logo logo
AI Search

مگر مچھ کی کھال سے بنی چیزیں استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مگر مچھ کی کھال سے بنی چیزیں استعمال کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مگر مچھ کی کھال سے بنی ہوئی چیزیں استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مگر مچھ کی کھال سے بنی جیکٹ وغیرہ چیزوں کا استعمال شرعاً گناہ نہیں، بلکہ جائز ہے، لیکن جیکٹ وغیرہ پہننے والی چیزوں کو پہننے میں استعمال کرنا، یا اوڑھنے اور بچھانے والی چیزوں کو اوڑھنے اور بچھانے میں استعمال کرنا، ناپسندیدہ عمل ہے کہ یہ درندہ ہے، اور درندوں کی کھال پہننے، اس پر سواری کرنے سے حدیثِ پاک میں ممانعت وارد ہوئی ہے، کہ اس سے غرور و تکبر پیدا ہوتا ہے، لہٰذا اس سے بچنا بہتر ہے۔

جواز کے حوالے سے وضاحت یہ ہے کہ:

اصول یہ ہے کہ خنزیر کے علاوہ ہر وہ جانور جو ذبح کے قابل ہو (خواہ حلال ہو یا حرام) جب اسے ذبح کرلیا جائے، تو اس کی کھال پاک ہوجاتی ہے، لہذا اس کو استعمال میں لانا بھی جائز ہے، اور اگر بغیر ذبح کیے مرجائے، تو اب دباغت کرنے (یعنی اس کی رطوبتوں کو ختم کر کے، اسے خشک کرنے) سے اس کی کھال پاک ہوجاتی ہے، لہذا دباغت کے بعد اسے استعمال میں لانا جائز ہے، اور موجودہ زمانے میں کسی بھی جانور کی کھال سے جو چیزیں تیار کی جاتی ہیں، اس کے پراسیس میں کھال کی دباغت کا عمل بھی شامل ہوتا ہے، یعنی کھال کی رطوبت اور اس کے ساتھ موجود گوشت اور چربی وغیرہ کو مکمل صاف کر لیا جاتا ہے۔

بخاری شریف میں ہے

عن ابن عباس رضي اللہ عنهما، قال: وجد النبي صلى اللہ عليه و سلم شاة ميتة، أعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، فقال النبي صلى اللہ عليه و سلم: هلا انتفعتم بجلدها؟ قالوا: إنها ميتة، قال: إنما حرم أكلها

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،فرماتےہیں کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ایک مردہ بکری کو دیکھا ،جوحضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کی لونڈی کو دی گئی تھی، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا: تم نے اس کی کھا ل سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ مردہ ہے، تو آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا: اس کا تو صرف کھانا حرام ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، صفحہ 277، حدیث: 1492، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے

من اللباس المعتاد: لبس الفرو، و لا بأس به من السباع كلها و غير ذلك من الميتة المدبوغة و المذكاة و دباغها ذكاتها

ترجمہ: عادتاً پہنے جانے والے لباس میں سے پوستین (چمڑے کا گرم کوٹ یا جیکٹ) بھی ہے اور تمام مذبوح درندوں کی کھال اور جس مردار درندے کی کھال کو دباغت دی گئی ہو، اس کی پوستین پہننے میں کوئی گناہ نہیں ہے اور کھال کو دباغت دینا ہی اس کی پاکی ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 9، صفحہ 580، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں: سوئر کےسِوا ہر جانور حلال ہو یا حرام جبکہ ذبح کے قابل ہو اور بسم اللہ کہہ کر ذبح کیا گیا، تو اس کا گوشت اور کھال پا ک ہے کہ نمازی کے پاس اگر وہ گوشت ہے یا اس کی کھال پر نماز پڑھی تو نماز ہوجائےگی، مگر حرام جانور ذبح سے حلال نہ ہوگا، حرام ہی رہےگا۔ سوئر کےسوا ہر مردارجانور کی کھال سکھانے سے پاک ہوجاتی ہے، خواہ اس کو کھاری نمک وغیرہ کسی دوا سے پکایا ہو یا فقط دھوپ یا ہوا میں سکھا لیا ہو اور اس کی تمام رطوبت فنا ہو کر بدبو جاتی رہی ہو کہ دونوں صورتوں میں پاک ہوجائے گی، اس پر نمازدرست ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 402، مکتبۃا لمدینہ، کراچی)

درندوں کی کھال کے استعمال کے متعلق جزئیات:

حدیثِ پاک میں ایسے لباس کی ممانعت کے متعلق ہے

نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن لبس جلود السباع و الركوب عليها

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایاہے۔ (مشکاۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 157، حدیث: 505، المکتب الاسلامی، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے

فإن لبس جلود السباع والركوب عليها من دأب الجبابرة و عمل المترفين فلا يليق بأهل الصلاح۔۔۔ و زاد ابن الملك و قال إن فيه تكبرا و زينة

ترجمہ: درندوں کی کھال پہننا، اس پر سوار ہو نا متکبرین کا طریقہ اور سرکشوں کا کام ہے، لہذا یہ نیک لوگوں کے لائق نہیں ہے اور ابن ملک نے زائد کیا کہ اس میں تکبر اور زینت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 2، صفحہ 468، مطبوعہ: بیروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے اسی حدیث پاک کے تحت فرمایا: (درندے کی کھال سے منع فرمایا) اس لیے نہیں کہ وہ نجس ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس سے تکبر و غرور پیدا ہوتا ہے اور یہ ممانعت تنزیہی ہے۔ درندوں کی کھال پر سوار ہونا، بیٹھنا، ان کی پوستین پہننا وغیر ہ سب مکروہ و تقویٰ کے خلا ف ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 331، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

شرح سنن ابی داؤد لابن ارسلان میں ہے

نهيه عليه الصلاة و السلام عن أكل كل ذي ناب من السباع، فهو عام بالنسبة إلى البري و البحري، فيدخل فيه التمساح

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں میں سے ہر نوکیلے دانت والے کو کھانے سے منع فرمایا، پس یہ ممانعت عام ہے بری اور بحری کی طرف نسبت کرتے ہوئے، لہذا اس میں مگرمچھ بھی شامل ہو گا۔ (شرح سنن ابی داؤد لابن ارسلان، جلد 1، صفحہ 605، دار الفلاح)

الذخیرۃ للقرافی میں ہے

او السباع کالتمساح

ترجمہ: یا درندے جیسا کہ مگرمچھ۔ (الذخیرۃ للقرافی، جلد 4، صفحہ 96، مطبوعہ: بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4725
تاریخ اجراء: 18شعبان المعظم1447ھ / 07فروری2026ء