امفالوسل کی وجہ سے اسقاط حمل کروانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بچے کو Omphaloceleبیماری کی وجہ سے حمل ضائع کروا سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں حمل ضائع کروانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا سخت ناجائز و گناہ ہے۔
تفصیلِ مسئلہ یہ ہے کہ: اگر حمل کو ٹھہرے ہوئے چار مہینے (یعنی 120 دن) مکمل ہو گئے ہوں، تو اسے ساقط (یعنی ضائع کروانا) ناجائز و حرام، اور ایک زندہ جان کا قتل ہے، کہ چار مہینے مکمل ہونے تک بچے کے اعضا بن جاتے ہیں اور اس حمل میں روح پھونک دی جاتی اور جان پڑ جاتی ہے۔ البتہ چار مہینے مکمل ہونے سے پہلے اگر حمل ضائع کروانے کی کوئی صحیح قابلِ اعتبار مجبوری و ضرورت ہو تو اسقاط حمل کی گنجائش ہے۔ مثلاً: پہلے سے دودھ پیتا بچہ موجود ہے، اور حمل کی وجہ سے دودھ خشک ہو جائے گا، اور بچے کے لئے ماں کے دودھ کے متبادل کوئی اور غذا بھی ممکن نہ ہو، اور اس وجہ سے اس دودھ پینے والے بچے کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہو گا یا اس کی پرورش میں شدید حرج ہو گا۔ یا ماں کی صحت اتنی کمزور ہو کہ نئے بچے کی پیدائش سے دونوں میں سے کسی ایک کی جان کو شدید خطرہ ہوگا اور ان صورتوں میں اگر حمل ٹھہرے ہوئے چار مہینے ابھی مکمل نہ ہوئے ہوں تو ایسی سخت مجبوری کی صورت میں حمل ساقط کروانے کی شرعاً اجازت ہے، اور کوئی صحیح قابلِ اعتبار کوئی مجبوری و ضرورت نہ ہو تو ایک دن کا حمل ضائع کروانے کی بھی اجازت نہیں، بلکہ ناجائز و گناہ ہے۔ اور سوال میں بیان کردہ صورتحال کے مطابق نہ تو کوئی ایسی شرعی مجبوری ہے جس کے سبب حمل گرانے کی شرعاً اجازت ہو، بالفرض اگر کوئی مجبوری ہوتی تو بھی چونکہ حمل کو چار مہینے ہوچکے ہیں، لہذا مذکورہ صورت میں بہرحال شرعاً لازم ہے کہ اس حمل کو ضائع کروانے یعنی ناحق قتل کے ناجائز و گناہ بھرے کام سے بچا جائے۔
خیال رہے کہ الٹراساؤنڈکی رپورٹ کے مطابق بچے کی آنتوں وغیرہ کا پیٹ سے کچھ باہر ہونے کاجو مسئلہ سامنے آرہاہے، اولاً تو اس رپورٹ کا واقعۃً صحیح ہونا یقینی نہیں ہے، کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ الٹراساؤنڈ رپورٹ کچھ اور بتارہی ہوتی ہے لیکن بچے کی پیدائش کے بعد اس میں وہ مسئلہ ہوتا ہی نہیں جو الٹراساؤنڈ رپورٹ میں بتایا جارہا ہوتا ہے۔ اور بالفرض! اگر یہ رپورٹ درست مان بھی لی جائے تو بھی وضع حمل(Delivery) کا ابھی بقیہ جتنا عرصہ باقی ہے اس دوران امکان ہے کہ بچے کو لاحق یہ نقص صحیح ہوجائے۔ بالفرض! اس عرصے میں بھی اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوتو بھی حمل ضائع کروانے کی اجازت نہیں ہوگی، کہ بیشتر صورتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد بھی اس نقص اومفالوسیل (Omphalocele) کا بذریعہ سرجری(Surgery) علاج ممکن ہوتا ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: إن أحدکم یجمع خلقہ فی بطن أمہ أربعین یوما ثم یکون علقۃ مثل ذلک ثم یکون مضغۃ مثل ذلک ثم یبعث اللہ ملکا فیؤمر بأربع کلمات ویقال لہ اکتب عملہ و رزقہ و أجلہ و شقی أو سعید ثم ینفخ فیہ الروح‘‘ بے شک تم میں سے ہر ایک کا مادہ خلقت اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رکھا جاتا ہے، پھر اسی کی مثل (یعنی چالیس دن میں )علقہ( جماہواخون) بن جاتا ہے، پھر اسی کی مثل (یعنی چالیس دن میں) گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ پاک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چارباتو ں کا حکم دیاجاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس (حمل)کا عمل، رزق، عمر، اور شقی یا سعید ہونا لکھ دے، پھر اس (حمل) میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ (الصحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، جلد 01، صفحہ 456، مطبوعہ کراچی)
درج بالا حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی مایہ ناز شرح عمدۃ القاری میں ارشاد فرماتے ہیں: وقت نفخ الروح عقيب الأربعين الثالثة حتى يكمل له أربعة أشهر“ یعنی روح پھونکے جانے کا وقت تیسرے چالیس دنوں کے بعد ہے جب اس (حمل) کے چار مہینے مکمل ہو جائیں۔ (عمدۃ القاری، جلد 3، صفحہ 435، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
خاتم المحققین، علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رد المحتار علی الدر المختار میں ارشاد فرماتے ہیں: اتفق العلماء على أن نفخ الروح لا يكون إلا بعد أربعة أشهر أي عقبها كما صرح به جماعة“ یعنی علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حمل میں روح چار مہینے کے بعد ہی پھونکی جاتی ہے، جیسا کہ ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 550، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: چارمہینے میں بچہ بن جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 201، مطبوعہ لاہور)
صحیح مجبوری و ضرورت کے بغیر چار ماہ سے کم کا حمل گرانا بھی ناجائز و گناہ ہے۔ چنانچہ فتاوی قاضی خان میں ہے: و اذا اسقطت الولد بالعلاج ۔ ۔ ۔ ان لم یستبن شئ من خلقہ ۔ ۔ ۔ فلا اقلّ من ان يلحقها اثم ھهنا اذا اسقطت بغير عذر ، الّا لا تأثم اثم القتل“ دوا کے ذریعے عورت کا حمل ساقط کروانا، اگرچہ بچے کے اعضاء نہ بنے ہوں (یعنی اس میں جان نہ پڑی ہو)، اس کا کم سے کم حکم یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری کے بغیر حمل ساقط کروایا، تو عورت گنہگار ہو گی، البتہ اس صورت میں قتل والا گناہ نہیں ہو گا۔(ملتقطاً) (فتاوی قاضی خان، جلد 3، صفحہ 312، مطبوعہ کراچی)
در مختار میں ہے: و یکرہ ان تسقی لاسقاط حملھا وجاز لعذر حیث لا یتصور“ حمل ساقط کروانے کے لیے عورت کو دوائی پلانا مکروہ ہے اور مجبوری ہو، تو بچے کی شکل بننے (یعنی اس میں جان پڑنے) سے پہلے جائز ہے۔
در مختار کے الفاظ "جاز لعذر" کے تحت خاتم المحققین، علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: کالمرضعۃ اذا ظھر لھا الحبل و انقطع لبنھا و لیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ھلاک الولد ، قالوا : یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام الحمل مضغۃ او علقۃ ولم یخلق لہ عضو و قدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لانہ لیس بآدمی و فیہ صیانۃ الآدمی، خانیۃ“ جیسا کہ پہلے سے موجود بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو حمل ٹھہر جائے اور اس کا دودھ خشک ہو جائے اور بچے کے باپ کے پاس اتنا مال نہ ہو، جس سے کسی دایہ (دودھ پلانے والی) کو تنخواہ پر رکھ سکے اور (پہلے والے) بچے کے فوت ہو جانے کا خوف ہو، تو فقہائے کِرام فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے (اس مجبوری میں) حمل ساقط کروانا، جائز ہے، بشرطیکہ وہ گوشت کی بوٹی یا جما ہوا خون ہو اور اس کا کوئی عضو نہ بنا ہو اور فقہا نے اس کی مدت ایک سو بیس دن مقرر کی ہے، کیونکہ اس (مدت) سے پہلے تک وہ حمل آدمی نہیں اور ایسا کرنے میں پہلے سے موجود آدمی (زندہ بچے) کی جان بچانا پایا جا رہا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الإباحۃ، جلد 9، صفحہ 709، مطبوعہ کوئٹہ)
محقق مطلق، فقیہ النفس، امامِ اہل سنت ،سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: جان پڑ جانے کے بعد اسقاطِ حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے، اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہے، تو حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 207، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسقاطِ حمل کے لیے دوا استعمال کرنا یا دائی سے حمل ساقط کرانا منع ہے۔ بچہ کی صورت بنی ہو یا نہ بنی ہو، دونوں کا ایک حکم ہے۔ ہاں! اگر عذر ہو مثلاً: عورت کے شِیر خوار (دودھ پیتا) بچہ ہے اور باپ کے پاس اِتنا نہیں کہ دایہ مقرر کرے یا دایہ دستیاب نہیں ہوتی اور حمل سے دودھ خشک ہو جائے گا اور بچہ کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے ، تو اس مجبوری سے حمل ساقط کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اعضا نہ بنے ہوں اور اس کی مدت ایک سو بیس دن ہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 16، صفحہ 507، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاویٰ فیض الرسول میں ہے: چار مہینہ میں جان پڑجاتی ہے اور جان پڑجانے کے بعد حمل ساقط کرنا حرام ہے، اور ایسا کرنے والا گویا کہ قاتل ہے۔ اور جان پڑنے سے پہلے اگر ضرورت ہوتو حرج نہیں۔ (فتاویٰ فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 552، مطبوعہ، لاہور)
فتاویٰ بحر العلوم میں ہے: بغیر کسی شدید قسم کی شرعی ضرورت (مثلاً عورت کی ہلاکت کا خطرہ ہو) یا استقرار کی وجہ سے دودھ پینے والے بچہ کی جان کو اندیشہ ہو، اسقاطِ حمل ناجائز وگناہ ہے، بالخصوص اس صورت میں کہ بچے کے اعضاء بن چکے ہوں۔ ایسا مشورہ دینے والوں کو توبہ کرنا چاہیے۔ (فتاوی بحرالعلوم، جلد 2، صفحہ608، مطبوعہ لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: FMD-4843
تاریخ اجراء: 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء