انرجی ڈرنکس پینا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انرجی ڈرنک پینے کا حکم؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بازار میں جو انرجی ڈرنکس ملتی ہیں، انہیں پینے کی اجازت ہے؟
جواب
شرعی اصول یہ ہے کہ اشیا میں اصل ان کا حلال اور پاک ہونا ہے، اس لیے جب تک معتبر دلیل سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ کسی شے میں کوئی حرام یا ناپاک جز شامل ہے، اسے حرام قرار نہیں دیا جاسکتا اور محض افواه یا سنی سنائی بات بھی قابل قبول نہیں، لہذا انرجی ڈرنکس (Energy Drinks) کا پینا شرعاً جائز ہے جبکہ ان میں کسی حرام یا ناپاک چیز کے شامل ہونے کا یقین نہ ہو۔ تاہم اگر طبی طور پر کوئی ڈرنک نقصان دہ ثابت ہو اور پینے سے ضرر کا اندیشہ ہو تو احتیاط کی جائے۔ واضح رہے کہ اگر واقعی کسی انرجی ڈرنک میں حرام یا نجس چیز کی ملاوٹ ثابت ہو جائے، مثلاً بنانے والے خود اقرار کریں یا اجزائے ترکیبی (Ingredients) میں تحریر ہو تو اس کا پینا ناجائز و گناہ ہوگا، اس سے بچنا لازم ہے۔
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا
ترجمہ کنز العرفان: کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔(پارہ 8، سورۃ الاعراف 7، آیت 31)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حلال ہیں، سوائے اُن کے جن پر شریعت میں دلیلِ حرمت قائم ہو؛ کیونکہ یہ قاعدہ مقررہ مسلمہ ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے مگر جس پر شارع نے ممانعت فرمائی ہو اور اس کی حرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 3، صفحہ 302، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:
الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة
ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل اباحت ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) سے اس پانی کے متعلق سوال ہوا جس میں دوا ڈالی گئی جس کے باعث اس کا رنگ و ذائقہ بھی بدل گیا، آیا وہ طاہر و مطہر ہے یا نہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: جب تک نجاست پر علم نہیں، پانی طاہر مطہر ہے،
نص علیہ فی رد المحتار و غیرھا و الاصل فی الاشیاء الطھارۃ
(یعنی رد المحتار وغیرہ میں اس پر صراحت کی ہے اور اشیا میں اصل حکم پاک ہونا ہے)، یوں ہی جب تک حرمت پر علم نہیں، پانی حلال و مشروب ہے،
فان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ
(اس لیے کہ اشیا میں اصل مباح ہونا ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 280، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: شریعتِ مطہرہ میں طہارت و حلت اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں، اور حرمت و نجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار، اور محض شکوک و ظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ طہارت و حلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور، نرا ظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا۔... احتیاط اس میں نہیں کہ بے تحقیق بالغ و ثبوت کامل کسی شے کو حرام و مکروہ کہہ کر شریعت مطہرہ پر افترا کیجئے، بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے کہ وہی اصل متیقن اور بے حاجت مُبیّن خود مُبیَّن۔... بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکامِ شرع کی مناط و مدار نہیں ہو سکتی، بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہو جاتی ہیں جن کی کچھ اصل نہیں۔... جب تک خاص اس شے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے، کوئی مظنہ قویہ حظر و ممانعت کا نہ پایا جائے، تفتیش و تحقیقات کی بھی حاجت نہیں، مسلمان کو روا کہ اصل حل و طہارت پر عمل کرے اور یمکن و یحتمل و شاید و لعل کو جگہ نہ دے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 476- 479 و 514، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید کچھ آگے لکھتے ہیں: الحاصل جب خبر معتبر شرعی سے ثابت ہو جائے کہ شراب اس ترکیب کا جز ہے تو برف کی حرمت و نجاست میں کلام نہیں، اور علی العموم اس کے تمام افراد ممنوع و محذور، اور یہ احتمال کہ شاید اس فرد خاص میں نہ پڑی ہو محض مہمل و مہجور کہ یہ ما ہو محذور میں یقین نوعی کلی ہے اور ایسی جگہ یہ احتمالات یک لخت مضمحل و غیر کافی... اور اگر ایسی خبر سے ثبوت نہیں تو غایت درجہ اس قدر کہ بحکم تورع و اجتناب شبہات احتراز کرے، مگر تحریم و تنجیس کا حکم بے دلیل شرعی ہرگز روا نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 539 و 542، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1100
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم 1447ھ / 16 فروری 2026ء