logo logo
AI Search

کھیلنے والی ٹیموں کے علاوہ تیسرا شخص انعام دے تو حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیلنے والی ٹیموں کے علاوہ تیسرا شخص انعام دے تو اس کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل تلاوت، نعت اور بیان وتقریر کے مسابقے (Competitions) کروائے جاتے ہیں۔ یونہی مختلف کھیلوں، مثلاً کرکٹ، کبڈی، فٹ بال اور ہاکی کے ٹورنامنٹ کروائے جاتے ہیں اور اسی طرح گاؤں دیہات میں جانوروں کی لڑائی کے مقابلے کروائے جاتے ہیں، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہر ٹیم اپنی انٹری کے لئے باقاعدہ فیس جمع کرواتی ہے، پھر فائنل جیتنے والی ٹیم کو انعام دیا جاتا ہے، یہ انعام بسااوقات دیگر ہارنے والی ٹیموں کی فیس سے جمع شدہ رقم سے دیا جاتا ہے اور بسا اوقات انتظامیہ یا مہمان خصوصی یا محفل یا میدان میں موجود دیگر افراد بغیر کسی شرط کے جیتنے والے کو اپنی طرف سے انعام دیتے ہیں، تو کیا دونوں صورتوں میں انعام لینا جائز ہے یا نہیں؟ یہ رقم حلال ہو گی یا نہیں؟ سائل: محمد حامد مدنی (فیصل آباد)

جواب

سوال میں مذکور مختلف مسابقوں(Competitions) اور ٹورنامنٹس سے حاصل ہونے والے انعام کی دو صورتیں ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے کہ:

(1) مقابلے کے شرکاء کی جمع شدہ رقم سے انعام دینے کا حکم:

اگر مسابقوں اور ٹورنامنٹس میں شریک افراد یا ٹیموں سے انٹری فیس لے کر اسی جمع شدہ رقم میں سےجیتنے والے کو انعام دیا جائے، تو اس صورت میں، خواہ مقابلہ تلاوت، نعت، بیان و تقریر اور دیگر دینی امور کا ہو یا کرکٹ، کبڈی، فٹ بال، ہاکی وغیرہ کھیلوں کا یا جانوروں کی لڑائی کا، بہرصورت یہ شرعاً ناجائز، حرام اور گناہ ہے کہ یہ جوئے کی ایک صورت ہے، کیونکہ اس میں ہر شریک اپنی رقم کو خطرے میں ڈالتا ہے کہ یا تو جیت کر دوسروں کا مال حاصل کرے گا یا ہار کر اپنی رقم سے محروم ہو جائے گا اور یہی جوا ہے، اس لیے ایسی صورت میں دیا جانے والا انعام لینا بھی ناجائز و حرام ہے کہ یہ باطل طریقے سے کسی کے مال کو حاصل کرنا ہے اور باطل طریقے سے کسی کے مال کو حاصل کر کے کھانا حرام ہے۔ اگر کسی نے جوا کے ذریعے انعام حاصل کیا، تو یہ رقم، رقم جیتنے والے کی ملکیت میں داخل ہی نہیں ہوتی، لہٰذا جس کے پاس ایسی رقم یا مال ہو، اُس پر فرض ہے کہ جس سے وہ مال لیا اُسے واپس کرے اور اگر وہ زندہ نہ رہا ہو، تو اُس کے ورثا، مثلاً اولاد وغیرہ کو واپس کرے اور اگر مالک اور اس کی اولاد میں سے کوئی نہ ملے، تو پھر مالک کی طرف سے بغیر ثواب کی نیت کیے، کسی شرعی فقیر کو دے دے۔

(2) انتظامیہ، مہمانِ خصوصی یا کسی تیسرے شخص کی طرف سے انعام دینے کا حکم:

یہ انعام شرکاء کی جمع شدہ رقم سے نہ ہو، بلکہ انتظامیہ، مہمانِ خصوصی یا کسی تیسرے شخص کی طرف سے یہ انعام دیا جائے، تو اس صورت میں مقابلے کی نوعیت کے اعتبار سے حکم مختلف ہوگا:

(الف) تلاوت، نعت، بیان و تقریر اور دیگر دینی علوم کے مسابقے:

اگر تلاوت، نعت، بیان و تقریر اور دیگر دینی امور کا مسابقہ(Competition) ہو، تو ان کا انعقاد اور ان پر انعام دینا دونوں شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ چیزیں دین کی تقویت اور اشاعت کا ذریعہ ہیں اور جو چیزیں دین کی تقویت کا ذریعہ ہوں، تو ان میں انعام کے ساتھ بھی مقابلہ کروانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ شرعی حدود کی پابندی کی جائے، مثلاً مرد و خواتین کا اختلاط نہ ہو، میوزک نہ ہو، نعت یا تلاوت پر تالیاں نہ بجائی جائیں اور دیگر خلافِ شرع امور کا ارتکاب نہ کیا جائے۔

(ب) کرکٹ، کبڈی، فٹ بال، ہاکی وغیرہ کھیلوں کے ٹورنامنٹس:

کوئی بھی کھیل بطورِ کھیل کھیلنا لہو و لعب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے اور مروجہ کرکٹ، کبڈی، فٹ بال وغیرہ لہو و لعب کے طور پر ہی کھیلے جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ مروجہ کھیلوں میں عموماً کئی خلافِ شرع امور کا ارتکاب بھی پایا جاتا ہے، مثلاً مردوں عورتوں کا اختلاط، میوزک کا سننا وغیرہ، بلکہ مروجہ کبڈی، فٹبال، ہاکی وغیرہ میں رانوں اور گھٹنوں کا ننگا ہونا، اسی طرح نمازیں قضا کرنا اور خاص طور پرجماعت کااہتمام نہ کرنا وغیرہ، تو جس کام میں بھی خلافِ شرع امور کا ارتکاب پایا جائے، خواہ وہ مذکورہ کھیل ہوں یا ان کے علاوہ کوئی کام، تو وہ ناجائز و گناہ ہے۔

(ج) جانوروں کی لڑائی کے مقابلے:

جانوروں کی لڑائی کے مقابلے کروانا ہی شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ کسی دینی امور کی تقویت کا ذریعہ نہیں، بلکہ اِنہیں لڑانے میں جانور یقیناً زخمی ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں مر بھی جاتے ہیں، جو ان پر سَراسَر ظلم اور اُنہیں بلا وجہ ایذا پہنچانا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جانوروں کی لڑائی کروانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔

مذکورہ بالا آخری دو (ب، ج)صورتوں میں اگر انتظامیہ، مہمان خصوصی یا دیگر افراد جیتنے والے کو اپنی طرف سے انعام دیں، تو اس میں دو حیثیتیں ہیں:

(الف)دینے والے کے حق میں: یہ انعام دینا جائز نہیں، کیونکہ ناجائز امور پر مشتمل کھیل اور جانوروں کو لڑاناگناہ ہے اور اس پر انعام دینا گناہ کے کام پر حوصلہ افزائی کرنا اور اسے بڑھاوا دینا ہے، جس سے قرآن عظیم میں منع کیا گیا ہے۔

(ب)لینے والے کے حق میں: انعام دینے کے ناجائز ہونے کے باوجود یہ رقم لینے والے کے لیے مباح و حلال ہوگی، کیونکہ یہ کسی حرام عقد کے تحت داخل نہیں، بلکہ دینے والے کی خوشی سے بطورِ ہبہ دی گئی ہے، واضح رہے کہ یہ حکم پہلی صورت(جمع شدہ فیس)سے مختلف ہے، کیونکہ وہاں رقم جوئے کے عقدفاسد کے تحت آتی ہے، اس لیے وہاں لینا بھی حرام ہے۔

مذکورہ بالا حکم کا چند نظائر فقہیہ سے استدلال:

(1) سنگر/گلوکار کو ملنے والی رقم:

کوئی سنگر (گلوکار) کسی مجمع میں گانا گاتا ہے جو کہ شرعاً ایک گناہ اور ناجائز فعل ہے، لیکن وہاں موجود تماشائیوں میں سے کوئی شخص خوش ہو کر اپنی طرف سے اسے کچھ پیسے دے دیتا ہے۔ یہ رقم نہ تو پہلے سے طے شدہ کوئی اجرت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی شرط کے تحت دی جاتی ہے، بلکہ یہ تماشائی کی طرف سے اپنی خوشی سے دیا جانے والا ایک انعام ہوتا ہے، لہٰذا اگرچہ گانا گانا گناہ ہے، لیکن سنگر کے لیے بغیر شرط کے ملنے والے یہ پیسے وصول کرنا شرعاً جائز اور مباح ہے۔

(2) رقاصہ (ناچ گانے والی عورت) کو ملنے والا انعام:

اگر کوئی تیسرا شخص ناچنے گانے والی عورت کو بغیر کسی شرط یا عقدِ اجارہ کے اپنی طرف سے بطورِ انعام کچھ رقم دے، تو اگرچہ ناچنا گانا سخت حرام ہے اور اس فعل پر باقاعدہ طے شدہ اجرت لینا بھی حرام ہے، لیکن بغیر شرط کے ملنے والی یہ رقم اس کے لیے مباح و حلال ہوگی، کیونکہ وہ مال کسی حرام عقد کے تحت داخل نہیں۔

(3) قوّال (قوالی کرنے والا ) کو ملنے والا انعام:

آلاتِ موسیقی کے ساتھ مروجہ قوالی گانا اور سننا شرعاً ناجائز و حرام ہے اور اس پر قوالوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پیسے لٹانا بھی حرام ہے۔ لیکن اس حرمت کے باوجود، اگر قوال کو بغیر کسی پیشگی شرط کے بطورِ انعام کوئی رقم دی جائے، تو قوال کے لیے اس رقم کا لینا مباح ہے۔

(4) نوحہ کرنے والی عورت کو ملنے والی رقم:

کسی میت پر چیخ و پکار کر کے نوحہ کرنا شرعاً گناہ ہے، لیکن فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر نوحہ کرنے والی عورت کو بغیر کسی شرط اور معاہدے کے کوئی شخص رقم دے، تو وہ اس نوحہ کرنے والی کے لیے مباح و حلال ہے۔

بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجئے :

جوئے کے ناجائز و حرام ہونے کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یَسْـئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تم فرمادو: ان دونوں میں کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ دنیوی منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے۔“ (پارہ 02، سورۃ البقرۃ: آیت 219)

مسند احمد کی حدیث مبارک ہے: ’’عن ابن عباس، عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: ان اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 381، مؤسسة الرسالہ، بیروت)

جوئے کی تعریف کے متعلق تبیین الحقائق میں ہے: ”القمار من القمر الذی يزاد تارة، وينقص اخرى، وسمي القمار قمارا لان كل واحد من المقامرين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه، ويجوز ان يستفيد مال صاحبه۔ ۔ ۔ وهو حرام بالنص“ ترجمہ: قمار، قمر سے مشتق ہے جو کبھی بڑھتا ہے اور کبھی کم ہوتا ہے، قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ جوئے بازی کرنے والو ں میں سے ہر ایک کے لیے یہ امکان ہوتا ہے کہ اس کا مال، دوسرے کے پاس چلا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے کا مال حاصل کرلے، اور یہ نص کی وجہ سے حرام ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 6، صفحه 227، مطبوعه قاهرة)

مبسوط سرخسی میں ہے: ’’ثم ھذا تعلیق استحقاق المال بالخطر وھو قمار والقمار حرام فی شریعتنا‘‘ ترجمہ: پھر یہ مال کے مستحق بننے کو خطرے پر معلق کرنا ہے، اور یہ جوا ہے اور جوا ہماری شریعت میں حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 11، صفحہ 18، مطبوعہ دارالمعرفہ، بیروت)

ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں سے انٹری فیس جمع کی جائے اور پھر اسی جمع شدہ رقم سے جیتنے والی ٹیم کو انعام دیا جائے، تو یہ جوا ہے، جیسا کہ فتاوی محدثِ اعظم میں ہے: ”سب ٹیموں سے پیسے جمع کر کے ان کو کھلایا جائے اور ان جمع کردہ پیسوں میں سے کامیاب شدہ ٹیم کو انعام دیا جائے، تو یہ جوا ہے، حرام ہے۔“ (فتاوی محدث اعظم، صفحہ 139، رضا اکیڈمی، فیصل آباد)

جیتنے والی ٹیم کے لیے یہ انعام لینا حرام ہے کہ یہ باطل طریقے سے کسی کے مال کو حاصل کرنا ہے، جس کی ممانعت قرآن عظیم میں وارد ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَاْکُلُوْۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمہ کنزالعرفان: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔‘‘ (القرآن، پارہ 02، البقرۃ، آیت: 188)

تفسیر قرطبی میں ہے: ’’والمعنی: لا یاکل بعضکم مال بعض بغیر حق، فیدخل فی ھذا: القمار والخداع والغصوب۔ ۔ وغیر ذلک‘‘ ترجمہ: اور (آیت کا) معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی ناحق طریقے سے دوسرے کا مال نہ کھائے، لہذا اس (باطل طریقے سے مال کھانے) میں جوا، دھوکادہی، غصب وغیرہ سب داخل ہیں (اور ان سب کے ذریعے دوسروں کا مال کھانا حرام ہے)۔ (تفسیر قرطبی، جلد 2، صفحہ 338، دار الكتب المصرية، القاهرة)

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ’’اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا، خواہ لوٹ کر یا چھین کر، چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔‘‘ (تفسیر خزائن العرفان، سورۃ البقرہ، پارہ 02، آیت 188، صفحہ 63، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جوئے کے ذریعے حاصل کیے گئے مال سے خلاصی کی صورت بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”جس قدر مال جوئے میں کمایا، محض حرام ہے۔ ۔ ۔ اور اس سے براءت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دے، یا جیسے بنے اسے راضی کر کے معاف کرالے، وہ نہ ہو، تو اس کے وارثوں کو واپس دے، یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے، باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے، نہ ان کا، نہ ان کے ورثہ کا، ان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردے، اگرچہ اپنے محتاج بہن، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے۔ ۔ ۔ غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہو سکے کہ اتنا مال فلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑا تھا اتنا تو انھیں یا ان کے وارثوں کو دے، یہ نہ ہوں تو ان کی نیت سے تصدق کرے، اور زیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایک شخص سے دس بار جوا کھیلا، کبھی یہ جیتا کبھی یہ، اس کے جیتنے کی مقدار مثلا سو روپے کو پہنچی، اور یہ سب دفعہ کے ملا کر سوا سو جیتا، تو سو سو برابر ہوگئے، پچیس اس کے دینے رہے، اتنے ہی اسے واپس دے، وعلی ہذا القیاس۔ اور جہاں یاد نہ آئے کہ کون کون لوگ تھے اور کتنا لیا، وہاں زیادہ سے زیادہ تخمینہ لگائے کہ اس تمام مدت میں کس قدر مال جوئے سے کمایا ہوگا، اتنا مالکوں کی نیت سے خیرات کردے، عاقبت یونہی پاک ہوگی، واللہ تعالیٰ اعلم“ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 653، 652، 651، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور، ملتقطاً)

جائز دینی مقابلوں پر انعام مقرر کرنے کے متعلق سننِ ابوداؤد کی حدیث میں ہے: ’’عن ابی هريرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: لا سبق الا فی خف او حافر او نصل“ یعنی حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مقابلے پر انعام رکھنا جائز نہیں ہے، مگر صرف اونٹ دوڑ، گھڑ سواری دوڑ یا تیر اندازی میں۔ (سنن ابوداؤد، جلد 2، صفحہ 334، الحدیث: 2574، مطبوعہ المطبعة الأنصارية، الهند)

اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”سبق۔ ۔ ۔ وہ مال جو آگے نکل جانے والے کو دیا جائے، یعنی مالی شرط لگانا کہ جیتنے والا ہارنے والے سے اتنا مال لے یہ تمام مقامات میں تو حرام ہے کہ جوا ہے، مگر ان تین چیزوں میں جائز ہے کہ یہ تیاری جہاد کا ذریعہ ہے اس سے مجاہد کو تیاری جہاد کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ خیال رہے کہ ان چیزوں میں دو طرف مالی شرط حرام ہے کہ جوا ہے، لہٰذا اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ تیسرا شخص مال رکھے اور کہے کہ جو آگے بڑھ جائے اُسے یہ مال ملے گا، یہ جائز ہے کہ یہ جوا نہیں، انعام ہے، یا فریقین میں سے ایک شخص کہے کہ اگر تو مجھ سے آگے بڑھ گیا، تو تجھے اتنا مال میں دوں گا، لیکن اگر میں تجھ سے آگے نکل گیا، تو تجھ سے کچھ نہ لوں گا یہ بھی جائز ہے کہ یہ بھی انعام ہے جوا نہیں، باقی کبوتروں کتوں وغیرہ کے مقابلہ میں یہ بھی حرام ہے کہ بدعت ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 474، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

جو چیزیں دین کی تقویت کا سبب ہوں اور کسی امر ناجائز پر مشتمل نہ ہوں، تو ایسی مسابقت میں انعام دینے کے جواز کے متعلق اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ’’ان المسابقۃ فیما یرجع الی تقویۃ الدین یحل بجعل اذا قصد بہ ذلک، لا فیما ھو معصیۃ بنفسہ او بقصدھم التلاھی او التفاخر‘‘ ترجمہ: بے شک جو چیزیں دین کی تقویت کا ذریعہ ہوں، تو ایسی مسابقت میں انعام دینا جائز ہے، جبکہ دین کی تقویت ہی مقصود ہو، نہ کہ ان چیزوں میں جو بذاتِ خود گناہ ہوں یا ان سے مقصود لہو و لعب یا فخر ہو۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ 84، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور دینی علوم میں مقابلہ کرنا دین کو تقویت دینا ہے، جیسا کہ محیط برہانی، رد المحتار، الاختیار اور تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے، واللفظ للآخر: ’’الفقهاء إذا تنازعوا في المسائل، وشرط للمصيب منهم جعل جاز ذلك إذا لم يكن من الجانبين على ما ذكرنا في الخيل لأن المعنى يجمع الكل إذ التعليم في البابين يرجع إلى تقوية الدين وإعلاء كلمة اللہ‘‘ یعنی: جب مسائل میں فقہا کا اختلاف ہو اور ان میں سے جو درست ہو اس کے لیے انعام کی شرط کی گئی ہو، تو یہ جائز ہے، جبکہ یہ شرط دونوں جانب سے نہ ہو، جیسا کہ ہم نے گھوڑوں کے مقابلے میں ذکر کیا، کیونکہ (شریعت کا مطلوب) معنی ان تمام صورتوں میں موجودہے اس لئے کہ دونوں ہی باب میں تعلیم، دین کی تقویت و اعلا ءکلمۃ اللہ کی طرف راجع ہے۔ (تبيين الحقائق، كتاب الخنثی، جلد 6، صفحہ 228، المطبعة الكبریٰ)

جیتنے والے کو اگر ایسا شخص انعام دے جو مقابلہ میں شریک نہیں، تو یہ جائز ہے، جیسا کہ بدائع الصنائع، تحفۃ الفقہاء، فتاوی ہندیہ اور شرح مختصر الطحاوی میں ہے، واللفظ للآخر: ’’قال محمد: وإن كان الذي يجعل السبق رجل سوى المتسابقين، فيقول: أيكما يسبق فله كذا، كنحو ما يصنع الأمراء، فلا بأس به‘‘ یعنی امام محمد رَحِمَہُ اللہ نے فرمایا: اگر انعام دینے والا مسابقہ کرنے والوں کے علاوہ ہو، کہ وہ کہے: جو بھی سبقت لے گیا اس کے لیے انعام ہے، جیسا کہ اُمراء کرتے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (شرح مختصر الطحاوی، كتاب السبق، جلد 7، صفحہ 369، دار البشائر الاسلاميہ)

مروجہ کبڈی، ہاکی، فٹبال وغیرہ کہ جس میں ستر کھول کرکھیلا جاتا ہے، یہ ناجائز ہے، چنانچہ بہار شریعت میں ہے: ”کشتی۔ ۔ ۔ آج کل برہنہ ہو کر صرف ایک لنگوٹ یا جانگیا پہن کر لڑتے ہیں کہ ساری رانیں کھلی ہوتی ہیں، یہ ناجائز ہے۔“ (بھار شریعت، حصہ 16، صفحہ 512، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مروجہ کرکٹ کے متعلق مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ/1992ء) سے سوال کیا گیاکہ ”کرکٹ کھیلنا اور دیکھنا کیسا ہے؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: حدیث مبارکہ میں ہے: ”کل ما یلھو بہ المرء المسلم باطل إلا رمیہ بقوسہ و تأدیبہ فرسہ وملاعبتہ امرأتہ فإنھن من الحق“ یعنی ہر وہ شے جس سے کوئی مسلمان غفلت میں پڑجائے باطل ہے مگر کمان سے تیر اندازی کرنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا، اور اپنی بیوی سے ملاعبت ( کھیل کود) کرنا یہ تین کام حق ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، ص 202 مطبوعہ کراچی)

حدیث میں واضح طور پر بتادیا کہ مؤمن کی زندگی لہو و لعب کیلئے نہیں ہے، لہٰذا تندرستی کیلئے ٹہلنا یا ورزش کے لئے تھوڑا کھیلنا تو جائز ہے، مگر کرکٹ وغیرہ کھیل جس طرح کھیلے جاتے ہیں اس میں کوئی مقصدِ صحیح نہیں، بلکہ قوم اور ملک کا بہت بڑا نقصان ہے اس میں قوم کے مال کی بربادی اور وقت کو ضائع کرنا ہے اور دین کے نقصان کا تو عالم یہ ہے کہ ہزاروں آدمی بیٹھے دن بھر کھیل دیکھتے رہتے ہیں، نہ نماز کی پرواہ، نہ اپنا وقت ضائع ہونے کی پرواہ، بہر صورت یہ کھیل کھیلنا ناجائز و حرام ہے اور ان کو دیکھنے اور سننے میں وقت ضائع کرنا بھی ناجائز ہے۔“ (ملخصاً از وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 437، 436، مطبوعہ بزم وقارالدین، کراچی)

جانوروں کو لڑانا شرعاً ناجائز وگناہ ہے، جیسا کہ جانوروں کو آپس میں لڑانے سے ممانعت کے متعلق سنن ترمذی، سنن ابو داؤد، معجمِ کبیر اور سننِ بیہقی میں ہے، والنظم للاوَّل: ’’عن ابن عباس قال: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم عن التحريش بين البهائم‘‘ ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، آپ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن الترمذی، جلد 1، ابواب الجھاد، ‌‌ باب ما جاء في كراهية التحريش بين البهائم، صفحہ 433، مطبوعہ لاھور)

مذکورہ حدیث کی شرح میں مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”اللہ تعالی رحم فرمائے! آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا، کتے لڑانا، اونٹ، بیل لڑانے کا بہت شوق ہے، یہ حرام، سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذا رسانی ہے، اپنا وقت ضائع کرنا۔ بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں، یہ جوا بھی ہے، حرام درحرام ہے۔‘‘ (مراٰة المناجیح شرح مشکوة المصابیح، جلد 5، صفحہ 659، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

مذکورہ حدیث میں ممانعت، درجہِ حرام کی ہے، چنانچہ علامہ طاہر حنفی گجراتی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 986ھ/1578ء) لکھتے ہیں: ’’نهى عن ‌التحريش بين ‌البهائم، ظاهره أنه للتحريم‘‘ ترجمہ: نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے سے منع کیا، اِس حدیث میں”نھی“ اِس فعل کو حرام ثابت کرنے کے لیے ہے۔ (مجمع بحار الانوار، جلد 5، صفحہ 375، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارِف العثمانیۃ)

علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: ’’والمناطحة في الكبش، والطيران السريع في الحمامة، والمقاتلة في الديك، والخصي في العبد، فإن هذه الأشياء كلهامعصية‘‘ ترجمہ: مینڈھوں کو سینگوں سے باہم لڑوانا، کبوتر کو تیز اڑانا، مرغوں کو آپس میں لڑوا کر مروانا، غلام کا خصی ہونا، یہ تمام چیزیں معصیت یعنی گناہ ہیں۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 11، صفحہ 272، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

ناجائز امور پر مشتمل مروجہ کھیل کھیلنا، یونہی جانوروں کو لڑانا شرعاً ناجائز وگناہ ہے، اس لیے کسی تیسرے شخص کا جیتنے والے کو انعام دینا گناہ کے کام پر تعاون کرنا ہے اور قرآن ِکریم میں گناہ کے کام پر تعاون کرنے سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ: ”اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 2)

اس آیت کے تحت امام ابو بکر احمد الجصاص رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ نهي عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالى“ ترجمہ: آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی نافرمانی والے کاموں میں دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 429، مطبوعہ کراچی)

ملا جیون حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”وأما ما رسمه أهل زماننا من أنهم يهيؤون المجالس ويرتكبون فيها بالشرب والفواحش، ويجمعون الفساق والأمارد ويطلبون المغنين والطوائف ويسمعون منهم الغناء ويتلذذون بها كثيرًا من الهواء النفسانية والخرافات الشيطانية، ويحمدون على المغنين بإعطاء النعم العظيم ويشكرون عليهم بالإحسان العميم؛ فلا شك أن ذلك ذنب كبير“ ترجمہ: ہمارے زمانے کے لوگوں نے جو یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ ایسی مجلسیں منعقد کرتے ہیں جن میں شراب نوشی اور بے حیائی کے کام کیے جاتے ہیں، فاسقوں اور خوبرو نوجوانوں کو جمع کیا جاتا ہے، گانے والوں اور ناچنے والیوں کو بلایا جاتا ہے، ان سے گانے سنتے ہیں، نفسانی خواہشات اور شیطانی خرافات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، پھر گانے والوں کو بڑے بڑے انعامات دیتے اور ان پر خوب احسان کرتے ہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (تفسیرات احمدیہ، صفحہ 588، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے: ”الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر“ ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 3، صفحہ 420، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت (یعنی گناہ ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 149، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ’’لا فیما ھو معصیۃ بنفسہ او بقصدھم التلاھی او التفاخر‘‘ ترجمہ: ایسی مسابقت میں انعام دینا جائز نہیں جو بذاتِ خود گناہ ہوں یا ان سے مقصود لہو و لعب یا فخر ہو۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ 84، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی فقیہ ملت میں ہے: ”قوالی جو عام طور پر رائج ہے وہ مزامیر ہی کے ساتھ ہے اور حرام ہے۔ ۔ ۔ اور قوالی سننے کے ساتھ پیسہ لٹانا، ناچنا اور روپیہ کا مالا پہنانا یہ بھی حرام ہے کہ اس میں قوالوں کی حوصلہ افزائی اور گناہ پر اعزاز ہے۔“ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 340، 341، مطبوعہ شبیر برادرز، لاھور )

جانوروں کو لڑانے کا مقصد محض لہو ولعب یعنی کھیل تماشا ہوتا ہے، جیسا کہ امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ (سالِ وفات: 458ھ/1065ء) امام حلیمی رَحِمَہُ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’قال الحليمي: ومن وجوه اللعب ‌التحريش ‌بين ‌الكلاب والديوك، وقد جاء عن النبي صلى اللہ عليه وسلم أنه نهى عنه التحريش بين البهائم هو حرام ممنوع لا يؤذن لأحد فيه لأن كل واحد من المتحارشين يؤلم الآخر، ويجرحه ولو أراد المحرش أن يفعل ذلك بيده ما حل له‘‘ ترجمہ: امام حلیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ لہو ولعب کی اقسام میں سے کتوں اور مرغوں کو لڑانا بھی ہے، حالانکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے جانوروں کو آپس میں لڑوانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ حرام اور ممنوع ہے، ایسا کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے، کیونکہ لڑنے والے دونوں جانوروں میں سے ہر ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتا اور زخمی کرتا ہے اور اگر لڑانے والا شخص بذاتِ خود کسی جانور سے لڑے، تو یہ بھی اُس کےلیے حلال نہیں۔ (شعب الايمان، جلد 8، صفحہ 483، مطبوعہ ریاض)

فقہی نظائر پر جزئیات:

(1) سنگر/گلوکار کو بغیر کسی شرط کے ملنے والا انعام جائز ومباح ہے کہ وہ مال اس حرام عقد کے تحت داخل نہیں ہوتا، جیسا کہ فقیہ النفس امام فخر الدین قاضی خان حسن بن منصور اَؤزجندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”و الرجل إذا كان مطربا مغنيا أن أعطي بغير شرط قالوا يباح له ذلك“ ترجمہ : اور جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اور اس کو بغیر کسی شرط کے کچھ دیا گیا، تو فقہائے کرام نے اس کو مباح قرار دیاہے۔ (فتاوی قاضی خان، جلد 3، صفحہ 303، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

(2) رقاصہ (ناچ گانے والی عورت) کو ملنے والے انعام کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں: ”وہ مال جو انہیں گانے ناچ مجلے میں انعام بلا شرط یعنی اُجرت مقررہ سے زیادہ ملتاہے ان کے حق میں حکم ہبہ کا رکھتاہے کہ وہ عقد اجارۂ باطلہ جو ان افعال محرمہ پر ہوا یہ مال اس کے تحت میں داخل نہیں، بلکہ بہت لوگ بطور خوشنودی کچھ اپنی ناموری کے خیال سے بعض جاہل یہ سمجھ کر کہ ایسے مقامات پر انعام دینا شان ریاست ہے دیاکرتے ہیں، تو وہ اس مال کی مالک ہوگئیں، اسی طرح ڈومنیوں کو جو بیل ملتی ہے اس کابھی یہی حکم ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 508، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”رنڈیوں کے مال پانچ قسم ہیں:۔ ۔ ۔ پانچویں مال، مثلاً رنڈی نے کسی سے قرض لیا یا اسے گانے ناچنے زناوغیرہ محرمات کی اجرت اور آشنائی کی رشوت سے جدا کسی نے ویسے ہی کچھ انعام دیاہبہ کیا یاسینے پرونے وغیرہا افعال جائزہ کی اُجرت میں لیا کہ یہ سب حلال ہے اوراس سے جو کچھ حاصل کیا جائے گا وہ بھی حلال ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 367، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور )

(4،3) قوال اور اسی طرح نوحہ کرنے والی عورت کو ملنے والی رقم بغیر کسی شرط کے ہو تو مباح وحلال ہے، جیسا کہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ’’اما المغني والنائحة والقوال إذا أخذ المال هل يباح له إن كان من غير شرط يباح لأنه أعطاه المال عن طوع من غير عقد وإن كان من عقد لا يباح له لأنه أجر على المعصية“ ترجمہ: بہرحال گلوکار، نوحہ کرنے والی اور قوال (قوالی کرنے والا ) کا معاملہ، تو جب وہ مال لیں، تو کیا وہ ان کے لیے مباح ہے؟ اگر یہ (دینا لینا) بغیر کسی پیشگی شرط کے ہو، تو مباح ہے، کیونکہ دینے والے نے وہ مال بغیر کسی معاہدے کے اپنی خوشی سے دیا ہے۔ اور اگر وہ مال کسی طے شدہ معاہدے کے تحت ملا ہو، تو ان کے لیے مباح نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ کے کام پر اجرت ہے۔ (بحرالرائق شرح کنز الدقائق، جلد 8، صفحہ 226، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامی)

علامہ عینی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی کتاب’ ’منحۃ السلوک شرح تحفۃ الملوک“ میں لکھتے ہیں: ’’قوله: (وما يأخذ المغني والنائحة من غير شرط: مباح) لأنه حصل برضا صاحبه، فيباح له“ ترجمہ: مصنف کا یہ قول کہ: (اور جو کچھ گلوکار اور نوحہ کرنے والی عورت بغیر کسی پیشگی شرط کے لیں، وہ مباح ہے)، کیونکہ یہ مال اس کے مالک کی اپنی رضامندی سے حاصل ہوا ہے، لہٰذا یہ ان کے لیے مباح ہے۔ (منحۃ السلوک شرح تحفۃ الملوک، صفحہ 423، مطبوعہ قطر)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: ’’والمغني والقوال والنائحة ان اخذ المال بغير شرط يباح له، وان كان بشرط لا يباح لأنه اجر على معصية“ ترجمہ: اور گلوکار، قوال اور نوحہ کرنے والی عورت، اگر وہ بغیر کسی شرط کے مال لیں، تو وہ ان کے لیے مباح ہے، اور اگر وہ کسی شرط کے ساتھ ہو، تو مباح نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ پر اجرت ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 4، صفحہ 166، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: عبد الرب شاکر عطاری مدنی

مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FSD-10106

تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448 ھ/22 جولائی 2026ء