logo logo
AI Search

مہندی ڈیزائن بنانے کا کام کرنا کیسا ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مہندی لگانے کا کام کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں ایک مہندی ڈیزائنر ہوں اور میں مہندی کا کام کرنا چاہتی ہوں، یعنی عید یا شادیوں کے مواقع پر سیلون میں عورتوں کے ہاتھوں پر مہندی کے ڈیزائن بنانا۔ سوال یہ ہے کہ مہندی لگانے کا یہ کام میرے لیے حلال ہے؟ اور چونکہ بعض عورتیں اپنے ہاتھ نہیں ڈھانپتیں، تو کیا ان کے ہاتھوں پر مہندی لگانا میرے لیے ممنوع و گناہ ہوگا؟

جواب

عورتوں کے لیے ہاتھ اور پاؤں، وغیرہ پر مہندی لگانا، لگوانا، جائز زینت پر مشتمل عمل ہے، جبکہ وہ جاندار (جیسے، بٹرفلائی وغیرہ) کی تصویر، وغیرہ کسی بھی غیر شرعی امر پر مشتمل نہ ہو، لہٰذا اگر عورت ذاتی سیلون بنا کر یا گھر میں رہ کر شرعی تقاضوں کے مطابق یہ کام کرتی ہے، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں اور جب یہ عمل جائز ہے، تو اس کی اُجرت لینا بھی جائز و حلال ہےکہ یہ عمل معصیت یعنی گناہ پر مشتمل نہیں اور اگر کوئی عورت مہندی لگوا کر غیر محارم کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرے گی، تو اس کا وبال اُسی پر آئے گا۔

البتہ ایسی جرم والی مہندی کہ جس کو  لگانے سے تہہ بنتی ہے، جو وضو و غسل میں جسم تک پانی پہنچنے سے مانع ہو، تو ایسی مہندی کے بدن پر لگے ہونے کی حالت میں وضو و غسل نہیں ہو گا، جس سبب سے نماز پڑھنے سے نماز بھی نہیں ہوگی، لہٰذا ایسی مہندی لگانا، جائز نہیں کہ اپنے ارادے سے ایسی حالت پیدا کرنا جو وضو و غسل اور فرض یا واجب عبادت کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے، شرعاً  ناجائز و گناہ ہے، تاہم حائضہ کا حکم اس سے جدا ہےکہ حائضہ پر مخصوص ایام میں نماز لازم نہیں ہوتی۔

یاد رہے! جن صورتوں میں مہندی لگانا، جائز ہے، یہاں صرف ان صورتوں میں نفسِ مہندی لگانے اور اس کی اجرت کے جائز و حلال ہونے کو بیان کیاگیا ہے، لیکن اگر سیلون، وغیرہ پر گناہوں بھرا ماحول ہو، جیسے میوزک، اجنبی مردوں سےبے پردگی کے ساتھ اختلاط (میل جول ) ہونا، وغیرہ، تواس ماحول میں کام کرنا، جائز نہیں ہوگا، یونہی ناجائز انداز کی مہندی لگانا بھی ناجائز ہی ہوگا۔

شرعی تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے عورتوں کا مہندی لگانا، ناصرف جائز، بلکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کی تاکید فرمائی ہے، چنانچہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں:

”ان هندا ابنۃ عتبة قالت: يا نبی اللہ! بايعني، قال: لا ابايعك حتى تغيّري كفيك كانهما كفا سبع‘‘

ترجمہ: بیشک حضرت ہندہ بنتِ عتبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے بیعت کر لیجئے۔ ارشاد فرمایا: میں تجھے بیعت نہیں کروں گا، یہاں تک کہ تو اپنی ہتھیلیاں (مہندی کے رنگ سے رنگ کر )  تبدیل نہ کر لے، (مہندی کے بغیر تو) گویا یہ کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الترجل، جلد 2، صفحہ  220، مطبوعہ لاھور)

اس حدیث پاک کے تحت مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”یہ بیعت علاوہ بیعتِ اسلام کے کوئی اور تھی کسی خاص معاہدہ پر، بیعتِ اسلام فتح مکہ کے دن کی گئی تھی……یعنی تمہارے ہاتھ مردوں کی طرح سفید ہیں، ان میں مہندی سے رنگ کرو پھر بیعت کرو۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 166، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

یادرہے! نبی پاک عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کسی عورت کا ہاتھ پکڑ کر بیعت نہیں فرماتے تھے، جیسا کہ احادیث طیبہ میں بصراحت موجود ہے۔

مہندی کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہےکہ کسی جان دار کی تصویر نہ ہو، خواہ پرندہ وغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ عورت کے مہندی لگانے کے متعلق تکملہ بحر الرائق للطوری میں ہے:

”و لا بأس للنساء بخضاب اليد والرجل ما لم يكن خضاب فيه تماثيل“

ترجمہ: عورتوں کے لیے ہاتھ، پاؤں میں خضاب (مہندی) لگانے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں تصاویر نہ ہوں۔ (تکملۃ البحر الرائق للطوری مع بحر الرائق، جلد 8، صفحہ 208، دار الكتاب الاسلامي)

ایسی جرم والی مہندی جو وضو و غسل میں بدن تک پانی پہنچنے سے مانع ہو، وہ لگانا، جائز نہیں، جیساکہ جوہرہ نیرہ، فتاویٰ عالَم گیری اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے، واللفظ للھندیہ:

”و الخضاب إذا تجسد و یبس یمنع تمام الوضوء و الغسل، كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز “

ترجمہ: خضاب (مہندی) جب جرم دار ہو اور خشک ہو جائے، تو وضو اور غسل کی تمامیت سے مانع ہے یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل مکمل نہیں ہو گا، یونہی سراج الوہاج میں وجیز سے منقول ہے۔ (الفتاویٰ الھندیہ، جلد 1، صفحہ 4، مطبوعہ كوئٹہ)

اپنے قصد و ارادے سے ایسی حالت پیدا کرنا کہ جو وضو و غسل اور فرض یا واجب عبادت کو اپنی شرائط کے ساتھ مکمل کرنے سے مانع بنے، ناجائز و گناہ ہے، جیسا کہ ایک مسئلے سے متعلق سیدی اعلی حضرت امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”اگر حقہ سے منہ کی بو متغیر ہو، بے کلی کئے منہ صاف کئے مسجد میں جانے کی اجازت نہیں……مگر جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک بو زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہو گا اور یہ ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ ٖ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و ناروا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 94، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مہندی لگانے اور جائز میک اپ کرنے کی اجرت سے متعلق فتاویٰ عالَم گیری میں ہے:

”ولو استأجر مشاطۃ لتزین العروس مباح… ینبغی أن تجوز الاجارۃ اذا کانت مؤقتۃ أو کان العمل معلوماً ولم ینقش التماثیل علی وجہ العروس ویطیب لھا الاجر لان تزیین العروسِ مباح“

ترجمہ: اور اگر کسی نے دلہن سجانے والی کو اجارہ پر لیا، تو یہ جائز ہے۔ اگر اس کا وقت معلوم ہے یا کام معلوم ہے، تو اس کا اجار ہ جائز اور اجرت پاکیزہ و حلال ہے، کیونکہ دلہن کو سجانا ایک جائز کام ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دلہن کے چہرے پر کسی قسم کی تصویریں نہ بنائے۔ (الفتاویٰ الھندیہ، جلد 4، صفحہ 526، مطبوعہ کوئٹہ)

جائز کام کی اجرت کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو، حرام نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 501، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اگر کوئی فرد جائز کام کروانے کے بعد اسے گناہ میں استعمال کرے، تو وہ خود ہی اس کا ذمہ دار ہوگا، وبال بھی اسی پر آئے گا، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) ترجمہ کنز العرفان: کوئی بوجھ اٹھانے والا آدمی کسی دوسرے آدمی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (پارہ 08، سورۃ الانعام، الایۃ: 164)

مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ/1992ء) لکھتے ہیں: ”(ویڈیو) کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں، بلکہ نیک “کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے، لہذا کیسٹ منگانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا، وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ (وقارالفتاوی، جلد 1، صفحہ 220، بزم وقارالدین، کراچی)

عورت کے لیے ملازمت جائز ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”یہاں پانچ شرطیں ہیں: (1) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔(2) کپڑے تنگ و چست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔(3) بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہرنہ ہو۔(4) کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔(5) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں، تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو (عورت کا نوکری کرنا) حرام۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 248، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9755
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم1447ھ/28 جنوری 2026 ء