logo logo
AI Search

حمل کی حفاظت کیلئے خون سے لکھا ہوا تعویذ لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حالت حمل میں بچے کی حفاظت کے لیے خون سے لکھا ہوا تعویذ لینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا حمل (پریگننسی) میں تعویذ لے سکتے ہیں؟ تعویذ لینا اور یہ سوچ کر لینا کہ یہ میرے بچے کو بچائے گا، اور محفوظ رکھے گا، تو ایسا کرنا کیسا ہے؟ ہمارے ہاں بچے کی حفاظت کے لیے خون سے لکھے ہوئے تعویذ دیتے ہیں،میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو رب بچہ دینے پر قادر ہے، کیا وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکتا؟ کیا ان چیزوں کے لیے تعویذ لینا ضروری ہے؟ کیا تعویذ لینے کا حوالہ قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ کیا بچے کی حفاظت کے لیے قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر کافی نہیں ہے؟

جواب

(1) خون سے تعویذ لکھنا:

خون سے تعویذ لکھنا، شرعا ناجائز اور گناہ ہے؛ کیونکہ خون ناپاک ہے اور خون سے لکھنے کی صورت میں ایک تو جو حروف لکھے جائیں گے، ان کی بے ادبی ہے، اور پھر جتنے مقدس حروف و کلمات ہوں گے، اس قدر حکم میں سختی آئے گی، اور دوسرا یہ کہ جس پاک چیز پر لکھا جائے گا، اس کو بلا ضرورت ناپاک کرنا پایا جائے گا، جو کہ ناجائز و گناہ ہے، لہذا اگر کوئی تعویذ خون سے لکھنا ہوتا ہے تو وہاں خون کے بجائے مشک کااستعمال کیاجائے، کہ وہ اصل میں خون ہی ہے۔

(2) حمل میں تعویذ پہننا:

حفاظت و علاج کی غرض سے تعویذ پہننا شرعًا، فرض یا واجب نہیں بلکہ جائز اور درست عمل ہے، لہذا حمل کے دوران حفاظتِ حمل وغیرہ کے لیے تعویذ پہن سکتے ہیں، اور اس میں یہ سوچ ہو کہ یہ تعویذ حفاظت کا ایک سبب اور ذریعہ ہے، اوردرحقیقت حفاظت فرمانے والا اللہ تعالی ہی ہے، تو اس نیت اور سوچ کے ساتھ تعویذ پہننے میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ تعویذ پہننا، حدیث پاک سے ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما اپنے سمجھدار بچوں کو دعائیں یاد کرواتے تھے، اور جو بچے چھوٹے ہوتے (یاد نہیں کر سکتے تھے)، ان کے لیے یہ دعائیں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیا کرتے تھے۔ سنن ترمذی میں حدیث پاک ہے"فكان عبد اللہ بن عمر يلقنها من بلغ من ولده، و من لم يبلغ منهم كتبها في صك، ثم علقها في عنقه" ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما اپنے سمجھدار بچوں کو دعائیں یاد کرواتے تھے، اور جو بچے چھوٹے ہوتے (یاد نہیں کر سکتے تھے)، ان کے لیے یہ دعائیں لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیا کرتے تھے۔ (سنن الترمذي، صفحه 1289، رقم الحدیث: 3528، دار ابن کثیر، دمشق(

رہی یہ بات کہ: (جو رب بچہ دینے پر قادر ہے کیا وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکتا؟ کیا ان چیزوں کے لیے تعویذ لینا ضروری ہے؟) اور یہ کہ (کیا بچے کی حفاظت کے لیے قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر کافی نہیں ہے؟)

تو اس کا جواب یہ ہے کہ:

یہ دنیا "دار الاسباب" ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر کام کو کسی نہ کسی "سبب" (ذریعے / وسیلے) سے جوڑ دیا ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں کہ جب آپ کو بخار ہوتا ہے تو آپ پیناڈول کی گولی کیوں کھاتی ہیں؟ کیاا س وقت آپ یہ سوچتی ہیں کہ "جو رب شفا دینے پر قادر ہے، کیا وہ بغیر گولی کے شفا نہیں دے سکتا؟" بالکل دے سکتا ہے! لیکن اللہ تعالی نے دوائی کو شفا کا "سبب" بنایا ہے۔ تو جس طرح گولی یا سیرپ "مادی علاج" ہے، اسی طرح قرآنی آیات کا تعویذ "روحانی علاج" ہے۔ جس طرح گولی کھانے سے اللہ پر توکل ختم نہیں ہوتا اور نہ گولی کھانا شرک ہے، اسی طرح قرآنی آیات کا تعویذ پہننے سے بھی توکل ختم نہیں ہوتا۔ عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ شفا اور حفاظت، گولی یا کاغذ کے ٹکڑے میں نہیں، بلکہ اس رب کی طرف سے ہے، جس نے اس دوا یا کلام میں تاثیر رکھی ہے۔ نیز تلاوت اور ذکر کی اپنی بہت بڑی فضیلت اور طاقت ہے، اس سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کر سکتا، لیکن یہ بھی تبھی نفع دیتے ہیں جب اللہ پاک چاہے گا، یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ عرصہ دراز تک وِرد، وظیفے کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کی پریشانی ختم نہیں ہوتی تو اس اعتبار سے ان کا معاملہ بھی تعویذ جیسا ہی ہے کہ اللہ چاہے گا تو فائدہ ہو گا، ورنہ نہیں۔ لہذا جس طرح حمل کی حفاظت کے لیے ڈاکٹری علاج ساتھ ساتھ کیا جاتا ہے، یونہی روحانی علاج بھی کرنے میں حرج نہیں۔

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”عقود اللآلی فی الاسانید العوالی“ کے خاتمہ میں اپنے شیخ کے حوالے سے خون کے ساتھ کتابت قرآن کے ناجائز ہونے کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”لأن الدم نجس فلا يجوز أن يكتب به كلام اللہ تعالى“ ترجمہ: کیونکہ خون ناپاک ہے، تو اس کے ساتھ اللہ تعالی کا پاک کلام لکھنا جائز نہیں۔ (عقود اللآلی فی الاسانید العوالی، صفحہ 509، دار البشائر الاسلامیۃ)

رد المحتار میں ہے "نقلوا عندنا أن للحروف حرمة" ترجمہ: علما نے یہ بات نقل کی ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی حرمت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 607، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفسِ حروف قابلِ ادب ہیں اگرچہ جدا جدا لکھے ہوں جیسے تختی یا وصلی پر، خواہ ان میں کوئی برا نام لکھا ہو جیسے فرعون، ابوجہل وغیرہما تاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے اگرچہ ان کافروں کا نام لائقِ اہانت و تذلیل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حروفِ تہجی خود کلام اللہ ہیں کہ ہُود علیہ الصلوۃ و السلام پر نازل ہوئے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 23، ص 336، 337، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے ”و تنجیس الطاھر بغیر ضرورۃ لا یجوز“ ترجمہ: بغیر کسی ضرورت کے پاک چیز کو ناپاک کرنا، جائز نہیں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 47، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃفرماتے ہیں: "دفع صرع وغیرہ کے تعویذ کہ مرغ کے خون سے لکھتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے۔ اس کے عوض مشک سے لکھیں کہ وہ بھی اصل میں خون ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 196، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5399
تاریخ اجراء: 26 ربیع الاول 1448ھ / 09 ستمبر 2026ء