بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس ریسٹورنٹ میں شراب اور خنزیر سرو(serve) ہوتے ہیں ان میں کھانا کھانا جائز ہے؟ جبکہ ہم حلال چیز آرڈر کر کے کھائیں۔
پوچھی گئی صورت میں ایسے ریسٹورنٹ میں حلال چیز آرڈر کر کے کھانا جائز ہے جب تک کہ کھانے کی اس چیز یا اس کے بنانے میں یا برتنوں وغیرہ میں کسی نجاست کے لگے ہونے کا یقین نہ ہو اور حلال ہونے کے تقاضے بھی پورے ہوں۔ اگر معلوم ہے کہ جہاں حرام اور ناپاک چیزیں رکھتے اور بناتے ہیں اسی جگہ پر بغیر پاکی و صفائی کے حلال چیزیں بنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے حرام اور ناپاک چیزوں کے اجزا حلال کھانے میں بھی شامل ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وہاں کھانا جائز نہیں ہوگا لیکن یہ حرام ہونا اس صورت میں ہے کہ جب حلال و حرام کے آپس میں مل جانے کا التزام ہو کہ ضرور ایسا ہی طریقہ اختیار کرتے ہوں، اور اگر اس کا یقین نہیں بلکہ محض شبہ اگرچہ کافی زیادہ ہو تب بھی بچنا بہترتو ہے لیکن اگر کوئی کھائے تو گناہ نہیں۔
واضح رہے! اگر وہ جگہ خاص حرام چیز ہی کے لیے مشہور ہو یا پھر وہاں جانا انگشت نمائی اور بد گمانی کا سبب بنے تو ایسی جگہ کھانے سے مکمل اجتناب کیا جائے؛ کہ جو کام عام مسلمانوں کی نفرت کا باعث بنے وہ شرعاً منع ہوتا ہے۔
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:
”من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب“
ترجمہ: جس شخص کو اپنے برتن یا کپڑے یا بدن کے بارے میں شک ہو کہ اسے نجاست لگی ہے یا نہیں، تو وہ پاک ہے جب تک اسے (ناپاکی کا) یقین نہ ہو۔ اسی طرح کنوئیں، حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے گھڑوں کا حکم ہے حالانکہ ان سے چھوٹے، بڑے، مسلمان اور کافر سب پانی لیتے ہیں، اور اسی طرح جو چیزیں مشرک لوگ یا مسلمانوں میں سے بے علم لوگ بناتے ہیں، جیسے گھی، روٹی، کھانے اور کپڑے (ان کا بھی یہی حکم ہے کہ محض شک کی بنا پر یہ ناپاک نہیں)۔ (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الطهارة، جلد 1، صفحہ 151، دارالفکر، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے، جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے، محض شبہہ پر نجس و ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ ...ہاں اگر کچھ شبہہ ڈالنے والی خبریں سن کر احتیاط کرے تو بہتر...مگر ناجائز و ممنوع نہیں کہہ سکتے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 620 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”ثم قال في الذخيرة: ولا باس بطعام اليهود والنصارى كله من غير استثناء طعام دون طعام، اذا كان مباحا من الذبائح وغيرها، لقوله تعالى ﴿وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ من غير تفصيل في الاية بين الذبيحة وغيرها وبين اهل الحرب وغير اهل الحرب وبين بني اسرائيل كنصارى العرب، ولا باس بطعام المجوس كله الا الذبيحة ... وفي نصاب الاحتساب بعد نقل ما في الذخيرة بالاختصار قال العبد اصلحه الله تعالى: وما ابتلينا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الهنود على هذا الاحتمال تلويث اوانيهم وان نساءهم لا يتوقين عن السرقين وكذا ياكلون لحم ما قتلوه وذلك ميتة، فالاباحة فتوى والتحرز تقوى اھ ملخصا، اقول: واراد بالاباحة ما لا اثم فيه وبالتقوى الرعة فافهم“
ترجمہ: پھر الذخیرة میں فرمایا: یہود و نصاریٰ کے تمام کھانوں میں کوئی حرج نہیں، بغیر کسی کھانے کو دوسرے سے مستثنیٰ کرنے کے، بشرطیکہ وہ مباح ہو، ذبیحہ ہو یا اس کے علاوہ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے" یعنی آیت میں ذبیحہ و غیر ذبیحہ یا اہلِ حرب و غیر اہلِ حرب یا بنی اسرائیل اور عرب کے نصاری کے درمیان کوئی تقسیم (فرق کا ذکر) نہیں۔ اور مجوسیوں کے کھانوں میں بھی کوئی حرج نہیں، سوائے (ان کے ہاتھ کے) ذبیحہ کے۔ اور نصاب الاحتساب میں، الذخیرة کی عبارت مختصراً نقل کرنے کے بعد ہے: بندہ عرض کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرمائے، کہ ہم ہندوؤں سے گھی، سرکہ، دودھ، پنیر اور دیگر مائع چیزیں خریدنے میں مبتلا ہیں حالانکہ اس احتمال کے مطابق ان کے برتن (نجاست سے) ملوث ہو سکتے ہیں کہ ان کی عورتیں گوبر سے نہیں بچتیں، اسی طرح وہ اپنے مارے ہوئے جانور کا گوشت بھی کھاتے ہیں جو کہ مردار ہوتا ہے، پس فتوی کے اعتبار سے (ان کی مذکورہ اشیا خرید کر استعمال کرنے کا حکم) اباحت ہے اور تقوی کے اعتبار سے حکم احتراز ہے، الخ ملخصاً۔ میں کہتا ہوں: اباحت سے مراد یہ ہے کہ اس میں گناہ نہیں، اور تقویٰ سے مراد پرہیزگاری (شبہات سے بچنا) ہے، پس سمجھ لو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 501-505، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”بہت حدیثوں میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "ایاک وکل امر یعتذر منہ" ہر اس بات سے بچ جس میں عذر کرنا پڑے۔...اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم: "بشروا ولا تنفروا" رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ، بشارت دو اور وہ کام نہ کرو جس سے لوگوں کو نفرت پیدا ہو۔ اسے احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ پھر اس (کام) میں بلا وجہ شرعی فتح باب غیبت ہے اور غیبت حرام، فما ادی الیہ فلا اقل ان یکون مکروھا (تو جو اس تک پہنچائے وہ کم از کم مکروہ ضرور ہوگا)۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 318-319، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ”جو بات عام مسلمانوں کی نفرت کی موجب ہو شرعاً منع ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "بشروا ولاتنفروا ( خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔)" جس بات میں آدمی متہم ہو، مطعون ہو، انگشت نما ہو، شرعاً منع ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے حدیث ہے:
"من کان یؤمن باللہ والیوم الاخر فلا یقف مواقف التھم"
(جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمت کی جگہوں پر کھڑا نہ ہو۔ ) “ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 639، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1007
تاریخ اجراء: 19 جمادى الآخر 1447ھ/11 دسمبر 2025ء