logo logo
AI Search

کیا پالتو کبوتر کھانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پالتو کبوتروں کو کھانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

گھر میں پالے جانے والے کبوتروں کو ذبح کر کے کھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کبوتر سید ہوتے ہیں، اس لیے نہ انہیں ذبح کیا جائے گا، اور نہ ان کا گوشت کھایا جائے گا۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

کبوتر حلال پرندہ ہے، اس کو شرعی طریقے کے مطابق ذبح کر کے کھایا جاسکتا ہے۔ کبوتروں کو سید کہنا بالکل غلط ہے، ہمارے عرف میں سید ہونا نسب کا شرف ہے، اور یہ شرف بھی ہر انسان کو حاصل نہیں ہوتا، بلکہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کو ہی نصیب ہے، کوئی اور انسان بھی سید نہیں ہوسکتا، چہ جائیکہ کسی جانور پرندے کو سید کہا جائے، لہٰذا کبوتروں کو سید کہنا اور اس بنا پر انہیں ذبح کرنے یا ان کا گوشت کھانے سے منع کرنا شرعاً بالکل غلط اور بے اصل ہے۔

امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: سبطین کریمین (رضی اللہ تعالی عنھما) کی اولاد سید ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 361، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی عالمگیری میں ہے

و ما لا مخلب لہ من الطیر۔۔۔ کالحمام۔۔۔ حلال بالاجماع کذا فی البدائع

ترجمہ: اور جن پرندوں کے شکار کرنے والے پنجے نہیں ہوتے جیسا کہ کبوتر تو یہ بالاجماع حلال ہیں، اسی طرح بدائع میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 289، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4717
تاریخ اجراء: 19رجب المرجب1447ھ / 09 جنوری2026ء