کیا قرعہ اندازی والی عمرہ اسکیم جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قرعہ اندازی والی ایک عمرہ اسکیم کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سوال میں بیان کردہ اسکیم جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، کیونکہ مخصوص رقم جمع کروانے کے بعدقرعہ اندازی میں جس کا نام آئے گا اس کو عمرے کا ٹکٹ دیاجائے گاجبکہ بقیہ لوگوں کی رقم ضائع ہوجائے گی اور یہی جُوا ہے جو کہ بلا شبہ ناجائز وحرام ہے، قرآن و حدیث میں اس کی سخت مذمت ووعیدات بیان کی گئی ہیں۔ ایسی اسکیم کو ختم کرنا لازم ہے، ورنہ جتنے بھی افراد اس میں شامل ہوں گے انہیں گناہ ملے گا اور ان سب کے برابراسکیم شروع کرنے والے کو ملے گا۔
جوئے کے ناجائز و حرام اور بہت بڑے گناہ ہونے کے بارے میں رب تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ- قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘- وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تم فرمادو: ان دونوں میں کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ دنیوی منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے۔“ (پارہ 02، سورۃ البقرۃ: 219)
مزید ارشاد باری تعالی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَ زْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجَمہ کنز العرفان: ”اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ (پارہ 70، سورۃ المائدۃ: 90)
مسند احمد کی حدیث پاک ہے: ’’عن ابن عباس، عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: إن اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر و الکوبۃ و قال کل مسکر حرام‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عباس، جلد 4، صفحہ 381، رقم الحدیث: 2625، مؤسسة الرسالة، بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے: ”القمار من القمر الذی يزاد تارة، وينقص اخرى، وسمي القمار قمارا لان كل واحد من المقامرين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه، و يجوز ان يستفيد مال صاحبه۔ ۔ ۔ و هو حرام بالنص“ ترجمہ: قمار قمر سے مشتق ہے، جو کبھی بڑھتا ہے اور کبھی کم ہوتا ہے، قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ جوئے بازی کرنے والو ں میں سے ہر ایک کیلئے یہ امکان ہوتا ہے کہ اس کا مال، دوسرے کے پاس چلا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے کا مال حاصل کرلے، اور یہ نص کی وجہ سے حرام ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 6، صفحه 227، مطبوعه قاهرة)
مجلس افتاء (دعوت اسلامی) کی کتاب بنام ’’جوئے کی رائج صورتیں اور احکام‘‘ میں ہے: ’’عمرہ کے ٹکٹ، بغداد شریف یا اجمیر شریف حاضری و غیرہ مختلف مقدس ناموں سے قرعہ اندازی کی جاتی ہے اور سو روپے یا اس سے کچھ کم ، زیادہ رقم فی پر چی وصول کی جاتی ہے اور یہ طے ہوتا ہے کہ پرچی میں جس کا نام نکل آیا، اُسے عمرہ وغیرہ کا ٹکٹ دیا جائے گا اور جن کا نام نہ نکلا، ان کی رقم ضائع ہو گئی یعنی واپس نہیں کی جائے گی، یہ بھی جوا کی صورت ہے، کیونکہ ہر حصہ لینے والے شخص کے متعلق یہ امکان ہے کہ جیتنے کی صورت میں عمرہ و غیرہ کے ٹکٹ کے طور پر دوسروں کا مال اس کے پاس آجائے گا اور ہارنے کی صورت میں اپنی رقم دوسرے کے پاس چلی جائے گی۔ نیز جوا کے باوجود عمرہ کمیٹی وغیرہ کے مقدس نام پر ایسا کام کرنا اور زیادہ شنیع و قبیح ہے کہ اس پُر فریب نام کے دھوکے میں مبتلا ہو کر سادہ لوح عوام جوئے والے پہلو سے غافل ہو جاتی ہے اور ثواب کا کام سمجھتے ہوئے شمولیت اختیار کر لیتی ہے، لہذا یہ جوا کی دیگر صورتوں سے زیادہ بری ہے۔
فتاوی بحر العلوم میں ہے: ”(قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کے لیے) معاوضہ میں روپے کی جگہ سامان یا حج و زیارت رکھنا یا اس کا نام انعام رکھ دینے سے شے کی حقیقت نہیں بدلے گی۔ جوئے میں یہی ہوتا ہے کہ زائد رقم کی امید میں ہر آدمی اپنی رقم لگاتا ہے، مگر پوری رقم وہ لیتا ہے جس کا پانسہ آتا ہے۔“ (جوئے کی رائج صورتیں اور احکام، صفحہ 52، مجلس افتا دعوت اسلامی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1298
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء