logo logo
AI Search

انسانی اجزاء والی کریم استعمال کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انسانی اجزاء والی کریم کا بیرونی استعمال کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل بعض کاسمیٹک کمپنیوں کی کریمز اور لوشنز میں انسانی اجزاء مثلاً: human collagen, placenta extract, stem cell derivatives وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔ کیا ایسی کریمز کا بیرونی استعمال شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں۔

جواب

انسانی اجزاء پر مشتمل کریمز (Creams) اور لوشنز (Lotions) وغیرہ پروڈکٹس کا اندرونی و بیرونی ہر طرح کا استعمال شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ بدنِ انسانی نفع اٹھانے اور استعمال کی شے نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ انسان اپنے تمام اجزاء بدن کے ساتھ مکرم و محترم ہے۔ اور اس نے انسان کو دیگر اشیاء پر برتری و فضیلت اور خصوصی فضل و انعام اور احترام و اکرام  سے نوازا ہے۔ بدنِ انسانی کے یوں استعمال و انتفاع میں اس کی توہین و تذلیل ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔ لہذا بلاحاجتِ شرعی اس کے کسی بھی جزو کا استعمال و انتفاع فضلِ خداوندی کی ناشکری، بدنِ انسانی کی  تذلیل و اہانت اور احترامِ انسانیت کے منافی ہے، جس سے بچنا فرض و لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و تکریم اور خصوصی فضل سے نوازا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾

ترجمہ کنز العرفان: ’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، الآیۃ 70)

انسان اپنے تمام اجزائے بدن کے ساتھ محترم ہے، جیسا کہ ’’الغرۃ المنیفہ‘‘ میں ہے:

”والآدمي بجميع أجزائه مكرم قال اللہ تعالى: ﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ ﴾“

ترجمہ: آدمی اپنے تمام اجزاء کے ساتھ مکرم ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی۔‘‘ (الغرة المنيفہ، صفحہ 89، مؤسسۃ الکتب الثقافیہ)

اجزائے انسانی سے انتفاع کی حرمت کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ”الانتفاع باجزاءالادمی لم یجز“ ترجمہ: آدمی کے اجزاء سے نفع حاصل کرنا، جائز نہیں۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 05، صفحہ 354، دارالفکر، بیروت)

جزو انسانی سے انتفاع میں اہانت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ’’محیط برھانی، الاختیار اور تبیین الحقائق‘‘ وغیرہ کثیر کتب احناف میں ہے:

واللفظ للاول” لم يجز الانتفاع به ‌لكرامته وهو الصحيح، فإن اللہ تعالى كرم بني آدم وفضلهم على سائر الأشياء، وفي الانتفاع بأجزائه نوع إهانة به“

ترجمہ: (نجاست کے سبب نہیں، بلکہ) تکریم کے سبب جزِ انسانی سے انتفاع جائز نہیں۔ یہی صحیح قول ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو عزت دی ہے، اور انہیں تمام اشیاء پر فضیلت دی ہے، اور اس کے اجزاء سے نفع اٹھانے میں اہانت و توہین پائی جاتی ہے۔ (المحيط البرهاني، جلد 05، صفحہ 373، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی طرح ’’ہدایہ‘‘ میں ہے:

”ولا يجوز الانتفاع بهالأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا “

ترجمہ: انسان کے بالوں سے نفع حاصل کرنا، جائز نہیں، کیونکہ آدمی معزز ہے، استعمال کی شے نہیں۔ لہذا یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے اجزاء میں سے کسی شے کی اہانت و استعمال ہو۔ (الھدایۃ فی شرح البدایہ، جلد 3، صفحہ 46، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

فتاوی یورپ میں ہے: ”انسان اپنے تمام اجزاء بدن کے ساتھ مکرم و محترم ہے، لقولہ عزوجل: ﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ﴾ اور اس کے جزءِ بدن میں سے کسی جزء کی خرید و فروخت اور ا س سے انتفاع اس کی کرامت و حرمت کے خلاف ہے۔۔۔جو شرعا حرام ہے۔ملتقطا“ (فتاوی یورپ، صفحہ 517، شبیر برادرز، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0365
تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1447 ھ/11 ستمبر 2025 ء