logo logo
AI Search

بالوں کی پی آر پی کروانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بالوں کی پی آر پی کروانا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا بالوں کے لئے پی آر پی کروا سکتے ہیں، اس میں ہوتا یہ ہے کہ جسم سے خون لے کر اس میں سے پلازمہ الگ کیا جاتا ہے پھر وہ سرنج کے ذریعے بالوں کی جڑوں میں پہنچایا جاتا ہے، جس سے گنج پن دور ہوتاہے اور بال اگ آتے ہیں؟

جواب

PRP: انسانی خون کے ذریعے علاج کی شرعا اجازت نہیں کیونکہ انسان کا خون جسم سے جدا ہونے کے بعد نجاست غلیظہ و حرام ہوتا ہے اور نجس و حرام چیز کو علاج ومعالجے کے لیے استعمال کرنا، جائز نہیں، اللہ تعالی نے حرام و نجس چیز میں شفا نہیں رکھی، اسی طرح جزءِ انسان سے انتفاع حاصل کرنے کی شریعت نے اس لیے بھی اجازت نہیں دی کہ اللہ تعالی نے انسان کو مکرم و محترم بنایا ہے اور اس کے جزء کے ذریعے علاج کرنا اس کی تکریم کے خلاف ہے ، اگرچہ وہ جزء خود اسی مریض کے جسم کا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کا استعمال اس کی تکریم کے خلاف ہے اور صورت مسئولہ میں تو یہ جزء ناپاک بھی ہے۔

البتہ ایسی حالت ہو کہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی علاج نہ ہو اور ایسے ڈاکٹرز جو فاسق معلن نہ ہوں اور وہ ظن غالب کے طور پر بتائیں کہ اس کے علاوہ بالوں کا کوئی دوسرا علاج نہیں تو جمال مقصود کے حصول کے لیے اس علاج کی اجازت ہوتی لیکن یہاں ایسی کوئی صورت نہیں بالوں کی سرجری کے لیے کئی جائز علاج موجود ہیں۔ لہذا یہاں اس علاج کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

PRP یعنی (Platelet Rich Plasma) میں خون کا ایک حصہ ہی استعمال ہوتا ہے، اور اس سے خون کی ماہیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، پلازما خون کے رقیق حصے کو کہتے ہیں، خون کے بنیادی طور پر تین حصے ہوتے ہیں ریڈ سیل، وائٹ سیل اور پلازما۔ ریڈ سیل اور وائٹ سیل یہ خون کے گاڑھے حصے ہوتے ہیں جبکہ پلازما رقیق ہوتا ہے۔ خون کو مشین میں ڈال کر اسپن کیا جاتا ہے تو وائٹ سیل اور ریڈ سیل نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور پلازما اوپر رہ جاتا ہے جسے الگ کرلیا جاتا ہے اور بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

خون کے حرام ہونے کے متعلق قرآن پاک میں ہے

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ

ترجمہ قرآن کنز الایمان: اس نے یہی تم پر حرام کیے ہیں مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خداکا نام لے کر ذبح کیا گیا۔ (پارہ 2، البقرۃ، آیت 173)

اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد باری تعالی ہے

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ

ترجمہ: تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مرُدار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت کہ وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیرخدا کا نام پکارا گیا۔ (پارہ 8، الانعام، آیت 145)

اللہ عزوجل نے حرام میں شفا نہیں رکھی، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا

ان اللہ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم

ترجمہ بے شک اللہ عزوجل نے تمہاری لئے ان چیزوں میں شفا نہیں رکھی جو تم پرحرام فرمائیں۔ (صحیح بخاری جلد 7 صفحه 110 مطبوعه دار المنهاج بيروت)

حرام چیز سے علاج کرنا ناجائز ہے، سنن ابو داؤد میں حدیث پاک ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

إن اللہ أنزل الداء و الدواء و جعل لکل داء دواء فتداووا و لا تداووا بحرام

ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں کو نازل کیا ہے اور ہر بیماری کے لیے دوا رکھی ہے، لہٰذا ان دواؤں سے علاج کرو، لیکن حرام چیزوں سے دوا نہ کرو۔ (سنن ابي داؤد جلد 6 صفحه 23 طبع مؤسسۃ الرسالۃ بيروت)

امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

الاستشفاء بالمحرم حرام

ترجمہ: حرام چیز سے شفا حاصل کرنا بھی حرام ہے۔ (تبیین الحقائق جلد 07 صفحہ 73 مطبوعہ قاہرہ)

اسی طرح در مختار میں ہے؛

لایجوز التداوی بالمحرم فی ظاھر المذھب

ترجمہ: ظاہرمذہب میں حرام چیزکے ساتھ علاج کرنا حرام ہے۔ (در مختار مع رد المحتار جلد 04 صفحہ 390، مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

انسان کی تکریم کے متعلق قرآن پاک میں ہے

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ

ترجمہ: اور بےشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی۔ (پارہ 15، الاسراء، آیت 70)

شیخ الاسلام برہان الدین علی بن ابو بکر مرغینانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

و حرمة الانتفاع بأجزاء الآدمي لكرامته

ترجمہ: انسان کے اجزاء سے نفع حاصل کرنا اس کی عزت کی وجہ سے حرام ہے۔ ( ھدایہ مع بنایہ جلد 1 صفحہ 418 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

امداد الفتاح میں ہے

لایجوز استعمالہ و لا الانتفاع بہ لحرمتہ و لکرامتہ کسائر اجزاء الآدمی

ترجمہ: انسان کی کھال کو اس کی حرمت و عزت کی وجہ سے استعمال کرنا اور ان سے نفع اٹھانا جائز نہیں جیسا کہ انسان کے بقیہ تمام اجزاء سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ (ملخصا) (امداد الفتاح، صفحہ 169، مطبوعہ لاہور)

ان دونوں علتوں کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے

الانتفاع باجزاء الادمی لم یجز قيل للنجاسة و قيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي

ترجمہ: انسان کے اجزاء سے نفع اٹھا ناجائز نہیں ہے۔ کہا گیا ہے کہ نجس ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عظمت کی وجہ سے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ جواہر اخلاطی میں ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 5، صفحہ 434، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

انسانی جزء سے انتفاع اگرچہ وہ جزء اپنا ہی ہو جائز نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:

و وصل الشعر بشعر الآدمی حرام سواء کا ن شعرھا أو شعر غیرھا

ترجمہ: بالوں کو آدمی کے بال سے جوڑنا حرام ہے خواہ وہ بال اس کے اپنے ہی ہوں یا کسی دوسرے آدمی کے ہوں۔ (فتاوی عالمگیری جلد 05 صفحہ 358 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

ہدایہ میں ہے:

و لایجوز بیع شعور الانسان و الانتفاع بھا لأن الآدمی مکرم لامبتذل فلایجوز أن یکون شئ من أجزائہ مھاناً ومبتذلاً، و قد قال علیہ السلام: لعن اللہ الواصلۃ و المستوصلۃ، الحدیث، و انما یرخص فیما یتخذ من الوبر، فیزید فی قرون النساء و ذوائبھن

یعنی انسان کے بال بیچنا اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ آدمی مکرم ہے، حقیر نہیں ہے تو جائز نہیں ہے کہ انسان کے اعضا میں سے کوئی عضو حقیر و معمولی ہو، اور تحقیق حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اللہ کی لعنت ہو بال ملانے والی اور ملوانے والی پر، البتہ اونٹ کے بال سے بنائی گئی چیز لگانے میں رخصت دی جائیگی، اس کے ذر یعے سے عورت بالوں اور چوٹیوں میں اضافہ کرسکتی ہے۔ (ھدایہ جلد 5 صفحہ 106 مطبوعہ بیروت)

اس عبارت کے تحت بنایہ، عنایہ اور فتح القدیر میں بالفاظ متقاربہ ہے:

فالواصلۃ ھی التی تصل الشعر بشعر النساء، و المستوصلۃ المعمول بھا باذنھا و رضاھا، و ھذ اللعن للانتفاع بما لایحل الانتفاع بہ ألا تری أنہ رخص فی اتخاذ القرامیل و ھو ما یتخذ من الوبر لیزید فی قرون النساء للتکثیر و لا شک أن الزینۃ حلال.

یعنی واصلہ وہ عورت جو اپنے سر کے بالوں میں دوسری عورت کے بال ملا کر دراز کرے۔ مستوصلہ وہ عورت جودوسری کے سر میں یہ بال جوڑےاس کی اجازت اور رضا مندی سے، اور یہ لعنت ان بالوں کے ملانے کے ساتھ خاص ہے جن سے نفع لینا جائز نہیں ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ قرامیل لگانے میں شریعت مطہرہ نے رخصت دی ہے اور قرامیل یہ ہے کہ اپنے بالوں کو بڑھانے کے لیے عورت کی چوٹیوں میں اونٹ کے بال لگائے جائے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ زینت کرنا حلال ہے۔ (البنایة جلد 8 صفحہ 166، العنایۃ جلد 3 صفحہ 587، فتح القدير جلد 06 صفحہ 391 مطبوعات بیروت)

حرام سے علاج کس صورت میں جائز ہے اس بارے میں تبيين الحقائق میں ہے:

يجوز التداوي بالمحرم كالخمر و البول إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء، و لم يجد غيره من المباح ما يقوم مقامه و الحرمة ترتفع للضرورة فلم يكن متداويا بالحرام فلم يتناوله حديث ابن مسعود، ويحتمل أنه قاله في داء عرف له دواء غير المحرم

ترجمہ: حرام اشیاء بطورِ دوا استعمال کرنا جائز ہے جیسے شراب و پیشاب جبکہ کسی مسلمان طبیب نے خبر دی ہو کہ اسی میں شفاء ہے اور علاج کے لئے اس کے متبادل کوئی مباح چیز نہ ہو، اور ضرورت کی وجہ سے حکمِ حرمت مرتفع ہوجاتا ہے، تو یہ حرام سے علاج کرنا نہ ہوگا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث اس حکم کو شامل نہ ہوگی، اور ممکن ہے انہوں نے وہ بات اس بیماری کے بارے میں کہی ہو جس کا علاج وہ حرام کے علاوہ کسی دوسری شے میں جانتے ہوں۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، جلد 6، صفحہ 33، مطبوعہ قاہرہ)

مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان نوری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اگر طبیب حاذق مسلم غیر فاسق کہے کہ اس مرض کی اب یہی دوا ہے، یہی پچھلا (آخری) علاج ہے تو اس وقت اس کے حق میں وہ حرام نہ ہوگا یعنی بقدرِ ضرورت اور اس وقت اس سے شفاء کی امید بھی ہوگی، بحال اضطرار مضطر کے حق میں قدرِ ضرورت حکم مرتفع ہوجاتا ہے خود حدیث میں دواءِ خبیث سے نہی وارد۔ تداوی بالحرام سے ممانعت فرمائی۔ ان کے ساتھ حدیث عرینین جس میں بول شتر کے دواء استعمال کا حکم موجود بھی نظر میں ہے۔ بات وہی ہے کہ احکام حالتِ اضطرار، احکام حالتِ اختیار سے جدا ہیں، مضطر کا استثناء خود قرآن عظیم کے ارشاد کریم سے معلوم کہ فرمایا:الا ما اضطررتم الیہ اور فرمایا: فمن اضطر غیر باغ و لا عاد فلا اثم علیہ۔ (فتاوی مصطفویۃ، ص 511، شبیر برادرز، اردو بازار لاھور)

اسی طرح علاج کے لیے انسانی خون کے استعمال کی جائز صورتیں بیان کرتے ہوئے مفتی محمد نظام الدین رضوی حفظہ اللہ فرماتے ہیں مریض کی جان بچانے کے لیے، اعضا کو بے کار ہونے سے بچانے کے لیے، جمال مقصود کے تحفظ، حلقہ چشم کی حفاظت یا کسی عضو کی حفاظت کے لیے بشرطیکہ کسی اور جائز ذریعہ سے اس کا تحفظ نہ ہو سکے۔ جمال غیر مقصود کے تحفظ کے لیے اجازت نہیں۔ (جدید فقہی مسائل کے بارے میں علمائے اہلسنت کی تحقیقات، جلد 1، صفحہ، 353، مطبوعہ اکبر بک سیلرز لاھور)

فتاوی یورپ میں ہے علمائے متاخرین نے تداوی بالدم کو ضرورتا جائز قرار دیا ہے جیسا کہ فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ (فتاوی یورپ، ص 486، مطبوعہ شبیر برادرز)

سر کے بال بھی جمال مقصود میں شامل ہیں، دیت کے باب میں فقہائے کرام نے سر کے بال کے جمال مقصود ہونے کی صراحت کی ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کا جبرا سر مونڈ دیا اور اس کے بال نہ اُگے تو حالق پر مکمل دیت ہوگی، سر کے بال کے بارے میں یہ بھی صراحت کی گئی ہے کہ سر کے بال میں جمال کامل ہے کیونکہ جس کے سر پر بال نہ ہوں وہ سر کو چھپانے میں تکلف کرتا ہے اور اس کو بہت بڑا عیب شمار کیا جاتا ہے۔

ہدایہ میں ہے:

و كذا شعر الرأس جمال؛ ألا ترى أن من عدمه خلقة يتكلف في ستره، بخلاف شعر الصدر و الساق لأنه لا يتعلق به جمال

ترجمہ: اسی طرح سر کے بال میں بھی جمال ہے کیا آپ دیکھتے نہیں جس کے سر پر بال نہ ہوں وہ سر چھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے، بر خلاف سینے اور پنڈلی کے بالوں کے، کیونکہ ان سے جمال متعلق نہیں ہوتا۔ (الہدایۃ جلد 4 صفحہ 463 طبع دار احیاء التراث العربی)

مبسوط میں ہے:

و كذلك في شعر الرأس جمال كامل. (ألا ترى) أن من عدم ذلك خلقة تكلف لستره، و إخفائه، و لا شك أن في شعر الرأس جمالا كاملا، و بعض المنفعة أيضا فما يحصل لها بالجمال من المنفعة أعظم وجوه المنفعة

ترجمہ: اور اسی طرح سر کے بالوں میں کامل جمال ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس کے پیدائشی بال نہ ہوں وہ اپنے سر کو چھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے اور کوئی شک نہیں کہ سر کے بالوں میں کامل جمال ہے اور کچھ منفعت بھی ہے، تو جو اس کو جمال کی وجہ سے منفعت حاصل ہے وہ منفعت کی صورتوں میں سے بڑی صورت ہے۔ (المبسوط جلد 26 صفحہ 72 دار المعرفہ بیروت)

تبیین الحقائق میں ہے:

و كذا في اللحية و شعر الرأس الدية إذا حلق و لم ينبت؛ لأنه أزال جمالا على الكمال

ترجمہ: اور اسی طرح داڑھی اور سر کے بالوں میں دیت لازم ہوگی جبکہ اس کو حلق کردیا ہو اور وہ نہ اگے کیونکہ اس نے جمال کو مکمل طور پر ختم کردیا۔ (تبیین الحقائق جلد 6 صفحہ 130 طبع قاہرہ)

در مختار و رد المحتار میں ہے:

(قوله وشعر الرأس كذلك) سواء كان شعر رجل أو امرأة أو كبير أو صغير معراج (قوله أي إذا حلق و لم ينبت) أي على وجه يظهر فيه القرع، فإنه يعد عيبا عظيما، و لهذا يتكلف الأقرع في ستر رأسه كما يتكلف ستر سائر عيوبه أتقاني

ترجمہ: مصنف کا قول اور اسی طرح سر کے بالوں کا معاملہ ہے چاہے وہ مرد کے بال ہوں یا عورت کے، بڑے آدمی کے ہوں یا چھوٹے بچے کے اور ان کا قول جبکہ حلق کردیا اور وہ دوبارہ نہ اگے سے مراد یہ ہے کہ ایسی صورت پر حلق کیا جس سے گنج پن کی بیماری ظاہر ہوگئی تو یہ بڑا عیب شمار کیا جاتا ہے اسی وجہ سے گنجا آدمی اپنا سر چھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے جیساکہ وہ اپنے تمام عیوب چھپانے میں تکلف سے کام لیتا ہے۔ (رد المحتار، جلد 06، صفحہ 577 دار الفکر بیروت)

بہار شریعت میں ہے: اگر کوئی کسی کا سر بالجبر مونڈ دے تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا، اگر ایک سال میں سر پر بال اُگ آئے تو حالق پر کچھ تاوان نہیں ورنہ پوری دیت واجب ہوگی۔ اس میں مرد، عورت، صغیر وکبیر سب کا حکم یکساں ہے (بہار شریعت حصہ 18 صفحہ 832 طبع مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-301
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم1445ھ / 20 فروری 2024ء