مرد کو سرخ رنگ کے کپڑے پہننا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مرد کے لیے سرخ رنگ کے کپڑے پہننا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اولا یہ جان لیں کہ ایسا سرخ کپڑا جو کُسُم، (Safflower یعنی وہ پھول جس سے گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے اور کپڑے رنگنے کے کام آتا ہے) سے رنگا ہوا ہو، خواہ خالص کسم سے یا دیگر رنگوں کی آمیزش کے ساتھ جبکہ ان میں غالب کسم ہو، تو اس کا پہننا مرد کے لیے مکروہ و ممنوع اور ناجائز ہے؛ کیونکہ حدیث پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم کسم کے علاوہ سرخ رنگ سے رنگا ہوا لباس پہننا مرد کے لیے فی نفسہٖ جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں، خواہ خالص سرخ رنگ کا ہو یا ہلکے سرخ رنگ کا، یہی حکم ٹی شرٹ وغیرہ کا ہے۔ البتہ مرد کے لیے خالص سرخ رنگ کا لباس پہننے سے بچنا بہتر ہے، خاص طور پر جس کا رنگ زیادہ شوخ اور بھڑکیلا ہو۔ ہاں عورتوں، بدمذہبوں یا غیر مسلموں سے مشابہت مقصود ہو یا بغیر قصد کے بھی مشابہت کی صورت پائی جاتی ہو تو بہرحال ممنوع ہے۔
صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند امام احمد وغیرہ میں ہے: و اللفظ للاول ”عن علي بن أبي طالب: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم نهى عن لبس القسي و المعصفر و عن تختم الذهب و عن قراءة القرآن في الركوع“ ترجمہ: حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور معصفر (کسم سے رنگا ہوا) کپڑا پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قراءت کرنے سے منع فرمایا۔ (صحيح مسلم، كتاب اللباس و الزينة، باب النهي عن لبس الرجل . . . الخ، جلد 6، صفحہ 144، حدیث 2078، دار الطباعة العامرة، تركيا)
علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں: ”و يكره لبس المعصفر و المزعفر لما روي عن ابن عمر رضي اللہ عنهما أنه قال نهاني رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن لبس المعصفر و قال إياكم و الحمرة فإنها زي الشيطان“ ترجمہ: کسم سے رنگا ہوا اور زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننا (مردوں کے لیے) مکروہ ہے، اس حدیث کی وجہ سے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ سرخ رنگ سے بچو کیونکہ یہ شیطان کی وضع قطع ہے۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، كتاب الخنثى، مسائل الشتی، جلد 6، صفحہ 229، المطبعة الكبرى الأميري)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”معصفر اور مزعفر، یعنی کسم اور کیسر، یہ دونوں (رنگ) مرد کو ناجائز ہیں اور خالص شوخ رنگ بھی اسے مناسب نہیں۔ حدیث میں ہے: ”ایاکم و الحمرۃ فانھا من زی الشیطان“ (سرخ رنگت سے بچو اس لیے کہ وہ شیطانی صورت اور ہیئت ہے۔ ت) باقی رنگ فی نفسہ جائز ہیں، کچے ہوں یا پکے۔ ہاں! اگر کوئی کسی عارض کی وجہ سے ممانعت ہو جائے تو وہ دوسری بات ہے، جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہننا حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 185، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر (زعفران اور کسم کسی دوسرے رنگ کے ساتھ) تھوڑے ملائے کہ مستہلک ہو گئے اور ان کا رنگ نہ آیا تو حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 183، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”کسم کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر کا زرد، جنہیں معصفر و مزعفر کہتے ہیں، مرد کو پہننا ناجائز و ممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہ تحریمی، اور ان کے سوا اور رنگ کا زرد بلا کراہت مباح خالص ہے، خصوصاً زرد جوتا مورث سرور و فرحت (ہے) . . . اور خالص سرخ غیر معصفر میں اضطراب اقوال ہے اور صحیح و معتمد جواز، بلکہ علامہ حسن شرنبلالی نے فرمایا: اس کا پہننا مستحب۔ حق یہ کہ احادیث نہی سرخ معصفر کے بارے میں ہیں، جیسے حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما مذکور سوال، اور احادیث جواز سرخ غیر معصفر میں، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا سرخ جوڑا پہننا بیان جواز کے لیے ہے۔ . . . بایں ہمہ انصاف یہ کہ شدت اختلاف کے باعث احتراز اولی اور اعتراض بے جا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 196 - 198، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ”کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے، گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہو جائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے، دونوں کا ایک حکم ہے، عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں۔ ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔ اور یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں، بلکہ عورتوں سے تشبہ ہوتا ہے اس وجہ سے ممانعت ہے، لہذا اگر یہ علت نہ ہو تو ممانعت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جا سکتا ہے اور کرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 415 - 416، مکتبة المدینہ، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”زرد اور سرخ رنگ کے متعلق مردوں کے لیے وہی حکم ہے جو بہار شریعت میں لکھا گیا کہ یہ رنگ جائز ہیں، ہاں کسم یا زعفران کا رنگ مردوں کے لیے ممنوع ہے۔ ان کے سوا کسی رنگ کی رنگ کی حیثیت سے ناجوازی نہیں، البتہ اگر اس کپڑے میں عورتوں سے تشبہ ہوتا ہو تو اس تشبہ کی وجہ سے ممانعت ہوگی۔ سرخ یا زرد مخمل وغیرہ کی اکثر ٹوپیاں پہنی جاتی ہیں یا زرد رنگ کا تہبند پہنا جاتا ہے، اس کی ممانعت نہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 297، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: Pin-7305
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ / 13 اگست 2026ء