ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بات چیت کرنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ذہنی سکون اور فرحت کے لیے بات چیت کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
دو دوست آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں ذہنی سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے اور کام کی تھکن بھی کچھ کم ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ بعد میں اپنے کام بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ اگر وہ آپس میں جائز اور مفید بات چیت کرتے وقت یہ نیت کریں کہ اس سے ذہنی و جسمانی تازگی حاصل ہوگی اور اس کے ذریعے عبادت اور دیگر نیک کاموں کے لیے قوت و نشاط پیدا ہوگا، تو کیا ایسی نیت کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا اس نیت سے یہ مباح گفتگو مستحب یا باعثِ اجر بھی ہوسکتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں دوستوں کے باہم گفتگو کرنے میں اگر دین و دنیا کا کوئی فائدہ ہو مثلاً علمِ دین سیکھنا سکھانا، دینی مسائل پر بحث، تکرار یا کسی جائز مسئلہ یا کام پر تبادلہ خیال یا مشورہ کیا جائے، تو یہ جائز ہے، جبکہ کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور اگر اچھی نیت شامل ہو، جیسے رضائے الٰہی کی نیت، یونہی جائز بات سے مسلمان کی دل جوئی کرنا، یا جائز گفتگو سے اپنی طبیعت کی تھکن اور اکتاہٹ دور کرکے خود کو تازہ دم کرنا تاکہ عبادت و نیک کام بہتر طریقے سے انجام دیں، اور ان کے لیے قوت حاصل ہو، تو باعثِ ثواب بھی ہے۔
البتہ! اگر گفتگو محض بے کار باتوں پر مشتمل ہو، جس میں دین و دنیا کی کوئی منفعت نہ ہو، بلکہ محض بے کار فضول باتیں وقت گزارنے کے لئے کی جائیں، تو یہ غفلت میں پڑنا اور وقت کا ضیاع ہے، حالانکہ مسلمان کا وقت بہت قیمتی ہے کہ اتنے وقت ذکر و اذکار وغیرہ میں مشغول رہ کر دینی و دنیاوی کثیر فوائد حاصل کرسکتا ہے، اور یہ حکم بھی تب ہے، جبکہ اس کی وجہ سے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہوتی ہو، اور یہ گفتگو گناہ بھری نہ ہو، مثلا جھوٹ، غیبت، چغلی، بے حیائی، دل آزاری یا کسی ناجائز بات پر مشتمل نہ ہو، ورنہ اگر گفتگو گناہ بھری ہو، یا اس گفتگو میں پڑنے کے سبب فرائض یا واجبات چھوٹ جائیں، یا کسی ادارے میں اجیر ہونے کے سبب سپرد شدہ کام میں کوتاہی واقع ہوتی ہو، یا غیر محرم کے ساتھ ہنسی مذاق ہو وغیرہ وغیرہ، تو یہ ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔
اچھی نیت کی اہمیت کے متعلق صحیح بخاری میں ہے "إنما الأعمال بالنيات و إنما لكل امرئ ما نوى" ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح بخاری، صفحہ 13، رقم الحدیث 1، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
مبسوط للسرخسی میں ہے ”إنما الأعمال بالنيات، و إنما لكل امرئ ما نوى، فإذا نوى العامل بعمله التمكن من إقامة الطاعة ۔ ۔ ۔ كان مثابا على عمله باعتبار نيته“ ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے عمل سے کسی نیکی کو کرنے پر قدرت حاصل کرنے کی نیت کرے، تو اسے اپنی اسی نیت کے اعتبار سے اپنے عمل کا ثواب ملے گا۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 30، صفحہ 265، دار المعرفۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے ’’لأن الأعمال بالنيات فكما يكون المباح طاعة بالنية تصير الطاعة معصية بالنية“ ترجمہ: اس لیے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، پس جیسے مباح نیت کی وجہ سے نیکی بن جاتا ہے، اسی طرح نیکی، نیت کی وجہ سے گناہ بن جاتی ہے۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، جلد 09، صفحہ 664، مطبوعہ: کوئٹہ)
سنن الترمذی میں ہے ”عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کرے۔ (سنن الترمذی، صفحہ 866، رقم الحدیث: 2317، دار ابن کثیر، دمشق)
فتاوی رضویہ کے حاشیہ میں ہے "مسئلہ: عبادت و محنت دینیہ کے بعد دفع کلال و ملال و حصول تازگی و راحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 01، حصہ دوم، ص 999، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے "بلا شبہ فاعل سے دفع عبث کیلئے صرف فعل فی نفسہ مفید ہونا کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ یہ بھی اُس سے فائدہ معتد بہا بمعنی مذکور کا قصد کرے ورنہ اس نے اگر کسی قصد فضول و بے معنی سے کیا تو اس پر الزام عبث ضرور لازم فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ ما نوى۔ اور قصد کیلئے علم درکار کہ مجہول کا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ زید سرِ راہ بیٹھا تھا ایک کھاتا پیتا ناشناسا گھوڑے پر سوار جا رہا تھا اس نے ہزار روپے اٹھا کر اُسے دے دیے کہ نہ صدقہ نہ صلہ رحم نہ محتاج کی اعانت نہ دوست کی امداد کوئی نیت صالحہ نہ تھی نہ ریا یا نام وغیرہ کسی مقصد بد کا محل تھا تو اُسے ضرور حرکت عبث کہیں گے اگرچہ واقع میں وہ اس کا کوئی ذی رحم ہو جسے یہ نہ پہچانتا تھا مقاصد شرعیہ پر نظر کرنے سے یہ حکم خوب منجلی ہوتا ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 01، حصہ دوم، ص 1000، 1001، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5365
تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1448ھ/01 ستمبر 2026ء