logo logo
AI Search

امانت کے پیسے قرض دینا جائز ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امانت رکھوائے گئے پیسوں سے کسی کو قرض دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے والد صاحب نے میرے پاس اپنی رقم امانت کے طور پر رکھوائی ہے، جس میں سے میں والد کی اجازت سے اپنے لیے خرچ بھی کر لیتا ہوں، میرے ایک رشتہ دار ہیں، وہ بہت مجبور ہیں، اور قرض مانگ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک دو ماہ تک ہم آپ کو واپس کر دیں گے، تو کیا میں والد صاحب کے پیسوں میں سے انھیں قرض دے سکتا ہوں؟

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق آپ اس رقم سے اپنے والد صاحب کی اجازت کے بغیر قرض نہیں دے سکتے؛ کیونکہ یہ رقم آپ کی ملکیت میں نہیں، بلکہ والد نے بطور امانت آپ کے پاس رکھوائی ہے، اور امانت کی رقم سے کسی کو قرض دینا جائز نہیں ہوتا۔ رہا! آپ کا استعمال تو وہ بھی والد صاحب کی اجازت پر موقوف ہے جس سے ظاہر ہے کہ پوری رقم میں تصرف کی آپ کو اجازت نہیں، بلکہ صرف اپنی ضرورت کے مطابق اجازت لے کر استعمال کرتے ہیں، لہذا جس قدر وہ اجازت دیں گے، بس اتنی ہی استعمال کرنا آپ کے لیے جائز ہوگا، باقی حسب سابق امانت ہی رہے گی۔ فتاوی رضویہ میں ہے "کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہو حرام و خیانت ہے توبہ و استغفار فرض ہے اور تاوان لازم۔" (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 489، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں چندے کی رقم کسی کو بطور قرض دینے کے متعلق سوال ہوا تو اس کے جواب میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا:

"مہتممان انجمن نے اگر صراحۃ بھی اجازت دے دی ہو کہ تم جب چاہنا صرف کر لینا پھر اس کا عوض دے دینا، جب بھی نہ سیٹھ کو تصرف جائز نہ مہتمموں کو اجازت دینے کی اجازت تو مہتمم مالک نہیں۔ اور قرض تبرع ہے اور غیر مالک کو تبرع کا اختیار نہیں، ہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 166، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5302

تاریخ اجراء: 27 صفر المظفر 1448ھ/11 اگست 2026ء