logo logo
AI Search

عورتوں کا چراغاں دیکھنے کے لیے گھر سے بے پردہ نکلنا کیسا؟

عورتوں کا چراغاں دیکھنے کے لیے نکلنا کیسا؟

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

     کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر ہمارے گاؤں کی گلیوں اور بازاروں میں چراغاں کیاجاتاہے ، جس کودیکھنے کے لیے13اور14ربیع النورکو لوگ بازاروں اور گلیوں میں جمع ہوتے ہیں اور مردوعورتوں کاجمِ غفیر ہوتا ہے۔ اس جمِ غفیرمیں مردوعورتوں کااختلاط بھی ہوتاہے۔عورتوں میں بعض بے پردہ اوربعض باپردہ ہوتی ہیں ۔شرعی لحاظ سے یہ کیساہے؟اگردرست نہیں ہے، توعورتوں کو بھی ایسی سجاوٹ دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے،اس خواہش کوکیسے پوراکیاجائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

عورتوں کا چراغاں دیکھنے کے لیے گھرسے بے پردہ نکلنا ناجائزوحرام ہے اورچونکہ اس جمِ غفیرمیں مردوعورت کااختلاط بھی ہوتاہے ، لہٰذا باپردہ نکلنے کی بھی اجازت نہیں ہے اوراللہ اوراُس کے رسول نے ہمیں شریعت پرعمل کرنے کاحکم فرمایاہے،اپنی خواہش پرعمل کرنے کانہیں فرمایا،لہٰذاحکمِ شریعت پر عمل کرناچاہیے اورنفس کی جوخواہش شریعت کے خلاف ہو، اُس سے بچناچاہیے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪- وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-

ترجمۂ کنز الایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں، مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں، مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں، جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر، بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچّے ، جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار۔ (پ18، سورۃ النور،آیت31)

صدرالافاضل حضرت علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃاللہ الهادی

﴿وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ

کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’یعنی عورَتیں گھر کے اندر چلنے پھرنے میں بھی پاؤں اِس قَدَر آہِستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جَھنکار نہ سُنی جائے ۔ مسئلہ : اِسی لئے چاہئے کہ عورَتیں باجے دار جھانجھن نہ پہنیں ۔حدیث شریف میں ہے : ”اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس قوم کی دُعا نہیں قَبول فرماتا ، جن کی عورَتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔ “ اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زیور کی آوازعَدَمِ قَبولِ دُعا(یعنی دعاقَبول نہ ہونے ) کا سبب ہے ، تو خاص عورَت کی(اپنی)آواز(کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا)اور اس کی بے پردَگی کیسی موجِبِ غَضَبِ الہی(عزوجل)ہوگی؟پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔ ( تفسیر احمدی وغیرہ)“(تفسیرخزائن العرفان، سورۃ النور، ص 656، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ابوداؤدشریف میں ہے:

عن حمزۃ بن أبی أسید الأنصاری عن أبیہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: وھو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء فی الطریق فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للنساء :استأخرن فانہ لیس لکن أن تحققن الطریق علیکن بحافات الطریق فکانت المرأۃ تلتصق بالجدار حتی ان ثوبھا لیتعلق بالجدار من لصوقھا بہ 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابواُسید انصاری سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد سے نکل رہے تھے ، تو راستہ میں مرد عورتوں کے ساتھ خلط ملط ہوگئے ، تو عورتوں سے فرمایا :تم پیچھے رہو ، تمہیں یہ حق نہیں ، کیونکہ تمہارے لیے بیچ راستہ میں چلنا مناسب نہیں ،تم راستہ کے کنارے اختیار کرو ، پھرعورت دیواروں سے مل کر چلتی تھی حتی کہ اس کا کپڑا دیوار سے اُلجھتا تھا۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی مشی النساء مع الرجال، ج 4، ص369،مطبوعہ بیروت)

     امام اہلسنت مجدددین وملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ، ان میں سے کچھ کھلا ہو ، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم ہو یا عامی جوان ہویا بوڑھا۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج 22، ص240،رضا فاؤنڈیشن،لاهور)

مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین علیہ رحمۃ اللہ المبین فرماتے ہیں : ”بے حجابانہ طورپرعورتوں کا(گھرسے)نکلناناجائز وحرام ہے۔اوران کے لئے سخت وعید ہے۔“ (وقار الفتاوی، ج 3، ص 148،بزم وقارالدین،کراچی)

     امیراہلسنت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رضوی دامت برکاتہم العالیۃفرماتے ہیں :’’چَراغاں دیکھنے کے لیے عورتوں کااَجنبی مردوں میں بے پردہ نکلناحرام وشَرَمناک ، نیزباپردہ عورتوں کابھی مروَّجہ اندازمیں مردوں میں اختلاط(یعنی خَلط مَلط ہونا)انتہائی افسوس ناک ہے۔“(صبح بہاراں، ص 23، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری

فتویٰ نمبر: Lar-5426

تاریخ اجراء: 08 صفرالمظفر 1437ھ/ 21 نومبر 2015ء