بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا Malt Vinegar کا کھانوں میں استعمال کرنا، جائز ہے؟ سائل: (نثار چودھری، امریکہ)
Malt Vinegar ایک قسم کا سرکہ ہے، جسے Ale vine (جو / Barley، رائی / Rye، یا گندم / Wheat سے تیار کردہ شراب) سے عمل ِتخمیر (Fermentation Process) کے بعد تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا کھانوں میں استعمال شرعا ًجائز ہےکہ سرکہ کی حلت واضح طور پر احادیث طیبہ میں بیان کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ Malt Vinegar اگرچہ شراب سے بنایا جاتا ہے، لیکن شراب اگر کسی بھی طریقے سے سرکہ بن جائے، تو اس کی حقیقت کے بدل جانے کے سبب وہ پاک اور حلال ہو جاتی ہے۔
Malt Vinegar کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک ویب سائٹ پر ہے:
The base for this vinegar is malt, a product made by starting the germination process of a grain, typically barley, although it can also be grains like rye or wheat. This process is halted by heating and drying the grain, which produces malted grains that lend a rich, nutty, toasty flavor to products like beer, milk shakes — in which it's added in powdered form mixed with powdered milk — and the vinegar we generously shake onto fish and chips.
Malt vinegar is made from ale, which is brewed using these grains. This process is similar to how red wine vinegar is made from wine. To produce malt vinegar, ale is brewed in the conventional manner, using malt, water, hops, and a yeast that ferments on top of the mixture. However, the brewing process is extended beyond the beer stage until it turns into vinegar.
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: مالٹ سرکہ جو / Barleyیا دیگر اناج کے اُگائے اور پھر خشک کیے گئے دانوں (مالٹ) سے تیار ہوتا ہے۔ پہلے ان سے Ale vine بنائی جاتی ہے، پھر خمیر کے عمل (Fermentation Process) کو بڑھا کر اسے سرکے (Vinegar) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ سرکہ کھانوں، خصوصاً فِش اینڈ چپس میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سرکے کی حلت واضح طور پر احادیث طیبہ میں بیان کی گئی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم شریف میں روایت موجود ہے:
’’أن النبي صلى اللہ عليه وسلم سأل أهله الأدم، فقالوا: ما عندنا إلا خل، فدعا به، فجعل يأكل به، ويقول: نعم الأدم الخل، نعم الأدم الخل‘‘
یعنی: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب فرمایا، تو گھر والوں نے عرض کیا! ہمارے پاس سرکہ کے سوا کچھ نہیں، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی منگوالیا اور اسے کھانے میں مشغول ہوگئے اور سرکہ کھاتے ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ سر کہ اچھا سالن ہے، سر کہ اچھا سالن ہے۔ (صحیح المسلم، کتاب الاشربه، جلد 3، صفحه 1622، دار احياء التراث العربي، بيروت)
اس حدیث پاک کے تحت مفسر شہیر، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’سرکہ طبی رو سے بہت مفید ہے، سادہ ارزاں غذا ہے، حضرات انبیائے کرام نے عمومًا سرکہ کھایا ہے۔ اس کے بہت فضائل حدیث شریف میں آئے ہیں۔عرب میں عموماً کھجور کا سرکہ ہوتا ہے، ہمارے ملک میں رس انگور کا سرکہ ہوتا ہے، گنے کے رس کا سرکہ بہت مروج ہے۔‘‘ (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 17-18، حدیث نمبر: 4183، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
’’السنن الکبری للبیھقی‘‘ میں ہے:
’’عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "ما أقفر أهل بيت من أدم فيه خل، وخير خلكم خل خمركم‘‘
یعنی: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو، اور تمہارا بہترین سر کہ تمہاری شراب کا سرکہ ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی، جلد 6، صفحہ 63، حدیث: 11203، مطبوعہ بیروت)
اللباب فی شرح الکتاب، المختصر القدوری، الھدایہ وغیرہ کتب فقہ میں ہے:
واللفظ للاول: ’’و إذا تخللت الخمر حلت سواء صارت خلا بنفسها أو بشيء طرح فيها ‘‘
یعنی: جب شراب سر کہ بن جائے تو حلال ہوجاتی ہے، چاہے اپنے آپ سر کہ بن جائے یا اس میں کوئی چیز ڈالنے کی وجہ سے وہ سرکہ بن جائے۔ (اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الاشربه، جلد 3، صفحه 16، مطبوعہ مکتبۃ العلمیہ، بيروت)
’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے:
’’إذا تخللت بنفسها يحل شرب الخل بلا خلاف لقوله عليه الصلاة والسلام "نعم الإدام الخل" فأما إذا خللها صاحبها بعلاج من خل أو ملحأو غيرهما، فالتخليل جائز، والخل حلال عندنا‘‘
یعنی: جب شراب اپنے آپ سر کہ بن جائے، تو اس کا پینا بالاتفاق حلال ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ سر کہ کیا ہی اچھا سالن ہے۔ اور بہرحال جب شراب کا مالک سر کہ یا نمک وغیرہ ڈال کر اس کو سر کہ بنائے، تو یوں سر کہ بنانا، جائز ہے اور وہ سر کہ ہمارے نزدیک حلال بھی ہے۔ (بدائع الصنائع، كتاب الاشربه، جلد 5، صفحه 113، دار الكتب العلمية، بيروت)
’’تبیین الحقائق‘‘ میں ہے:
’’حل خل الخمر ولا فرق في ذلك بين أن تكون تخللت هي أو خللت۔ولنا قوله عليه الصلاة والسلام" نعم الإدام الخل" مطلقا فيتناول جميع صورها، ولأن بالتخليل إزالة الوصف المفسد وإثبات صفة الصلاح فيه، فإذا صارت هي خلا طهرت بالاستحالة‘‘
یعنی: شراب کا سر کہ حلال ہے، اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ شراب خود بخود سر کہ بنی یا اسے بنایا گیا۔ (دونوں قسم کا سر کہ حلال ہے) ہماری دلیل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ فرمان ہے کہ "سر کہ اچھا سالن ہے۔" یہ فرمان مطلق ہے، لہذا تمام صورتوں کو شامل ہو گا، نیز یہ وجہ بھی ہے کہ سرکہ بنانے میں فساد پیدا کرنے والی صفت ختم کر کے اچھی اور نفع بخش صفت پیدا کی جاتی ہے۔ پھر جب شراب سرکہ بن جائے، تو یہ پاک بھی ہو جائے گا حقیقت بدلنے کی وجہ ہے۔ (تبيين الحقائق، كتاب الاشربہ، جلد 6، صفحه 48، المطبعة الكبرى، بولاق)
فتاوی رضویہ شریف میں سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: ’’شراب میں نمک ملانے کو علماء نے باعث تخلیل و تحلیل فرمایا ہے کہ جب سر کہ ہو گئی حقیقت بدل گئ، ی حلت آگئی کہ اب وہ شراب ہی نہ رہی۔‘‘ (فتاوی رضویه، جلد 23، صفحه 505، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0338
تاریخ اجراء: 02ربیع الاول 1447 ھ/27اگست2025ء