے زینت اختیار کروں؟ تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: تو اپنے سے ایذاء دینے والی چیز کو ختم کر سکتی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب اذا کانت المراۃ اقرا من الرجال، جلد 3، صفحہ 146، مطبوعہ بیروت)
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”لو کان فی وجھھا شعر ینفر زوجھا عنھا بسببہ ففی تحریم ازالتہ بعد لأن الزینۃ للنساء مطلوبۃ للتحسین (الی ان قال) اذا نبت للمرأۃ لحیۃ أو شوارب فلا تحرم ازالتہ بل تستحب .و فی التاترخانیۃ عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبین و شعر وجھہ ما لم یشبہ المخنث اھ . ملخصا“ ترجمہ: اگر عورت کے چہرے پر بال ہوں، تو اس کی وجہ سے شوہر کو بیوی سے نفرت ہوگی، لہٰذا ان بالوں کے صاف کرنے کو حرام قرار دینے میں دوری ہے، کیونکہ عورتوں کے لیے زینت، خوبصورتی کے لئے مطلوب (طلب کی گئی) ہے (یہاں تک کہ مزید فرمایا) جب عورت کی داڑھی یا مونچھیں نکل آئیں تو ان کو دور کرنا حرام نہیں بلکہ مستحب ہے۔ اور تاترخانیہ میں مضمرات کے حوالے سے ہے: اور دونوں ابرو اور چہرے کے بال لینے (کاٹنے) میں کوئی حرج نہیں جب تک ہیجڑے سے مشابہت نہ ہو۔ ( رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی النظر و المس، جلد 9، صفحہ 615، مطبوعہ کوئٹہ)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ”وتحسين وجه المرأة يكون بتنقيته من الشعر النابت فی غير اماكنه، فيستحب لها ازالته عند الحنفية“ ترجمہ: عورت کا چہرےکو خوبصورت بنانا اس طرح کہ چہرے سے ان بالوں کو صاف کرنا جو اُگنے کی جگہ پر نہ اُگے ہوں، عورت کا ان بالوں کو زائل کرنا احناف کے نزدیک مستحب ہے۔ ( الموسوعۃ الفقھیہ الکویتیہ، تحسین الھیئۃ، جلد 10، صفحہ 215، مطبوعہ کویت )
شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ داڑھی کی حد اور پھر رخسار کے بالوں کا داڑھی کی حد سے خارج ہونے سے متعلق فرماتے ہیں: ”داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے، جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں، وہ داڑھی سے خارج ہیں، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں۔ یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں، اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے، یہ بال اس راہ سے جداہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ، ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیحِ صورت ہوتی ہے، جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں ۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 596، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے: ”عورت کو داڑھی یا مونچھ کے بال نکل آئیں تو ان کا نوچنا جائز بلکہ مستحب ہےکہ کہیں اس کے شوہر کو اس سے نفرت نہ پیدا ہو۔“ (بھار شریعت، جلد 3 ، صفحہ 449 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Aqs-2982
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ/27 جولائی 2026ء