logo logo
AI Search

خمیر سے تیار کردہ بریڈ اور نان کھانا کیسا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خمیر سے تیار کردہ چیزیں بریڈ اور نان وغیرہ کھانا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خمیر (Yeast) سے تیار کردہ کھانے کی اشیاء مثلاً بریڈ اور نان وغیرہ کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ اگر جائز ہے تو کس وجہ سے؟ جبکہ خمیر سے ہر کھانے میں الکحل بن جاتی ہے اور اس کی کچھ نہ کچھ مقدار ضرور رہتی ہے۔ مجھے پتا ہے کہ اصلاً Yeast تو پاک ہے اور اگر قدرتی طور پر Fermentation (تخمیر) ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں جیسے پھلوں میں کیونکہ وہ قدرتی ہے لیکن جب آپ خود اپنے ہاتھ سے ایک چیز جو الکحل بناتی ہے وہ کھانے میں ڈالتے ہیں تو وہ قدرتی کیسے ہو سکتی ہے؟ نیز بیئر (Beer) اور نبیذ بھی تو Yeast fermentation (تخمیر) سے بنائی جاتی ہے تو یہ ناجائز کیوں ہے اور Bread اور Naan وغیرہ میں یہ کیوں جائز ہے؟

جواب

خمیر (Yeast) سے تیار کردہ اشیاء مثلاً بریڈ اور نان وغیرہ کا کھانا، جائز ہے جبکہ وہ نشہ آور نہ ہوں اور ان میں کسی حرام یا نجس چیز کی ملاوٹ نہ کی گئی ہو۔ کیونکہ خمیر (Yeast) بھی جب پاک و حلال ہے اور آٹا اور بریڈ کی ڈو (Dough) وغیرہ بھی اپنی ذات میں پاک و حلال اشیاء ہیں تو پاک و حلال اجزاء کے باہم ملا دینے سے مجموعہ بھی پاک و حلال ہی رہے گا۔ محض ان کے جمع ہونے کی وجہ سے حرمت لازم نہیں آئے گی۔

رہا یہ معاملہ کہ خمیر (Yeast) کے عمل سے کچھ مقدار میں الکوحل پیدا ہو جاتی ہے تو الکوحل کا پیدا ہونا اس وقت ممانعت کا سبب بنتا ہے جب وہ چیز نشہ آور بن جائے۔ ورنہ اگر خمیر کی وجہ سے معمولی مقدار میں الکوحل پیدا ہو اور مجموعی طور پر وہ چیز نشہ آور نہ بنے تو وہ چیز حلال اور پاک ہی رہتی ہے۔ جیسا کہ نبیذ کا معاملہ ہے کہ جب تک اس میں نشہ پیدا نہ ہو تو وہ اپنے اصل حکم پر ہی رہتی ہے، یعنی اس کا پینا حلال ہی ہوگا اگرچہ اس میں معمولی الکوحل پیدا ہو چکی ہو۔ لیکن جب تخمیر اس حد تک پہنچ جائے کہ اس نبیذ میں نشہ پیدا ہو جائے تو اب یہ نبیذ پینا منع ہو جاتا ہے۔

لہذا بریڈ اور نان وغیرہ میں تخمیر کے عمل سے جو الکوحل پیدا ہوتی ہے وہ اتنی کم مقدار میں ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے خمیر شدہ آٹا / بریڈ کی ڈو (Dough) وغیرہ نشہ آور نہیں ہوتے، اس لئے وہ حلال ہی رہیں گے۔ نیز یہ روٹی اور بریڈ وغیرہ کو جب تندور یا اوون (Oven) وغیرہ میں پکایا جاتا ہے، تو تقریباً تمام الکوحل ختم ہو جاتی ہے۔ لہذا اس طور پر بھی یہاں حرمت پیدا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں بنتا۔ ہاں اگر کہیں روٹی یا بریڈ وغیرہ تیار ہونے کے بعد باہر سے اضافی طور پر الکوحل شامل (Add) کی جائے تو اس کے حکم کی تفصیل جدا ہوگی۔

اس تفصیل سے بیئر (Beer) اور بریڈ میں فرق واضح ہو گیا کہ بیئر (Beer) میں تخمیر کا عمل اس حد تک پہنچایا جاتا ہے کہ وہ مشروب نشہ آور بن جاتی ہے جبکہ بریڈ اور نان میں تخمیر سے پیدا ہونے والی معمولی مقدار کی الکوحل نشہ آور نہیں ہوتی، ان میں خمیر کا مقصد نشہ پیدا کرنا نہیں بلکہ محض آٹے کو پُھلانا ہوتا ہے۔

نیز آپ کا قدرتی اور غیر قدرتی ”Fermentation“ کا فرق کرنا اور یہ کہنا کہ پھلوں میں خود بخود ہونا قدرتی ہے اور ہاتھ سے خمیر ڈالنا غیر قدرتی ہے، یہ درست نہیں ہے؛ کیونکہ الکحل بننے کا کیمیائی عمل ایک ہی ہے اور یہ قدرتی اور طبعی عمل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک جگہ انسان نے خود خمیر ڈال کر یہ عمل شروع کروایا اور دوسری جگہ یہ عمل قدرتی طور پر شروع ہوا۔ لیکن یہ فرق حکم کی بنیاد نہیں ہے۔ بلکہ حرمت کے حکم کی بنیاد، چیز کا نشہ آور ہونا ہے، چاہے وہ انسانی عمل کے ذریعے ہو یا مکمل طور پر قدرتی طریقے سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تاڑی وغیرہ جب درختوں سے اتاری جائے اور نشہ آور ہو جائے تو اس کا پینا حرام ہے اگرچہ یہاں کوئی انسانی عمل دخل نہیں ہے۔

اب متعلقہ جزئیات اور عباراتِ علماء ملاحظہ فرمائیں:

جب دو حلال اور پاک اجزاء آپس میں ملتے ہیں تو محض ان کے جمع ہونے سے حرمت لازم نہیں آتی، جب تک اس سے کسی ناپاک اور حرام چیز کا بننا ثابت نہ ہو؛ کیونکہ اشیاء میں اصل اباحت و طہارت ہے۔ چنانچہ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ میں ہے: الأصل في الأشیاء الطھارۃ لقولہ سبحٰنہ وتعالٰی ﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا﴾.... والیقین لایزول بالشک والظن بل یزول بیقین مثلہ وھذا أصل مقرر في الشرع منصوص علیہ في الأحادیث مصرح بہ في کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم أرفیہ مخالفا من أحد من العلماء أصلاً.“ ملتقطا ترجمہ: اشیاء میں اصل طہارت ہے، کیونکہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ”وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔“، اور یقین شک اور گمان سے زائل نہیں ہوتا بلکہ اپنے جیسے یقین سے ہی زائل ہوتا ہے۔ یہ اصول شرع میں ثابت شدہ ہے۔ احادیث میں اس کی تصریح ہے اور احناف، شوافع اور دیگر فقہاء کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے، میں نے اس میں کسی کو اختلاف کرتے نہیں پایا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، جلد 05، صفحہ 464-466، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اعلی حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”شریعتِ مطہرہ میں طہارت وحلّت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک وظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 476، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

خمیر (Yeast) کے عمل سے کچھ مقدار میں الکوحل پیدا ہو جاتی ہے، تو محض الکحل کا پیدا ہونا حرمت کا سبب نہیں، بلکہ اس وقت حرمت کا حکم لگے گا جب وہ چیز نشہ آور بن جائے۔ چنانچہ اعلی حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”شراب کاشراب ہونا جوش آنے اورنشے لانے کی حالت پرموقوف ہے، دوائیں اگرسڑائی جائیں اور ان میں نشہ لانے کاجوش نہ پیداہو تو وہ شراب نہ ہوں گی جیسے بعض مصفّٰی عرقوں میں ادویہ کی تعفین(تخمیر) کی جاتی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 106، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

انگور کے شیرے میں جب تک جوش و نشہ نہ آئے تو تب تک وہ شراب نہیں بنتا، بلکہ حلال ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے: ”والعصير حلال شربه ما لم يغل ويقذف بالزبد، فإذا صار كذلك: كان خمرا“ ترجمہ: انگور کا شیرہ پینا حلال ہے، جب تک وہ جوش نہ پیدا کرے اور جھاگ نہ چھوڑے، پس جب وہ ایسا ہو جائے تو وہ خمر بن جاتا ہے۔ (شرح مختصر الطحاوي للجصاص، جلد 06، صفحہ 385، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

حرمت وناپاکی کا اصل مدارنشہ آور ہونے پر ہے، چاہے تخمیر کا عمل قدرتی ہو یا کسی انسان کے عمل سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تاڑی وغیرہ جب درخت سےاتاری جائے اور مخصوص وقت کے بعد نشہ آور ہو جائے تو اب وہ حرام اور ناپاک ہے۔ حالانکہ یہاں تخمیر کا عمل قدرتی طور پر ہو رہا ہے۔ چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تاڑی کے رس کےمتعلق ارشاد فرماتے ہیں: ”تاڑی فی نفسہ ایک درخت کاعرق ہے۔ جب تک اس میں جوش وسکر نہ آئے طیب وحلال ہے، جیسے شیرۂ انگور۔ لوگوں کا بیان ہے کہ اگر کورا گھڑا وقت مغرب باندھیں اور وقت طلوع اتار کر اسی وقت استعمال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا۔ اگر یہ امر ثابت ہو تو اس وقت تک وہ حلال و طاہر ہوتی ہے۔ جب جوش لائے ناپاک وحرام ہوئی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 640، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فقہائے کرام کی عبارات سے ثابت ہے کہ ہر خمیر شدہ چیز خمر یعنی نشہ آور نہیں ہوتی۔ اسی لیے دودھ اور آٹے کو خمیر کرنے کا عمل درست ہے۔ چنانچہ التجريد للقدوری میں ہے: ”وليس كل مخمر خمرا، لأن اللبن يخمر والعجين يخمر“ ترجمہ: اور ہر وہ چیز جو خمیر کی جاتی ہے، وہ خمر نہیں ہوتی، کیونکہ دودھ کو اور آٹے کو بھی تو خمیرکیا جاتا ہے۔ (التجريد للقدوري، جلد 12، صفحہ 6086، دار السلام، القاھرۃ)

اشکال: آپ کی گفتگو سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ حکم کا مدار نشہ ہونے اور نہ ہونے پر موقوف ہے، اس اعتبار سے تو نان الکوحلک بیئر (Non-alcoholic beer) بھی حلال ہونی چاہئے کہ وہ نشہ آور نہیں ہوتی، حالانکہ اس کا پینا حرام ہے۔

جواب: بے شک مدارِ حکم نشہ آور ہونے، نہ ہونے پر ہے، لیکن نان الکوحلک بیئر (Non-alcoholic beer) کا معاملہ یہ ہے کہ اسے پہلے مرحلے میں اس حد تک پروسس کیا جاتاہے کہ وہ نشہ آور بن جاتی ہے، جب نشہ آور بن گئی تو وہ ناپاک بھی ہوگئی۔ پھر اس کے بعد مخصوص طریقے سے اس میں موجود الکوحل کو نکال لیا جاتا ہے جس سے وہ نشہ آور تو نہیں رہتی لیکن ناپاک ضرور رہتی ہے کہ وہ شراب بن چکی تھی اب صرف اس وجہ سے اسے پاک اور حلال نہیں کہہ سکتے کہ وہ نشہ آور نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ شراب میں ایک گلاس پانی ملا لیا جائے تو اب اگرچہ وہ نشہ آور نہیں لیکن ناپاک ضرور ہے لہذا اس کا پینا ناجائز و حرام ہی ہوگا۔

علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں: ”لو وقعت قطرة منها في الماء الغير الجاري، أو ما في حكمه نجسته، وإن استهلكت فيه وصار ماء وكذا لو وقعت في قدر الطعام نجسته، وإن صارت طعاما.“ ترجمہ: اگر شراب کا ایک قطرہ غیر جاری پانی میں گر جائےیا ایسے پانی میں گرے جو غیر جاری کے حکم میں ہو تو وہ قطرہ اس سارے پانی کو نجس کر دے گا، اگرچہ وہ اس پانی میں (بظاہر) بالکل ختم ہو کر پانی بن چکا ہے۔ اسی طرح اگر ایک قطرہ کھانے میں گرا تو اسے بھی نجس کر دے گا، اگرچہ وہ بھی اس میں گر کر کھانا ہی ہوگیا ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 06، صفحہ 450، دار الفکر، بیروت)

نوٹ: نان الکوحلک بیئر (Non-alcoholic beer) کے متعلق تفصیلات کے لئے درج ذیل لنک پر موجود فتوے کا مطالعہ کیجئے۔

https://www.fatwaqa.com/ur/fatawa/halal-haram/non-alcoholic-beer-ya-0-0-beer-peena

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب:محمد ساجد عطاری

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: NRL-0560

تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام 1448ھ/14 جولائی 2026ء