logo logo
AI Search

مقدس اوراق کو جلانا جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مقدس اوراق کو جلانا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا مقدس اوراق کو جلا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا کریں جبکہ وہ بہت زیادہ ہو چکے ہوں؟

جواب

ایسے ناقابل استعمال اوراق جن پر کوئی قرآنی آیت یا حدیث لکھی ہو، یا اللہ پاک کا نام یا کسی فرشتے یا رسول کا نام لکھا ہو، اس کا جلانا ممنوع اور ناجائز ہے۔ ایسے اوراق کے متعلق بہتر یہ ہے کہ انہیں کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر ادب کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جائے، دفن کرتے وقت اس طرح انتظام کیا جائے کہ ان پر براہِ راست مٹی نہ پڑے، مثلاً لحد بنا دی جائے یا اوپر تختہ یا بورڈ وغیرہ رکھ کر پھر مٹی ڈالی جائے۔ اگر کسی وجہ سے دفن نہ کر سکتے ہوں تو انہیں دریا یا سمندر کے پانی میں کوئی وزنی چیز باندھ کر اس طرح ٹھنڈا کر دیا جائے کہ یہ اوراق پانی کی تہہ میں چلے جائیں اور پانی کے اوپر ظاہر ہو کر کناروں کی طرف نہ آ سکیں تاکہ بے حرمتی کا اندیشہ نہ رہے۔ البتہ اگر ایسے اوراق پر سے مذکورہ مقدس تحریر یعنی آیت، حدیث یا مقدس نام وغیرہ کو محو (Erase) کر دیا جائے تو پھر انہیں جلانے میں حرج نہیں۔

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں:

”الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن“

ترجمہ: وہ کتابیں جن سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے ان میں سے اللہ پاک، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کے نام مٹا دئیے جائیں اور باقی حصہ جلا دیا جائے، اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ انہیں اسی حالت میں جاری پانی کے اندر ڈال دیا جائے یا دفن کر دیا جائے، اور دفن کرنا بہتر ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، صفحہ 668،  دار الکتب العلمیة، بیروت)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) اس کے تحت لکھتے ہیں:

”والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ، يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ“

ترجمہ: اور دفن کرنا بہتر ہے، جیسا کہ انبیا اور اولیا کے معاملے میں (تدفین کا طریقہ ہی اختیار) کیا جاتا ہے جب وہ وصال فرما جائیں، اور اسی طرح تمام کتابوں کا حکم ہے جب وہ بوسیدہ ہو جائیں اور قابل انتفاع نہ رہیں، یعنی دفن کرنے کی صورت میں تعظیم میں کوئی خلل نہیں آتا؛ کیونکہ سب سے افضل لوگ(بھی) دفن کیے جاتے ہیں۔ اور ذخیرہ میں ہے: جب مصحف بوسیدہ ہو جائے اور اس سے پڑھنا ممکن نہ رہے تو اسے آگ میں جلایا نہیں جائے گا، اسی کی طرف امام محمد نے اشارہ کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں، اور اس کا دفن کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اور چاہیے کہ ایسے مصحف کو پاک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے لحد بنائی جائے؛ کیونکہ اگر سیدھا کھود کر دفن کیا جائے تو اس پر مٹی ڈالنے کی حاجت پڑے گی اور اس میں ایک طرح کی تحقیر (بے ادبی) ہے، مگر یہ کہ اس کے اوپر چھت بنا دی جائے، اور اگر چاہے تو اسے پانی سے دھو دے یا کسی ایسی پاک جگہ رکھ دے جہاں نہ محدث کا ہاتھ پہنچے، نہ گرد و غبار اور نہ گندگی پہنچے، (یہ سب) اللہ عزوجل کے کلام کی تعظیم کی خاطر ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، جلد 6، صفحہ 422،  دار الفکر، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”احراق مصحف بوسیدہ و غیر منتفع علما میں مختلف فیہ ہے، اور فتوی اس پر ہے کہ جائز نہیں، بلکہ ایسے مصاحف کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا چاہیے، یہاں مقصود حفظ مصحف ہے بے ادبی اور ضائع ہو جانے سے، اور یہ امر طریقۂ دفن میں کہ مختار علما ہے حاصل۔ البتہ قواعد بغدادی و ابجد اور سب کتب غیر منتفع بہا ما ورائے مصحف کریم کو جلا دینا بعد محو اسمائے باری عز اسمہٗ اور اسمائے رسل و ملائکہ صلی اﷲ تعالی علیہم وسلم اجمعین کے جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 338-339 ملخصاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”قرآن مجید پرانا بوسیدہ ہو گیا اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اوراق منتشر ہو کر ضائع ہوں گے، تو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کر دیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لحد بنائی جائے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے۔ مصحف شریف بوسیدہ ہو جائے تو اس کو جلایا نہ جائے۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 495، مکتبة المدینہ، کراچی)

امیر اہل سنت علامہ ابو بلال محمد الیاس عطار قادری حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ٹھنڈا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مقدس اوراق کم گہرے سمندر میں نہ ڈالے جائیں کہ عموماً بہ کر کنارے پر آ جاتے ہیں، بلکہ کسی تھیلی یا خالی بوری میں بھر کر اُس میں وزنی پتھر ڈال دیا جائے، نیز تھیلی یا بوری پر چند جگہ چیرے ضرور لگائے جائیں تا کہ اُس میں فوراً پانی بھر جائے اور وہ تہ میں چلی جائے؛ کہ پانی اندر نہ جانے کی صورت میں بعض اوقات میلوں تک تیرتی ہوئی کنارے پہنچ جاتی ہے (اور بے ادبی کا سبب بنتی ہے)۔“ (مقدس تحریرات کے ادب کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 19، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1070
تاریخ اجراء: 1 شعبان المعظم 1447ھ/21 جنوری 2026ء