logo logo
AI Search

نیا گھر بنانے پر چیزیں دریا میں ڈالنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نیا گھر بنانے پر کچھ نئی چیزیں دریا میں ڈالنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جو نیا گھر بناتا ہے وہ کچھ چیزیں نئی لے کردریا میں ڈالتا ہے، مثلا نیا تالا اور چابی، کچھ نئے برتن اور کچھ کرنسی دریا میں ڈالتا ہے اور ذہن یہ ہوتا ہے کہ یہ چیزیں حضرت خضر علیہ السلام کے پاس چلی جاتی ہیں، اور صدقہ ہوجاتی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شریعت کی رو سے ایسا کرنا، جائز ہے ؟

جواب

نیا گھر بنانے پر نئی اشیاء اور کرنسی کو دریا میں ڈال دینا، مال کو فضول اور غیر شرعی مقصد میں ضائع کرنا ہے، جو حرام ہے۔ یہ ہرگز صدقہ نہیں ہے بلکہ اسراف ہے۔ حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایصال ثواب کیلئے اگر کوئی چیز دینی ہے تو یہ اشیاء اور کرنسی کسی حاجت مند مسلمان شخص کو دیدی جائیں۔ اس طرح یہ صدقہ ہوجائے گا، پھر صدقے کا ثواب حضرت خضرعلی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔

:دریا میں مال پھینک دینا، مال ضائع کرنا ہی ہے۔ امام محمد بن محمد غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

فالاضاعة تفويت مال بلا فائدة يعتد بها كاحراق الثوب وتمزيقه وهدم البناء من غير غرض والقاء المال فی البحر وفی معناه صرف المال الى النائحة والمطرب وفی أنواع الفساد لأنها فوائد محرمة شرعا فصارت كالمعدومة

ترجمہ: مال کو ضائع کردینے سے مراد یہ ہے کہ کسی معتبرفائدے کے بغیر مال کو ہلاک کردینا۔ جیسے کپڑے کو جلا دینا اور پھاڑ دینا، بغیر کسی غرض کے عمارت کو گرا دینا، مال کو سمندر میں ڈال دینا، اسی معنی میں وہ مال بھی ہے جو ناچ گانے والوں پراور فساد کی صورتوں پر خرچ کیا جائے کیونکہ یہ ایسے فوائد ہیں جو شرعا حرام ہیں تو ان میں بھی فائدہ معدوم ہی شمار ہوگا۔ (احیاء علوم الدین جلد 4، صفحہ 655، مطبوعہ بیروت)

مال ضائع کرنا، جائز نہیں ہے۔ بخاری شریف میں ہے:

عن المغيرة بن شعبة قال: قال النبی صلى الله عليه وسلم: ان الله حرم عليكم عقوق الأمهات، ووأد البنات، ومنع وهات. وكره لكم قيل وقال، وكثرة السؤال، واضاعة المال

ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تم پر حرام کیا ہے والدہ کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، بخل سے اپنا مال روک کر دوسرے سے سوال کرنا۔ اور اللہ نے تمہارے لئے ناپسند فرمایا ہے قیل وقال کو، سوال کی کثرت کو اور مال کے ضائع کردینے کو۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر2408، صفحہ668، مطبوعہ بیروت)

:اضاعة المال“ کی شرح میں فیض القدیر میں ہے”

صرفه فی غير حله وبذله فی غير وجهه المأذون فيه شرعا أو تعريضه للفساد

ترجمہ: مال کو ضائع کرنا یہ ہے کہ اسے حرام میں خرچ کیا جائے یا کسی بھی ایسی صورت میں خرچ کیا جائے جس کی شرعا اجازت نہ ہو یا مال کو فساد پرپیش کیا جائے۔ (فیض القدیرجلد2، صفحہ 283، مطبوعہ بیروت)

حدیث کے ان الفاظ” اضاعة المال “ کی شرح میں اشعۃ اللمعات مترجم میں ہے: ”اس سے اسراف اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مال خرچ کرنا مراد ہے مثلا ایک آدمی تمام یا بعض مال کسی ایک کو دے دیتا ہے اور اہل حقوق محتاج رہتے ہیں یا مال پانی میں ڈال دیتا ہے یا آگ میں جلادیتا ہے یا فاسق وفاجر شخص کو دیتا ہے جو شریعت کے خلاف مال خرچ کردے گا۔“ (اشعۃ اللمعات جلد6، صفحہ115، مطبوعہ لاہور)

:مال میں اسراف و افساد، سب حرام ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب ”الکسب“ اورمبسوط للامام السرخسی میں ہے

واللفظ للمبسوط(وكل أحد منهی عن افساد الطعام، ومن الافساد الاسراف) وهذا لما روی أن النبی صلى الله عليه وسلم نهى عن القيل والقال وعن كثرة السؤال وعن إضاعة المال، وفی الافساد اضاعة المال ثم الحاصل أنه يحرم على المرء فيما اكتسبه من الحلال الافساد والسرف والخيلاء والتفاخر

ترجمہ: کھانے کو خراب کرنے کی ہرایک کو ممانعت ہے، خراب کرنے میں اسراف بھی شامل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیل و قال، سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے اور اسراف میں مال کو ضائع کرنا ہی پایا جاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کیلئے حرام ہے کہ وہ اپنے حلال مال کو خراب کرے یا اسراف کرے یا تکبروتفاخر میں استعمال کرے۔ (مبسوط للامام السرخسی جلد30، صفحہ 297، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی

مصدق:مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0186
تاریخ اجراء: 06رجب المرجب 1447 ھ/27دسمبر 2025 ء