پتنگ بازی کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پتنگ بازی کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ پتنگ بازی کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
پتنگ بازی متعدد حرام کاموں (مثلاً: مال کا ضیاع، اسراف، بے پردگی، بے حیائی، میوزک، ناچ گانا، ایذائے مسلم، پڑوسیوں کی حق تلفیاں وغیرہ حرام چیزوں )پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
تفصیل یہ ہے کہ دل میں ایمان رکھنے والا یا انسانیت کی کچھ رَمَق رکھنے والا بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ پتنگ بازی میں مال اور پیسوں کا ضیاع، لڑکے لڑکیوں کا آپس میں بے پردگی والے معاملات، اسی طرح چھت پر پتنگ بازی کرتے ہوئے ساتھ والے گھر کی خواتین پر نظر پڑنا، گانے باجے اور میوزک سے خود بھی گناہوں میں پڑنا اور دوسروں کو بھی اذیت سے دوچار کرنا، اسی طرح ہلڑ بازی سے پڑوسیوں کو اذیت دینا، پھر ان سب میں نماز وغیرہ کی پرواہ نہیں ہوتی، تو نمازوں کا قضا ہونا، دوسروں کے ساتھ گالم گلوچ ہونا وغیرہ متعدد حرام کاموں سے کون واقف نہیں ہے ؟ نیز بجلی کی تاروں میں ڈور اور پتنگ کے پھنسنے سے بجلی کا نظام ڈسٹرب ہوجاتا ہے، جس سے اہلِ علاقہ کو الگ پریشانی ہوتی ہے اور پھر اس میں نہ کوئی دنیوی فائدہ ہے، نہ دینی، بلکہ سراسر نقصان ہی ہے، الغرض لہو و لعب کے ساتھ ساتھ کئی حرام کاموں کا مجموعہ ہے اور ہمارا خوبصورت مذہبِ اسلام ان ساری چیزوں سے بچنے کا تاکید سے حکم دیتا ہے اور لوگوں کو اذیت دینے کی بجائے، ان کے لیے راحتیں، سہولیات میسر کرنے کا حکم دیتا ہے، نیز نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح کے لہو و لعب والے کاموں سے منع فرمایا ہے، لہٰذا شرعی اعتبار سے پتنگ بازی کرنے، پتنگ اڑانے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
پتنگ بازی میں پائی جانی والی خرابیوں کے متعلق وعیدات ملاحظہ کیجیے:
فضول خرچی کی وعیدات:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
(وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا)
ترجمہ کنزالعرفان: ’’اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (پارہ 15، سورۃ الاسراء، آیت 26، 27)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”یعنی ناجائز کام میں خرچ نہ کر، حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ نے فرمایا کہ تبذیر مال کا ناحق میں خرچ کرنا ہے۔“ (تفسیرِ خزائن العرفان، صفحہ 530، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )
نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فضول خرچی کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”إن اللہ کرہ لکم ثلاثا: قيل وقال، وإضاعة المال، وكثرة السؤال“
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین کاموں کو ناپسند فرمایا: فضول باتیں کرنا، مال ضائع کرنا اوربہت زیادہ سوال کرنااور مانگنا۔ (صحیح البخاری ، کتاب الزکوٰۃ ، جلد 1، صفحہ 283، مطبوعہ لاھور )
تماشہ دیکھنے کے لیے جمع ہونے کی قباحت کے متعلق محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدثِ دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
’’من البدع الشنیعۃ ما تعارف الناس فی اکثر بلادالھند من اجتماعھم للھو واللعب بالنارواحراق الکبریت‘‘
ترجمہ: بُری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں، جیسے آگ کے ساتھ کھیلنے اور تماشہ کرنے کے لیے جمع ہونا، گندھک جلانا یعنی آتش بازی کر نا وغیرہ۔ (ماثبت بالسنّۃ، المقالۃ الثالثۃ، صفحہ 216، مطبوعہ مجتبائی دھلی، ھند )
لہو و لعب کی وعیدات:
اللہ رب العٰلمین قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
﴾وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿
ترجمہ کنز العرفان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں اور انہیں ہنسی مذاق بنالیں۔ ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ (پارہ 21، سورۃ لقمان، آیت 6)
علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
”و عن ابى مالك الأشعري انه سمع رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول يشربون الناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها و يضرب على رؤسهم المعازف و القينات يخسف اللہ بهم الأرض و يجعل منهم القردة و الخنازير رواه ابن ماجة و صححه ابن حبان۔۔۔ (مسئله): - قالت الفقهاء الغناء حرام بهذه الاية لكونه لهو الحديث و بما ذكرنا من الأحاديث“
ترجمہ: حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں کئی لوگ ایسے ہوں گے جو شراب کے نام بدل بدل کر پئیں گے، ان کے پاس آلات موسیقی بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گانا گائیں گی، اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں کئی لوگوں کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ (التفسیر المظھری، سورۃ لقمان، جلد 7، صفحہ 248، مطبوعہ کوئٹہ)
لہو و لعب کی ممانعت کے بارے میں المعجم الاوسط میں ہے:
”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: كل لهو يكره إلا ملاعبة الرجل امرأته، ومشيه بين الهدفين، وتعليمه فرسه“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر فضول کام مکروہ ہے، سوائے یہ کہ مرد کا اپنی عورت سے کھیلنا (یعنی بیوی سے دل لگی کرنا) اور دو ہدفوں کے درمیان نشانہ لگانا یعنی تیر اندازی کرنا اور اپنے گھوڑے کوشائستگی سکھانا۔ (المعجم الاوسط، ج 07، ص 170، مطبوعہ دارالحرمین، القاھرہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”کنکیا(پتنگ) اڑانے میں وقت، مال کاضائع کرناہوتاہے، یہ بھی گناہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 659، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاھور)
احکامِ شریعت میں ہے: ”کنکیا(پتنگ)اڑانا لہولعب ہے اور لہو ناجائز ہے، حدیث میں ہے: ’’کل لھو المسلم حرام الافی ثلث۔مسلم کے لیے کھیل کی چیزیں سوائے تین چیزوں کے سب حرام ہیں۔“ (احکامِ شریعت، حصہ اول، صفحہ 58، مطبوعہ مشتاق بک کارنر)
بے پردگی کے متعلق وعیدات:
شریعت نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا تاکیدی حکم دیا، اور بے پردگی سے منع فرمایا، چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
﴿قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ، وَ قُلۡ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا﴾
ترجمہ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے۔‘‘ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 30، 31)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
”الزينة ما تزينت به المرأة من حلي أو كحل أو خضاب والمعنى ولا يظهرن مواضع الزينة إذ إظهار عين الزينة وهى الحلى ونحوہ مباح فالمراد بها مواضعها أو إظهارها وهي فى مواضعها لاظهار مواضعها لاظهار أعيانها ومواضعها الرأس والأذن والعنق والصدور والعضدان والذراع والساق ... إلا ماجرت العادة والجبلة على ظهوره وهو الوجه والكفان والقدمان ففي سترها حرج بين“
ترجمہ: زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے، جیسے زیور، سرمہ اور (جائز) کلر وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضا کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں، جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں، البتہ بد ن کے وہ اعضا جوعام طور پر ظاہر ہوتے ہیں، جیسے چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں، انہیں چھپانے میں چو نکہ مشقت واضح ہے، اِس لئے ان اعضا کو ظاہر کرنے میں حرج نہیں۔(لیکن فی زمانہ چہرہ بھی چھپایا جائے گا۔) (تفسیر نسفی، سورۃ النور، آیت 31، جلد 2، صفحہ 500، مطبوعہ دارالکلم الطیب، بیروت)
تفسیر صراط الجنان میں تفسراتِ احمدیہ کے حوالے سے منقول ہے: ”زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آیت میں مذکور حکم نماز کے بارے میں ہے (یعنی عورت نماز پڑھتے وقت چہرے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے علاوہ پورا بدن چھپائے۔ یہ حکم عورت کو) دیکھنے کے بارے میں نہیں، کیونکہ عورت کا تمام بدن عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے۔ شوہر اور مَحرم کے سوا کسی اور کے لئے اس کے کسی حصہ کو بے ضرورت دیکھنا جائز نہیں اور علاج وغیرہ کی ضرورت سے بقدرِ ضرورت جائز ہے۔‘‘ (صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 620، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی )
بے پردگی سے منع کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى﴾ ترجمۂ کنزُالعرفان : اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 33)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”(ایک قول یہ ہے کہ) اگلی جاہلیت سے مراد اسلام سے پہلے کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی ہوئی نکلتی اور اپنی زینت اور محاسن کا اظہار کرتی تھیں، تاکہ غیر مرد اِنہیں دیکھیں، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضا اچھی طرح نہ ڈھکیں۔‘‘ (تفسیر صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 21، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بے پردگی کرنے والی عورتیں جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکیں گی، چنانچہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:
”صنفان من اهل النار لم ارهما: …نساء كاسيات، عاريات، مميلات، مائلات، رءوسهن كاسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وان ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا‘‘
ترجمہ: دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہیں، جنہیں میں نے (اپنے زمانے میں) نہیں دیکھا۔ (میرے بعد والے زمانے میں ہوں گی۔ایک جماعت) ایسی عورتوں کی ہوگی جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن حقیقت میں بے لباس اور ننگی ہوں گی، بے حیائی کی طرف دوسروں کو مائل کرنے اور خود مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر ایسے ہوں گے، جیسے بختی اونٹوں کی ڈھلکی ہوئی کوہانیں ہوں، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جائے گی۔ (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب النساء الکاسیات، جلد 2، صفحہ 213، مطبوعہ لاہور)
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
”يسترن بعض بدنهن ويكشفن بعضه اظهارا لجمالهن وابرازا لكمالهن وقيل: يلبسن ثوبا رقيقا يصف بدنهن وان كن كاسيات للثياب عاريات فی الحقيقة ‘‘
ترجمہ: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حسن وجمال اور بدن کے کمال کو ظاہر کرنے کی غرض سے کچھ بدن چھپا کر رکھیں گی اور کچھ بدن کھول کراور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ باریک کپڑے پہنیں گی، جس سے ان کا بدن جھلکے گا، اگرچہ یہ عورتیں بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن حقیقت میں بے لباس اور ننگی ہوں گی۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 7، صفحہ 77، مطبوعہ کوئٹہ)
عورت کا بد ن چھپانے کی چیز ہے، چنانچہ جامع ترمذی میں ہے:
”عن عبد اللہ، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم، قال: المرأة عورة ‘‘
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: عورت (تمام کی تمام ) چھپانے کی چیز ہے۔ (جامع الترمذی، ابواب الرضاع، جلد 1، صفحہ 351، مطبوعہ لاہور )
اور مرد کے اجنبی عورت کو دیکھنےکے متعلق علامہ بُرہان الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
’’و لا یجوز ان ینظر الرجل الی الاجنبیۃ‘‘
ترجمہ: مرد کا اجنبی عورت کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔ ( الھدایہ، فصل فی الوطء و النظر و المس، جلد 4، صفحہ 368، مطبوعہ بیروت)
عورت کے بے پردگی کرنے کا حکم بیان کرتے ہوئے سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم یا عامی جوان ہو، یا بوڑھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 239، 240، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”لڑکیوں کا، اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بےپردہ رہنا بھی حرام۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 690، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
گانے باجے کی وعیدات:
باجے کی آواز کو دنیا و آخرت میں ملعون قرار دیا گیا ہے، چنانچہ مسند بزار میں ہے:
’’صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة، مزمار عند نعمة، ورنة عند مصيبة‘‘
ترجمہ: دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز۔ (مسند بزار، مسند ابی حمزہ انس بن مالک، جلد 14، صفحہ 62، مطبوعہ مدینۃ المنورہ)
اور گانوں کی نحوست کے متعلق سنن ابی داؤد و شعب الایمان میں ہے: ’’الغناء ینبت النفاق فی القلب، کما ینبت الماء الزرع‘‘ ترجمہ: گانا دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے، جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ (شعب الایمان، فصل و مما ینبغی للمسلم المرء۔۔۔الخ، جلد 7، صفحہ 108، مطبوعہ ریاض)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ؟ فقال: نعم، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! حالانکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ تو فرمایا: ہاں، جب ان میں آلاتِ موسیقی‘ شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہوجائے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد 7، صفحہ 501، طبع ریاض)
مسند امام احمد میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
”إن اللہ بعثنی رحمۃ للعالمین، و ھدی للعالمین، و أمرنی ربی بمحق المعازف و المزامیر“
ترجمہ: بیشک میرے رب نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے، اور میرے رب نے مجھے معازف و مزامیر (آلات موسیقی) توڑنے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، جلد 36، صفحہ 646، حدیث: 22307، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’ناچنا، تالی بجانا، ستار، ایک تارہ، دو تارہ، ہارمونیم، چنگ، طنبورہ بجانا، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں۔ ‘‘
( بھار شریعت، حصہ 16، صفحہ 511، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بے حیائی کے متعلق وعیدات:
قرآنِ پاک میں ہے:
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں برا چرچا پھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 1)
حدیثِ پاک میں ہے:
”قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ“
ترجمہ: حَىا ایمان سے ہے اور ایمان جنّت میں ہے اور فحش بکنا بے ادبی ہے اور بے ادبی دوزخ میں ہے۔ (شعب الایمان، جلد 10، صفحہ 148، مطبوعہ ریاض)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
”ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال: ان الحیاء والایمان قرناء جمیعا، فاذا رفع احدھما رفع الآخر۔ وفی روایۃ ابن عباس: فاذا سلب احدھما تبعہ الآخر“
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں، تو جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: جب ان میں سے ایک چِھن جاتا ہے، تو دوسرا اس کے ساتھ جاتا ہے۔ (مشکوۃ المصابیح مع مرقاۃ المفاتیح، جلد 9، صفحہ 285، ، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یعنی حیا اور ایمان رہنے اور جانے میں ساتھ ہیں، جس دل میں ہوں گے دونوں ہوں گے، نہ ہوں گے دونوں نہ ہوں گے، مومن بے حیا نہیں ہوسکتا، کافر حیا دار نہیں ہوسکتا، خیال رہے یہاں ایمان سے مراد کامل ایمان ہے، اور حیاء سے مراد ایمانی شرم و غیرت ہے، یعنی اللہ و رسول سے غیرت جو گناہوں سے روک دے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد6، صفحہ649، مطبوعہ: گجرات)
پڑوسیوں کے حقوق:
قرآنِ پاک میں ہے:
﴿وَّ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے۔ “ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 36)
نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
”مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ، حَتّٰى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ“
ترجمہ: حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ کو ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ شاید عنقریب پڑوسی کو اپنے پڑوسی کا وارث ٹھہرا دیں گے۔ (صحیح البخاری، باب الوصاۃ بالجار، جلد 8، صفحہ 10، مطبوعہ مصر)
مسلمانوں کو اذیت دینے کی وعیدات:
مسلمانوں کو اذیت دینے والوں پر لعنت کی گئی ہے، چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے:
﴿اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ”بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے کئے ذلّت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 57)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:
’’لا ضرر ولا ضرار، من ضار ضرہ اللہ، ومن شاق شق اللہ علیہ‘‘
ترجمہ: نہ ضررلو، نہ ضرردو، جو ضرر دے اللہ عزوجل اس کوضرر دے اور جو مشقت کرے اللہ عزوجل اس پر مشقت ڈالے۔ (سنن الدارقطنی، ج 4، ص51، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
مسلمان کو اذیت دینا بھی حرام ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
’’من اٰذی مسلماً فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اللہ‘‘
ترجمہ: جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (المعجم الاوسط، باب السین، من اسمہ سعید، جلد 4، صفحہ 60، دار الحرمین، قاھرہ)
کسی مسلمان کے جان و مال کو نقصان پہنچانا، ناجائز و گُناہ ہے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:
”کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ“
ترجمہ: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (صحیح المسلم، باب تحریم ظلم المسلم ۔۔، جلد 2، صفحہ 321، مطبوعہ لاھور )
خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت:
پتنگ بازی کرتے ہوئے چھتوں سے گرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، جو خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، جبکہ اللہ تعالی نے اپنے آپ کو ہلاکت والے کاموں میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ﴾ ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ‘‘ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 195)
اس آیت کریمہ کے تحت نور العرفان میں ہے: ’’معلوم ہوا کہ ہلاکت کے اسباب سے بھی بچنا فرض ہے، جیسے خود کشی کرنا، بھوک ہڑتال کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرنا، زہر کھانا، طاعون کی جگہ جانا وغیرہ۔‘‘ (نور العرفان، صفحہ 37، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حذیفہ محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم 1447 ھ/06 فروری 2026ء