بہن کے گھر سے کھانا اور بھائی کے گھر رات گزارنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بہن کے گھر سے کھانا کھانا اور بھائی کے گھر رات گزارنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سنا ہے کہ بندہ جب اپنی بہن کے گھر جائے تو وہاں سے کھانا نہ کھائے اور اپنے بھائی کے گھر جائے تو وہاں رات نہ گزارے، یہ جائز نہیں ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
جب تک ممانعت کی کوئی شرعی وجہ نہ ہو، اپنی بہن کے گھر سے کھانا اور پینا، اور اپنے بھائی کے گھر رات رہنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بلاوجہ شرعی، محض اپنی اٹکل سے کسی جائز چیز کو ناجائز کہنا بھی جائز نہیں ہے، کہ ناجائز وحرام وہی ہے، جسے اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم نے ناجائز و حرام فرمایا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے:
(لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآىٕكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ)
ترجمہ کنزالایمان: نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے گھر یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں یا اپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں۔ (القرآن، پارہ 18، سورۃ النور، آیت: 61)
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
(وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ- اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو، بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ (القرآن، پارہ 14، سورۃ النحل، آیت: 116)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”زمانہ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال، بعض چیزوں کو حرام کرلیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کردیا کرتے تھے، اس آیت میں اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ تعالی پر افترا فرمایا گیا اور افترا کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ بیشک جو اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔۔۔ آج کل بھی لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتادیتے ہیں جیسے میلا د شریف کی شیرینی، فاتحہ، گیارہویں، عرس وغیرہ ایصال ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعا حرام ہیں، اللہ تعالی پر افترا کرنا ہے۔“ (صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 397، 398، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے ”حرام وہ ہے جسے خدا اور رسول نے حرام فرمایا اور واجب وہ ہے جسے خدا اور رسول نے واجب کہا حکم دیا، لیکن وہ چیزیں جن کا نہ خدا اور رسول نے حکم دیا نہ منع کیا وہ سب جائز ہیں انہیں حرام کہنے والا خدا اور رسول پر افترا کرتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 135، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4664
تاریخ اجراء: 27 رجب المرجب1447ھ/17جنوری 2026ء