logo logo
AI Search

چرس سے نشہ نہ ہو تو کیا پی سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چرس پینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

چرس پینا کیسا ہے؟ اگر اس سے نشہ نہ ہو تو کیا پی سکتے ہیں؟

جواب

چرس کونشہ کی مقدار تک پینا ناجائز و حرام ہے، یوں ہی لذت و سرور یا کھیل تماشے کے طور پر نشے کی حد سے کم تھوڑی مقدار میں چرس پینا بھی ناجائز اور گناہ ہے؛ کیونکہ شرعی طور پر بھنگ، افیون اور چرس وغیرہ، غیر مائع نشہ آور چیزوں کا بقدرِ نشہ استعمال مطلقاً حرام ہے، اور لہو و لعب کے طور پر ہو، تو نشہ سے کم مقدار بھی حرام ہے۔ البتہ! اگر اس کی معمولی مقدار کسی دوا میں ڈالی گئی ہو، جو عقل پر بالکل اثر انداز نہ ہو سکے، تو علاج کی غرض سے اس دوا کے استعمال میں مضائقہ نہیں۔

صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، مسند احمد، مؤطا امام مالک وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للاول عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كل‌مسكر ‌خمر ‌و كل ‌مسكر ‌حرام

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز خمر (کے حکم میں) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب الأشربة، صفحه 797، حدیث: 2003، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

سنن ابی داؤد، مسند احمد، المعجم الکبیر، سنن الکبری للبیہقی، مشکاۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للاول عن أم سلمة قالت: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم‌ عن كل‌ مسكر و مفتر

ترجمہ: حضرت امِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر نشہ آور اور اعضا میں سستی لانے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔ (سنن أبي داود، كتاب الأشربة، صفحه 584، حدیث: 3686، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) لکھتے ہیں:

و يستدل به على حرمة البنج و البر شعثا و نحوهما مما يفتر

ترجمہ: اور اس سے بھنگ، برشعثا (ایک قدیم مرکب) اور ان جیسی دیگر چیزوں کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے جو اعضا میں سستی پیدا کرتی ہیں۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، كتاب الحدود، جلد 6،صفحہ 434، دار النوادر، دمشق)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جو (نشہ آور چیزیں) بغیر سیال ہونے کے نشہ رکھتی ہیں جیسے افیون، مشک و زعفران وغیرہ کہ یہ ناپاک نہیں، اور بقدر سکر مطلقاً حرام ہیں، یونہی بقصد لہو و فساد بھی مطلقاً حرام، اگرچہ بقدر سکر نہ ہو، ورنہ مقدار قلیل بغرض صحیح مثل دوا وغیرہ بے تشبہ فاسقین حلال ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 205 - 206، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: نشہ بذاتہ حرام ہے، نشہ کی چیزیں پینا جس سے نشہ بازوں کی مشابہت ہو، اگرچہ نشہ تک نہ پہنچے، یہ بھی گناہ ہے۔ یہاں تک کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ خالص پانی دورِ شراب کی طرح پینا بھی حرام ہے۔ ہاں اگر دوا کے لیے کسی مرکب میں افیون یا بھنگ یا چرس کا اتنا جز ڈالا جائے جس کا عقل پر اصلاً اثر نہ ہو حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 213، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: بھنگ، چرس، شراب سب حرام ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 606، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: افیون، بھنگ، چرس وغیرہ نشہ آور غیر پتلی چیزوں کا بھی یہی حکم ہے کہ تا حد نشہ حرام ہیں، اسی لیے (نشہ سے) کم دواءً حلال، لہو و لعب کے لیے حرام۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 327، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4686
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم1447ھ / 27 جنوری2026ء