logo logo
AI Search

برتھ ڈے منانا اور پارٹی میں جانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

برتھ ڈے پارٹی منانے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ برتھ ڈے منانا جائز ہے اور کیا برتھ ڈے پارٹی میں جا سکتے ہیں جس میں کیک کاٹا جائے اور تحفے تحائف دئیے جائیں؟

جواب

اپنی یا کسی دوسرے کی سالگرہ منانا فی نفسہ جائز ہے؛ کیونکہ شریعت میں اس پر کوئی ممانعت وارد نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنے یوم پیدائش یعنی پیر شریف کا روزہ رکھنا ثابت ہے جس کی ایک وجہ اس دن میں ولادت ہونا ارشاد فرمائی۔ نیز سالگرہ کے موقع پر کیک وغیرہ حلال کھانوں کا اہتمام کرنا اور دوست احباب اور رشتہ داروں کو کھلانا بھی جائز ہے، بلکہ اچھی نیت کے ساتھ کارِ ثواب ہے۔ تاہم سالگرہ منانے میں فی زمانہ ایسے طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں جو شرعاً ممنوع اور ناجائز ہیں، مثلاً ناچ گانا، میوزک، تالیاں بجانا، غبارے پھوڑنا، کیک ضائع کرنا، بے پردگی، غیر محرم لڑکے لڑکیوں کا اختلاط وغیرہ، اس طرح سالگرہ منانا یقیناً حرام اور گناہ ہے۔ ایسے تمام کاموں سے اجتناب لازم ہے کہ پیدائش کی نعمت کا شکر نیک اعمال کر کے ادا کیا جائے نہ کہ گناہ کے کام کر کے۔

رہا سوال برتھ ڈے پارٹی میں جانے کا تو اگر اس میں مذکورہ ناجائز کام بھی پارٹی کا حصہ ہوں تو جانے کی ہرگز اجازت نہیں، اور اگر وہاں ایسا کوئی غیر شرعی کام نہیں تو جانا جائز ہے، کوئی مضائقہ نہیں۔ یوں ہی سالگرہ کی مبارک اور تحفے تحائف دینا بھی جائز ہے جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:

الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة

ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل مباح ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔ (الأشباه والنظائر، الفن الأول القواعد الكلية، صفحہ 56، دار الكتب العلمية، بيروت)

صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن الکبری للبیہقی، مسند احمد اور مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للمسلم عن أبي قتادة الأنصاري رضي اللہ عنه أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم سئل عن صوم الاثنين، فقال: فيه ولدت و فيه أنزل علي

ترجمہ: حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پیر کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام... الخ، جلد 3، صفحہ 168، حدیث 1162، دار الطباعة العامرة، تركيا)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1606ء) لکھتے ہیں:

فوقت يكون منشأ للنعم الدنيوية و الأخروية حقيق بأن يوجد فيه الطاعة الظاهرية و الباطنية

ترجمہ: پس جو وقت دنیوی اور اخروی نعمتوں کا سبب ہو، وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس میں ظاہری اور باطنی اطاعت پائی جائے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصوم، باب صيام التطوع، جلد 4، صفحہ 1415، دار الفكر، بيروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: (معلوم ہوا کہ) اہم واقعات کی یادگاریں منانا سنت سے ثابت ہے۔... (البتہ) یادگار میں کھیل کود نہ ہونا چاہیے، بلکہ عبادتیں ہوں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 180، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اور شک نہیں کہ ہر مباح بہ نیت محمودہ محمود و قربت ہو جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ ما نوی

(یعنی: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 249، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ یہ ناچ اور اکثر باجے شرعاً حرام و ممنوع ہیں اور ان کے دیکھنے سننے کا مرتکب فاسق و گنہگار (ہے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 109، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: تالیاں بجانا بھی وجوہ مذکور پر ناجائز و ممنوع ہے... تصدیق اس کی کہ تالی بجانا افعال کفار سے ہے، خود قرآن عظیم میں موجود (ہے)۔... آتش بازی اسراف ہے اور اسراف حرام، کھانے کا ایسا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے، تضیعِ مال ہے اور تضیع حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 90-91 و 112 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

الاختلاط إذا كان فيه ... عبث و لهو و ملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح و الموالد و الأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة، قال تعالى: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ، وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ و قال تعالى عن النساء:وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ و قال:اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــئَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ

ترجمہ: جب (مرد و عورت کے) اختلاط میں کھیل تماشا، لہو و لعب اور جسموں کا باہم مس ہونا ہو، جیسے شادیوں، سالگرہوں اور عیدوں میں اختلاط (ہوا کرتا ہے)، پس وہ اختلاط جس میں اس قسم کے امور ہوں وہ قواعدِ شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے حرام ہے، (چنانچہ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (نیز فرمایا) اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور عورتوں کے متعلق فرمایا: اور اپنی زینت نہ دکھائیں اور فرمایا: اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 2، صفحہ 290، دار السلاسل، الكويت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اور جو فعل حرام ہے اس میں شریک ہونا، اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 91، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: دعوتِ ولیمہ کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے، جبکہ وہاں کوئی معصیت مثل مزامیر وغیرہا نہ ہو، نہ اور کوئی مانع شرعی ہو، اور اس کا قبول وہاں جانے میں ہے، کھانے نہ کھانے کا اختیار ہے۔ باقی عام دعوتوں کا قبول افضل ہے، جبکہ نہ کوئی مانع ہو ، نہ کوئی اس سے زیادہ اہم کام ہو، اور خاص اس کی کوئی دعوت کرے تو قبول کرنے نہ کرنے کا اسے مطلقاً اختیار ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 655، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں میں بھی جانا افضل ہے اور یہ شخص اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا افضل ہے کہ اپنے مسلم بھائی کی خوشی میں شرکت اور اس کا دل خوش کرنا ہے ... دعوت میں جانا اس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔ جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لغویات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپس آئے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 391 - 392، مکتبة المدینہ، کراچی)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

و التهنئة تكون بكل ما يسر ويسعد مما يوافق شرع اللہ تعالى، ومن ذلك: التهنئة بالنكاح و التهنئة بالمولود و التهنئة بالعيد و الأعوام و الأشهر

ترجمہ: اور مبارکباد اللہ تعالیٰ کی شریعت کے موافق امور میں ہر اس چیز پر دی جا سکتی ہے جو خوشی اور سعادت مندی کا باعث ہو، اور اس میں نکاح پر مبارکباد دینا، ولادت پر مبارکباد دینا، اور عیدوں، سالوں اور مہینوں پر مبارکباد دینا شامل ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 14، صفحہ 97، دار السلاسل، الكويت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1095
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم 1447ھ / 14 فروری 2026ء