کیا جائز کاروبار بدھ کے دن شروع کرنا چاہئے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جائز کاروبار بدھ کے دن شروع کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا جائز کاروبار بدھ کے دن شروع کرنا چاہئے؟
جواب
جائز کاروبار درست طریقے سے ہو تو کسی بھی دن شروع کرنا شرعاً جائز ہے۔ جائز کام شروع کرنے کے لئے کوئی دن منحوس نہیں۔ البتہ بدھ کے دن سے کام کا آغاز کرنے کی صورت میں کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی امید ہے۔
الاسرار المرفوعہ اورکشف الخفا میں ہے: ”ما بدئ بشئ يوم الأربعاء إلا تم “ یعنی جو چیز بدھ کو شروع کی جائے وہ پوری ہوتی ہے۔ (کشف الخفا، جلد2، صفحہ 211، مکتبۃ العلم الحدیث)
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”وقد اعتمد من أئمتنا صاحب الهداية على هذا الحديث وكان يعمل به في ابتداء درسه“ یعنی ہمارے ائمہ میں سے صاحبِ ہدایہ نے اس حدیث پر اعتماد کیا اور وہ درس کی ابتدا کرنے کے معاملہ میں اس پر عمل کیا کرتے تھے (الاسرار المرفوعۃ، صفحہ 191، مطبوعہ:بیروت)
جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کتاب کی ابتداء بدھ کے دن سے شروع کرنے کے ثبوت کے متعلق ہونے والے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”حدیث میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مامن شیئ بدا یوم الاربعاء الاتم (یعنی جو چیز بدھ کے دن شروع کی جاتی ہے وہ اتمام کو پہنچتی ہے۔)“ (فتاوی رضویہ،جلد 27، صفحہ 43۔44، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2482
تاریخ اجرا: 09شعبان المعظم1447ھ/29جنوری2026ء