logo logo
AI Search

بچوں کو تصویروں والا بابا سوٹ پہنانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تصویروں والے بابا سوٹ پہننے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بازار میں بچوں کے ایسے بابا سوٹ ملتے ہیں، جن پر ریچھ، بلی یا کارٹون کی تصویریں بنی ہوتی ہیں۔ کیا چھوٹے بچوں کو یہ پہنانا جائز ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر کپڑوں پر بنی ہوئی تصویرکسی جان دارکی حکایت کرتی ہو، محض فرضی تصویر نہ ہو (جیسے بس، درخت وغیرہ کا فرضی کارٹون ہوتا ہے، کہ بس یا درخت کے آگے آنکھیں لگا دیتے ہیں)، اوروہ تصویر اتنی بڑی ہو، کہ زمین پر رکھ کر، کھڑے ہو کر دیکھیں، تو چہرہ واضح ہو، یعنی چہرے کے اعضا کی تفصیل ظاہر ہو، تو ایسا لباس خود پہننا، یا بچوں کو پہنانا، جائز نہیں، ہاں! اگر کسی طرح اس کا چہرہ مٹادیا جائے، تو پھر اس کا پہننا، اور بچوں کو پہنانا بھی جائز ہوگا۔

اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، امام اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا، پہنانا یا بیچنا، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے، اس کے بعد اس کا پہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص 567، رضافاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5058
تاریخ اجراء: 16 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 02 جون 2026ء