بچوں کا بستر الگ کرنے کی عمر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بچوں کا بستر کس عمر میں الگ کیا جائے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کس عمر میں بچوں کے بستر الگ کر دینے چاہئے؟
جواب
دینِ اسلام نے زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنما اصول مقرر کیے ہیں، تاکہ پاکیزگی، شرم و حیا قائم رہے۔
اسی شرم و حیا کے تقاضے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دینِ اسلام نے بچوں کا بستر الگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے تو نماز کے معاملے میں اس پر سختی کی جائے اور اسی عمر میں بچوں کے بستر الگ کردیئے جائیں تاکہ ان کی حیا اور پاکیزگی کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
حدیثِ پاک میں ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم: مروا اولادكم بالصلاة وهم ابناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم ابناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع یعنی اللہ پاک کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور انہیں نماز پر مارو جب وہ دس سال کے ہوں، اور اسی عمر میں ان کے بستر الگ کردو۔ (ابو داؤد شریف، حدیث: 495)
حدیثِ پاک کے اس حصے بستر الگ کردو کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یعنی بہن بھائیوں کو علیحدہ بستروں پر سلاؤ کہ اب وہ مراہق یعنی قریب بلوغ ہوگئے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 365، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اولاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: جب دس برس کا ہو نماز مار کر پڑھائے، اس عمر سے اپنے خواہ کسی کے ساتھ نہ سلائے، جدا بچھونے جدا پلنگ پر اپنے پاس رکھے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ: 455، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-030
تاریخ اجراء: 06 ربیع الثانی 1448ھ/19 ستمبر 2026ء