logo logo
AI Search

رسول اللہ ﷺ کو نظم و نثر میں یا محمد کہہ کر پکارنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضورﷺ کو نثر و نظم وغیرہ میں نام پاک (یا محمد) سے پکارنا کب درست ہے اور کب نہیں ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نثر و نظم میں نام پاک سے پکارنا کیسا ہے؟ پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ دلائل الخیرات شریف میں الحزب الرابع فی یوم الخمیس ہے، جس میں ایک درود پاک ایسا ہے، جس کو تین بار دہرانا ہوتا ہے، لیکن اس میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نام پاک سے ندا کی گئی ہے۔ الفاظ کچھ یوں ہیں:

”اللھم صل علی سیدنا محمد صلوٰۃ تکرم بھا مثواہ و تشرف بھا عقبہ و تبلغ بھا یوم القیمۃ مناہ و رضاہ ،ھذہ الصلوٰۃ تعظیما لحقک یا سیدنا محمد ا“

تو کیااس درود پاک کو نام پاک کی ندا کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں ؟ یا اس میں تبدیلی کرنا ہوگی ؟ نیز وہ تبدیلی کیا ہونی چاہئے ؟ وہ بھی ارشاد فرمادیں۔ یونہی بعض نعتوں میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کے ساتھ ندا ہوتی ہے، جیسے یا محمد نور مجسم، دیکھنے کو یا محمد، وغیرہ تو ایسے اشعار پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یا ان میں بھی تبدیلی کرنا ہوگی ؟ میں نے ایک عالم صاحب کا بیان سنا جس میں انہوں نے فرمایا کہ نعتیہ اشعار میں یا محمد کہنا جائز ہے کہ یہاں مقام نعت و ثنا ہونے کی وجہ سے عامیانہ انداز باقی نہیں ہے، جبکہ ایک دوسرے عالم صاحب سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یا محمد نور مجسم ، یونہی دیکھنے کو یا محمد، وغیرہ کلام پڑھنا جائز نہیں ہے کہ نام پاک سے پکارنا بہر صورت ناجائز و گناہ ہے ۔ برائے مہربانی ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر تشفی بخش جواب عطا فرمائیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نام پاک سے پکارنا کب ممنوع ہے اور کب نہیں ؟

جواب

افضل الانبیاء، سیّد الرسل، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مراتبِ علیا اور شانِ رفیع کی تعظیم و تکریم کو شریعتِ مطہرہ نے پورے کمال کے ساتھ ملحوظ رکھا ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر ایمان کی جان اور اسلام کی روح ہے۔اسی بنا پر ہر موقع پر ادب و احترام کو ترجیح دی گئی، اور ہر معاملے میں تمام مخلوقات پر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فوقیت اور امتیاز کو برقرار رکھا گیا، چنانچہ خطاب و ندا کے موقع پر بھی اس امتیاز کو قائم رکھا گیا کہ جس طرح لوگ آپس میں ایک دوسرے کو محض نام لے کر پکارتے ہیں، ویسے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف نامِ مبارک سے پکارنا، جائز نہیں، کیونکہ صرف نام سے پکارنا ایک عامیانہ انداز ہے، جو تعظیم و تکریم کے خلاف ہے، اب چاہے اس طرح پکارنا نثر میں ہو یا نظم میں ،سب کا یہی حکم ہے ۔

ہاں! اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نظم و نثر میں نام پاک سے اس طرح ندا کی جائے کہ ساتھ میں چند تعظیم و تکریم والے کلمات بھی ہوں، جس سے پکارنے کا عامیانہ انداز باقی نہ رہے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اب یہ نہ تعظیم کے خلاف ہے، نہ ہی یہاں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز مفقود ہے، جیسے یوں ندا کرنا ”یا محمد رسول اللہ“ یہ جائز ہے کہ یہاں لفظ ”رسول اللہ“ قرینہ تعظیم موجود ہے۔ الغرض نام پاک سے جو ندا ممنوع ہے، وہ اس وقت ہے جب بے قرینہ تعظیم ہو، اگر وہاں قرینہ تعظیم الفاظ میں موجود ہو، تو اس ندا میں کوئی حرج نہیں۔ خیال رہے کہ الفاظ میں قرینہ تعظیم ہونے کی قید اس وجہ سے لگائی ہے کہ مقام کا تعظیم والا ہونا مفید نہیں، جیسے درود پاک مقام تعظیم ہے اور خاص مقام امتیاز ہے، لیکن اس کے باوجود علما ئےکرام نے صلی اللہ علیک یا محمد کہنا ممنوع قرار دیا کہ لفظ یا محمد کے ساتھ الفاظ میں قرینہ تعظیم موجود نہیں ۔

اب صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ دلائل الخیرات شریف کے حزب رابع والے درود پاک میں جو یا سیدنا محمدا کہہ کر ندا کی گئی ہے، یہ بالکل جائز ہے، اس کو بعینہ اسی طرح پڑھا جاسکتا ہے، کیونکہ یہاں محض نام پاک سے ندا نہیں ہے، جو ممنوع و خلاف تعظیم ہے، بلکہ ساتھ میں قرینہ تعظیم لفظ ”سیدنا “ موجود ہے۔ یونہی یا محمد نور مجسم کہنا بھی جائز ہے، کہ یہاں بھی قرینہ تعظیم لفظ ”نور مجسم“ موجود ہے، ہاں! سوال میں ذکر کردہ یہ جو مصرع ہے ”دیکھنے کو یا محمد“ یہ درست نہیں، کیونکہ یہاں صرف نام پاک سے ندا ہے اور الفاظ میں کوئی قرینہ تعظیم موجود نہیں ہے، لہٰذا اس طرح پڑھنے کی اجازت نہیں، اس میں مناسب تبدیلی کرنا ہوگی، جیسے یا محمد کی جگہ یا ممجد / یا حبیبی وغیرہ کوئی لفظ پڑھ لیا جائے ۔

مسئلہ کے جزئیات و دلائل ملاحظہ ہوں :

”یا محمد‘‘ کہہ کر پکارنے کی ممانعت سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾

ترجمہ کنز العرفان: ’’(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنا لو، جیسے تم میں سےکوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔‘‘ (القرآن، پارہ 18،سورۃ النور،آیت63) اس آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے:

’’معناه لا تدعوه باسمه، كما يدعو بعضكم بعضا يا محمد يا عبد اللہ، ولكن قولوا يا نبيّ اللہ يا رسول اللہ في لين وتواضع‘‘

ترجمہ: آیت کا معنی یہ ہے کہ تم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے نام سے نہ پکارو، جیسے تم میں سے کوئی کسی کو نام کے ساتھ پکارتے ہوئے کہتا ہے یا محمد، یا عبد اللہ، لیکن تم انہیں نرمی اور عاجزی سے یانبی اللہ، یارسول اللہ کہہ کر پکارو۔ (تفسیرالخازن، جلد3، صفحہ 307، دار الكتب العلميہ، بیروت)

المعتقد مع المعتمد اور فتاوی رضویہ میں ہے، واللفظ للرضویۃ: ”علماء تصریح فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نام لےکر ندا کرنی حرام ہے، بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا: اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہوجو خود نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمائی (ہو) جیسے دعائے ’’یَا مُحَمَّدُ اِنِّی تَوَجَّہْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ‘‘ تاہم اس کی جگہ یَارَسُوْلَ اللہْ، یَا نَبِیَّ اللہْ (کہنا) چاہیے، حالانکہ الفاظِ دعا میں حتی الوسع تغییر نہیں کی جاتی۔۔۔یہ مسئلہ مہمہ جس سے اکثر اہل زمانہ غافل ہیں،نہایت واجب الحفظ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 156، 158، رضا فاؤنڈیشن، لاھور) (المعتقد مع المعتمد المستند، ص 139، المجمع الاسلامی)

مقامِ تعظیم و امتیاز میں بھی صرف نام محمد سے ندا کی اجازت نہیں، فتاوٰی حافظ ملت میں ہے :”یعنی حضور کو نام لے کر نہ پکارو، بلکہ کمال ادب سے آپ کے اوصاف کے ساتھ یاد کرو یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہو، تاکہ پورا امتیاز باقی رہے، صلی اللہ علیک یا محمد میں اگرچہ درود شریف کی وجہ سے امتیاز ہے لیکن حضور کے نام کے ساتھ ندا ہے جس کی ممانعت آیت و تفسیر سے ظاہر ہوچکی۔ لہذا درود شریف بصیغۂ خطاب میں صلی اللہ علیک یا رسول اللہ پڑھنا چاہیے ۔“ (فتاوٰی حافظ ملت ،ج 01، ص 7، مجلس فقھی)

فتاوٰی شارح بخاری میں ہے : ”یہ درود شریف کا صیغہ صلی اللہ علیک یا محمد قابل اعتراض ہے، نام نامی لے کر پکارنا، جائز نہیں ۔“ (فتاوٰی شارح بخاری، ج 01،ص 290، دار اھلسنت)

خاص نعتیہ اشعار میں نام پاک سے ندا کے متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے : ”نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’یا محمد‘‘ کہہ کر پکارنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا اگر کسی نعت وغیرہ میں اس طرح لکھا ہوا ملے، تو اسے تبدیل کردینا چاہیے۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 06،ص 674،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوٰی شارح بخاری میں ایک شعر (یا محمد کرم ہو تمہارا ۔۔لے لو سلام اب ہمارا ) کے متعلق سوال کیا گیا، تو جوابا ً ارشاد فرمایا : ”حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر پکارنا منع ہے۔ اس لئے اس سلام کا پہلا مصرعہ اس طرح پڑھنا جائز نہیں، نام نامی کی جگہ اور کوئی صیغہ تعظیم کے ساتھ اس کو بدل دیا جائے۔“ (فتاوٰی شارح بخاری، ج 01، ص 288، دار اھلسنت)

تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال کیاگیا کہ نعت شریف میں یا محمد کہنا کیسا ہے، جیسے اس مصرع میں ہے : میرے لب پہ یا محمد یہی بات دائمی ہے ؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: ”صحیح یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مجرد نام سے پکارنا، ناجائز ہے۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، ج01،ص 262،شبیر برادرز )

اس ممانعت كی وجہ یہی ہے کہ محض نام سے پکارنا خلاف تعظیم ہے، جبکہ آیت مذکورہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام رفیع کی وجہ سے مؤدبانہ خطاب کا حکم دیا گیا ہے، امام ابو العباس القرطبی علیہ الرحمۃ ’’المفہم‘‘ میں لکھتے ہیں :

”لم يكن أحد من الصحابة يجترئ أن يناديه باسمه؛ إذ الاسم لا توقير بالنداء به“

ترجمہ: صحابہ کرام میں سے کوئی بھی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام سے پکارنے کی جرأت نہیں کرتا تھا، کیونکہ صرف نام سے پکارنے میں تعظیم و توقیر مفقود ہے۔ (المفھم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم ، ج 05، ص 456، دار ابن کثیر)

امام ابن حجر ہیتمی شافعی علیہ الرحمۃ ’’الدر المنضود‘‘ میں لکھتے ہیں :

”قد صرح أئمتنا بحرمة ذلك(ای ندائه صلی اللہ علیہ وسلم باسمه)؛ لما فيه من ترك التعظيم۔۔قوله تعالى: لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا۔۔ وإنما ينادى بنحو: (يا نبي اللہ)وقال قتادة: (أمر اللہ سبحانه وتعالى أن يهاب نبيه صلی اللہ علیہ وسلم، وأن يبجل، وأن يعظم، وأن يسود)وقال مالك عن زيد بن أسلم: (أمرهم أن يشرفوه)“

ترجمہ: ہمارے ائمہ نے واضح طور پر اس بات کی حرمت بیان فرمائی ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر پکارنے کی حرمت، کیونکہ اس میں تعظیم چھوڑنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:تم رسول کے پکارنے کو اپنے آپس کے پکارنے جیسا نہ بناؤ، بلکہ یوں کہا جائے گا یا نبیَّ اللہ، یا رسولَ اللہ وغیرہ۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیبت رکھی جائے، ان کی تعظیم کی جائے، ان کی توقیر کی جائے اور انہیں سردار اور آقا مانا جائے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے زید بن اسلم علیہ الرحمۃ سے روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند مرتبہ اور شرف والا سمجھیں۔ (الدر المنضود في الصلاة والسلام على صاحب المقام المحمود ،ص 227،دار المنهاج ، جدة)

چونکہ ممانعت کی علت خلاف تعظیم ہونا ہے، اس لئے تفاسیر وغیرہ میں خاص نام سے پکارنے کی ممانعت کا محل یہی متعین کیا گیا کہ ساتھ میں نبوت و رسالت یا دیگر اوصاف ِ کمال کا ذکر نہ ہو، چنانچہ درج الدرر فی تفسیر الآی و السور للعلامۃ عبد القاھر الجرجانی المتوفی 471ھ میں ہے:

﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾ قيل:هو التصريح بمجرد اسمه من غير ذكر الرسالة والنبوة“

ترجمہ: تم رسول کے پکارنے کو اپنے آپس کے پکارنے جیسا نہ بناؤ، کہاگیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو آپ کے رسالت و نبوت وغیرہ اوصاف کے بغیر محض نام سے پکارا جائے ۔ (درج الدرر فی تفسیر الآی و السور، ج 03، ص 1300، الناشر مجلة الحكمہ، بريطانيا)

تفسیر صاوی میں ہے:

”واستفید من الآیۃ أنہ لا یجوز نداء النبی بغیر مایفید التعظیم لا فی حیاتہ ولا بعد وفاتہ“

ترجمہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی انہیں ایسے الفاظ کے ساتھ نِدا کرنا، جائز نہیں جن میں ادب و تعظیم نہ ہو۔ (حاشیۃ الصاوی، ج 03، ص 54، مطبع دارالکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوٰی شارح بخاری میں ندائے یا محمد کی ممانعت کے متعلق ہے: ”حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسم ذات کے ساتھ ندا کرنا، جائز نہیں، نام یا کنیت یا ایسے خطاب جو تعظیم پر دلالت نہیں کرتے جیسے عبد اللہ وغیرہ کے ساتھ ندا کی ممانعت کا حاصل صرف یہ ہے کہ پکارتے وقت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلال کا خیال رہے، جس لفظ سے پکارو وہ عظمت پر دلالت کرے ، اس سے توقیر شان ظاہر ہو ۔“ (فتاوی شارح بخاری ، ج01،ص 291،دار اھل سنت)

لہٰذا اگر نام کے ساتھ القاب و تعظیم والے کلمات موجود ہوں، تو اب حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو نام سے پکارنے میں حرج نہیں کہ اب یہ مجرد نام سے پکارنا نہیں جو خلاف تعظیم ہے، فتاوٰی تاج الشریعہ میں سوال کیا گیا کہ آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو (یا محمد رسول اللہ) کہہ کر پکارنا کیسا ہے ؟ ‘‘ تو جوابا ًتاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا : ”حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو خالی نام سے بے قرینہ تعظیم یاد کرنا منع ہے، لہٰذا یا محمد کہنا ناجائز ہے کہ خالی نام سے ندا ہے، جو قرینہ تعظیم سے خالی ہے اور یا محمد رسول اللہ کہنا روا کہ تعظیم کا قرینہ موجود ۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، ج04،ص 324،شبیر برادرز )

اسی میں ایک دوسرے مقام پر ہے: ”فی الواقع صحیح مذہب پر حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو محض نام اقدس کے ساتھ ندا کرنا ناجائز ہے، اور ا گر تعظیم و تبجیل کے کلمات سے مقرون ہے، تو بے شک جائز ہے کہ حضور کو ادب و تعظیم کے ساتھ نام لے کر پکارا جائے۔ ناجائز تو یہ ہے کہ بے اظہار تعظیم محض نام اقدس سے ندا کریں، کما صرح بہ فی الفتاوی الخیریۃ۔“ (فتاوی تاج الشریعہ، ج09،ص 45،شبیر برادرز )

اس جزئیہ میں فتاوی خیریہ سے مراد غالباً مشہور شافعی فقیہ حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حمزہ رملی المتوفی 957ھ کے فتاوی ہیں، کیونکہ یہ مسئلہ ان کے فتاوٰی میں بعینہ اسی طرح موجود ہے۔ چنانچہ فتاوی رملی میں ہے:

”(سئل) عن حرمة ندائه – صلی اللہ علیہ وسلم- باسمه هل هي خاصة بزمنه أم عامة وإذا قلتم عامة فهل محلها إذا تجرد عن قرينة تقتضي التعظيم أما إذا وجدت قرينة تقتضيه فلا؟ (فأجاب) بأنها عامة ومحلها حيث لا يقترن به قرينة تقتضي التعظيم فإن وجدت كما في السؤال فلا وإطلاقهم محمول على عدم القرينة المذكورة“

ترجمہ: ان سے یہ سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر پکارنے کی حرمت کیا صرف آپ کے زمانے کے ساتھ خاص ہے یا عام ہے؟ اور اگر آپ کہیں کہ یہ حکم عام ہے، تو کیا یہ حرمت اس صورت میں ہے، جب نام لینے کے ساتھ تعظیم پر دلالت کرنے والا کوئی قرینہ موجود نہ ہو؟ اور اگر تعظیم پر دلالت کرنے والا کوئی قرینہ موجود ہو، تو پھر حرمت نہ ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ حکم عام ہے، اور اس کی حرمت اسی صورت میں ہے جب نام لینے کے ساتھ تعظیم پر دلالت کرنے والا کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔ اور اگر تعظیم پر دلالت کرنے والا قرینہ موجود ہو، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو پھر حرمت نہیں۔ اور اس مسئلے میں اہلِ علم کے مطلقا ً منع کرنے کو بھی اسی صورت پر محمول کیا جائے گا، جہاں مذکورہ قرینہ موجود نہ ہو۔ (فتاوی الرملی ، ج03،ص 148،الناشر: المكتبة الإسلاميہ)

یونہی شیخ الاسلام امام ابو یحیی زکریا انصاری علیہ الرحمۃ کی کتاب ’’اسنی المطالب فی روضۃ الطالب‘‘ پر امام مذکور شہاب الدین رملی شافعی علیہ الرحمۃ کا حاشیہ ہے، اس میں بھی آپ علیہ الرحمۃ نے یہی کلام مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے ۔’’حاشیۃ اسنی المطالب‘‘ میں قرینہ تعظیم موجود ہونے کی صورت میں جواز کو بیان کرکے اس کی علت کچھ یوں بیان کی:

”إنهم عللوا تحريم ندائه المذكور بقوله تعالى: ﴿لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾وبما فيه من ترك تعظيمه وكل من العلتين منتف في مسألتنا والقاعدة أن الحكم يدور مع علته وجودا وعدما“

ترجمہ:علماء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مذکورہ انداز یعنی نام سے پکارنے کی حرمت کی علت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو قرار دیا ہے:

﴿لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾

اور اس بات کو بھی کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم چھوڑنا پایا جاتا ہے، جبکہ ہمارے اس مسئلے میں یہ دونوں علتیں موجود نہیں ہیں، اور اصول یہ ہے کہ حکم اپنی علت کے ساتھ وجوداً و عدماً گھومتا ہے (یعنی علت ہو تو حکم ہوگا، اور علت نہ ہو تو حکم بھی نہیں ہوگا)۔ (حاشیۃ اسنی المطالب فی روضۃ الطالب، ج 03، ص 104، دار الکتاب الاسلامی)

دلائل الخیرات شریف کی مشہور زمانہ شرح ’’مطالع المسرات‘‘ للامام محمد المہدی الفاسی المتوفی 1052ھ میں خاص اسی درود پاک کے متعلق ہے: ”ھذا نداء لہ صلی اللہ علیہ وسلم باسمہ مقرونا بالتعظیم“ ترجمہ: یہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام پاک سے پکارنا تو ہے، لیکن تعظیم وتکریم کے کلمات کے ساتھ نہ کہ اس کے بغیر۔ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات ، ص306،دار الکتب العلمیہ،بیروت)

شرفِ ملت علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ نے ’’مطالع المسرات‘‘ کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے، اور اس پر ان کی کچھ تعلیقات بھی ہیں، ان کی اسی ’’مطالع المسرات‘‘ (مترجم) میں ہے: ”(یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کے ساتھ ندا ہے، لیکن یہ ندا تعظیم کے ساتھ ہے۔ فاسی) حضرت شارح اس سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنا ممنوع ہے، جیسا کہ مفسرین نے آیت کریمہ:

”﴿لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا﴾ (الآیۃ)

کی تفسیر میں بیان کیا ہے، تو اس جگہ نام لے کر ندا کیوں کی گئی ہے ؟ حضرت شارح نے فرمایا کہ اگر تعظیم و تکریم کے ساتھ ندا کی جائے تو نام لے کر ندا کرنے میں حرج نہیں ۔“ (مطالع المسرات مترجم ،521،522،نوریہ رضویہ پبلی کیشنز ،لاھور)

صاحب تفسیر الجمل علی الجلالین حضرت علامہ سلیمان بن عمر شافعی المتوفی 1204ھ نے بھی دلائل الخیرات کی ایک شرح لکھی ہے، جس کا نام ”المنح الإلہیات فی شرح دلائل الخیرات “ ہے۔ اس میں آپ علیہ الرحمۃ نے بھی بعینہ وہی کلام فرمایا ہے، جو کہ اوپر علامہ فاسی علیہ الرحمۃ کے حوالے سے ذکر کردیا گیا ہے۔ (المنح الإلھیات فی شرح دلائل الخیرات،المخطوط، ص 182)

شیخ عبد المعطی بن سالم السملاوی الأزہری المصری کی ’’تفریج الکرب و المہمات‘‘ میں ہے:

”ھذا نداء لا باس بہ لکونہ مقرون التعظیم فلا حرمۃ فیہ و لا کراھۃ“

ترجمہ: یہ ایک ایسی ندا ہے جس میں کوئی حرج نہیں،کیونکہ یہ تعظیم و تکریم سے مزین ہے ، تو اس میں کوئی حرمت و کراہت نہیں۔ (تفریج الکرب و المھمات بشرح دلائل الخیرات،المخطوط، ص 156)

شرح دلائل الخیرات للعلامۃ الشیخ عبد المجید الشرنوبی الا زہری میں ہے:

”و قد حکی عن الشیخ السنوسی ان المرۃ من ھذہ الصلاۃ تعدل الفا و آخرھا یا محمد و لا باس بھذا النداء فانہ مقرون بالتعظیم“

ترجمہ: اور شیخ سنوسی علیہ الرحمۃ سے حکایت کیا گیا ہے کہ اس درود کو ایک بار پڑھنا ایک ہزار درود پاک پڑھنے کے برابر ہے اور اس درود پاک کے آخر میں لفظ یا محمد ہے اور اس ندا میں کوئی حرج نہیں کہ یہاں یہ ندا تعظیمی کلمات سے مقرون ہے ۔ (شرح دلائل الخیرات للشرنوبی، ص 39، مکتبۃ الآداب)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0696
تاریخ اجراء: 25 جمادی الاخری 1447ھ/17دسمبر 2025 ء